- الإعلانات -

کیا قوموں کی ترقی کا معیار کھیل ہے ۔۔۔؟

آخر کار گزشتہ دِنوں لندن میں اوول کے میدان میں جنوبی ایشیا کے دوایٹمی ممالک پاک بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے ایک زبردست اور اپنی نوعیب کے عصاب شکن مقا بلے کے بعد ایٹمی مُلک پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے اپنی شا ندار بیٹنگ ،بولنگ ، فیلڈنگ کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے خطے کے دوسرے ایٹمی مُلک بھارت کی کرکٹ ٹیم کو عبرت نا ک شکست سے دوچارکردیاہے اور آج اِس طرح آئی سی سی چیمپینئز ٹرافی کا پاکستان بھی پہلی بارچیمپیئن بن گیا ہے،یہاں راقم الحرف کو یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہورہی ہے کہ پاکستان اور بھارت جنوبی ایشیا کے دوغریب ایٹمی ممالک ضرور ہیں مگر اِس کے عوام اپنے تمام بنیادی حقوق جیسے جدید تعلیم، بہترین علاج و معالج کے مراکز، دورِ جدید کی تمام بہترین سفری سہولیات اور صاف و شفاف پینے کے پانی اور خا لص خوراک سمیت اپنی ترقی و خوشحالی سے بھی محروم ہیں مگر یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ دونوں ممالک کے عوام اپنی تمام تر محرومیوں کے با وجود بھی اپنا مقابلہ دنیا کے ترقی یافتہ اور ایٹمی ممالک سے کرتے ہیں حالانکہ اِنہیں 21ویں صدی کے اپنے سے اعلیٰ ممالک کا مقا بلہ کرنے سے پہلے اپنا آج بہتر کرنا چا ہئے اور یہ اِسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اِن ممالک(پاکستان اور بھارت) میں تعلیم اور طب کے شعبوں کو کھیل اور دیگر شعبوں اورکاموں اور سرگرمیوں سے زیادہ اہمیت دی جا ئے گی تو ہوسکتا ہے کہ اِن ممالک کے عوام کی زبوحالی اور کسمپری کچھ کم اور ختم ہوسکے ورنہ ، کھیل اور کھیلوں کے عصاب شکن مقابلوں میں کبھی کسی کی فتح اور شکست کا عنصرکبھی بھی عوامی مسائل کے دیر پا حل میں معاون و مددگار ثابت نہیں ہوسکتے ہیں اور اِسی طرح پاک بھارت کرکٹ ڈپلومیسی کسی بھی حوالے سے دونوں ممالک کے عوام کے مسائل اور اِنہیں درپیش پریشا نیوں و مشکلات کے دیر پا حل کے لئے کسی بھی صورت مفید ثا بت نہیں ہوسکتی ہے بس ، ضرورت صرف اِس امر کی ہے کہ دونوں مما لک کے عیار و مکار حکمران و سیاستدان اور بعض ظاہر باطن اداروں کے سربراہاں اپنے اپنے ذاتی و سیاسی معاملات کو ایک طرف رکھیں اور اپنے عوام کے بنیادی حقوق دیں او ردیدہ دانستہ مسائل کے حل سے پہلو تہی کرنے سے گریز کریں تو پاک بھا رت بہت سے مسئلے مسائل خو د بخود حل ہوکر ختم بھی ہوجا ئیں گے ورنہ نہیں ہوسکیں گے ۔بہر کیف ،بے شک،آج لندن کے اوول کے میدان میں ملنے والی کا میا بی پرپوری پاکستانی کرکٹ ٹیم مبارک باد اور سرا ہے جا نے کے لائق ہے ، کیونکہ پاکستانی ٹیم کی اِس کا میا بی کے پس پردہ کسی ایک فرد کا ہاتھ نہیں بلکہ پوری پاکستانی کرکٹ ٹیم اِس مرتبہ خا لصتاََ یکدل اور یک جان ہو کرایک پاکستا نی ٹیم بن کر کھیلی ہے، تو تب کہیں جا کر اِسے اپنے بھارت جیسے پلے درجے کے سب بڑے حریفِ اعظم کو عبرت ناک شکست کا مزاح چکھانے میں کا میا بی حاصل ہوئی ہے جس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ آج ہماری پاکستانی کرکٹ ٹیم جس طرح متحد و منظم ہوکر اپنی فتح کے لئے کھیلی ہے اور کامیا بی سے ہمکنار ہوئی ہے تو اپنی موجودہ ٹیم کی کا میابی کو مثال بنا نے ہوئے ہمیں اور ہمارے حکمرانو، سیاستدانو اور بڑے چھوٹے اور توانا اور کمزور اداروں کے سربراہان کو بھی چاہئے کہ زندگی کے اور دیگر معاملات میں بھی یہ سب ایک پیچ اور ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجا ئیں اور اپنے کسی بھی دُشمن کو شکست دینے سمیت اپنے بہت سے سیاسی اور مذہبی تفریق اور آپس میں دوریاں پیدا کرنے والے اختلافات اور مسائل کے دیر پا حل کے لئے بھی باہم متحد ہومنظم ہوکر بیٹھ جا ئیں اور اپنے ہر قسم کے مسئلے اور مسائل کا دائمی حل نکالیں تویقینی طور پر ہما رے مُلک پاکستان سے سارے مسئلے ،مسائل بھی ختم ہوجا ئیں گے اور ہم ایک قوم بن کر اپنی اصل پہنچان کرانے میں کامیاب ہو جا ئیں آج جس طرح ہماری پاکستانی کرکٹ ٹیم نے یہ ثابت کردیاہے کہ خبردار ، کوئی اِسے اَب کچھ نہ کہے کیو نکہ اَب یہ ایک پاکستانی کرکٹ ٹیم بن کر اپنا آپ منوا نے میں کامیاب ہورہی ہے۔ بس میری پاکستانی قوم کو بھی اپنے ایسے ہی اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ کرنا چا ہئے جیسا کہ میری قوم کا ہر فرد اپنے تمام سیاسی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پاک بھارت کرکٹ کے کھیل میں صرف اور صرف ایک پاکستانی بن کر اپنی کرکٹ ٹیم کی کامیابی کیلئے اللہ کے حضور پیش ہوکر دُعاکرتا ہے اور پھر دنیا بھی دیکھتی ہے کہ سب کی دُعائیں قبول بھی ہوجاتی ہیں اور پاکستان بھارت کو اوول کے میدان میں عبرت ناک شکست سے بھی دوچارکردیتاہے ، اچھی بات ہے کہ لندن کے اوول کے میدان میں پاکستانی کرکٹ ٹیم ایک پاکستانی ٹیم بن کر کھیلی اور خوب کھیلی اور اِس سے بھی کسی کو اِنکار نہیں اَب ایسے ہمیشہ ایسا ہی اچھا اور شاندار کھیل کھیلنا بھی چا ہئے ،آج جس طرح پاکستانی قوم اپنی کرکٹ ٹیم کے ہیروز کو اپنے سروں پر اُٹھا رہی ہے اور آنکھوں اور کاندھوں پر بیٹھا رہی ہے تو کہیں کبھی خراب کھیل کا مظاہر ہ کرنے پر یہی پاکستانی قوم اِنہیں زمین پر پٹک بھی دے گی اَب یہ بات ہمارے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو ضرور سوچنا چا ہئے۔تاہم اِس سے پہلے یعنی کے جب بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے ہوم گراونڈ سمیت دنیا کے کسی بھی کرکٹ کے میدان میں بظاہر اپنے کھیل کا مظاہرہ کرنے کے لئے اُتری تو معاف کیجئے گا، اُس دوران اکثر ایسا ہی محسوس ہوتارہاکہ جیسے پاکستانی ٹیم کا ایک ایک رکن اپنے وطن کے بجا ئے اپنی ذات اور اپنے ذاتی بینک بیلنس کو پروان چڑھا نے کیلئے کھیل رہاہے اور کرکٹ کے کھیل سے اپنی ذات اور اپنی ذاتی مقاصد اور اپنے پرسنل مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھ کروہ سب کچھ کررہاہے جس وطن کی عظمت اور کا میا بی کا عنصر گم ہوگیاہے۔ مگر الحمدُ ا للہ ، اِس مرتبہ کسی ڈراور خوف کی وجہ سے پوری پاکستانی ٹیم صرف اور صرف پاکستانی ٹیم بن کر کھیلی ہے آج جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ لندن کے اوول کے میدان میں بھارت کو شکست کا منہ دیکھناپڑگیا ہے جس کے بعد نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں کہیں بھی جیسا بھی پاکستانی آباد ہے وہ اپنی پاکستانی ٹیم کی شاندار فتح کا جشن منا رہاہے اور اپنی محبِ وطن ٹیم کی شاندار فتح کو اپنے وطن کی کامیابی سے ہمکنار کئے جا نے کو اپنی خوش قسمتی سے تعبیر کررہاہے ۔جبکہ اُدھر سارے ہندوستان، بھارت اور انڈیا میں پاکستان کے ہاتھوں ہونے والی شرمناک شکست پر صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے، پاکستان کی تاریخی فتح سے حاسدانِ بھارت کے چہرے بتا رہے ہیں کہ جیسے اِن کے یہاں موت واقع ہوگئی ہے، پاکستان کی فتح پر پوراہندوستان آہو فغاں کے عالم میں مبتلاہے۔تاہم آج یہ ٹھیک ہے کہ پاکستان نے اوول کے میدان میں بھارت کو عبرت ناک شکست سے ہارا کر اِس کے غرور و تکبر کے تمام خودساختہ تراشے ہوئے بت پاش پاش کرکے رکھ دیئے ہیں اور بھارتی ٹیم کے پاکستان کے ہاتھوں کبھی نہ ہارنے والے گھمنڈ کو بُری طرح پیروں تلے رونڈالا ہے…!!آج اِن ساری باتوں کے باوجود پاک بھارت عوام کو ایک لمحے کیلئے اتنا ضرور سوچنا چا ہئے کہ اَزل سے دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے کی ترقی و خوشحا لی کی حقیقی ضا من تعلیم ہواکرتی ہے،مگر اِس حقیقت سے بھی کسی کو کبھی انکار نہیں رہاہے اور نہ آئندہ ہوگا کہ صحت مند معاشرے کے تندرست و توانا اِنسا نوں کی ذہنی و جسمانی نشونما او ر آبیاری کیلئے ہر زمانے کے کھیلوں کی سرگرمیا ں بھی اہمیت کی حامل ہیں مگر اِس بات پر بھی ہر زمانے کے دانشوراِس پر قوی متفق ہوئے ہیں کہ ہرزمانے کے اِنسانوں کو تعلیم کا حصول لازمی قرار دیاجا ئے اور جب تعلیم کا ذرائع پید ا ہوجا ئیں تو صحت مند اِنسانوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ متوازی طور پر کھیل کے مواقع بھی فراہم کرنے کی ذمہ دار ریاستی مشینری پر ہوتی ہے۔ کسی ریاستی حکمران کا کبھی یہ دعوی ٰ ہوا کہ اُس نے تعلیمی مراکز سے زیادہ اپنی ریاست میں کھیل کے میدان تعمیر کرائے ہیں تو پھر ایسی حکومت اور ایسے حکمران اور اِس کے وزرا ء کی ذہنی پستی کے سِوا اور کیا کہا جا سکتاہے ۔اگرچہ ایک زما نہ تھاکہ کہاجاتا تھاکہ ’’ کھیلو گے کودو گے ہوگے خراب، پڑھو گے لکھو گے بنو کے نواب‘‘ مگر ایسا لگتا ہے کہ جیسے اِس 21ویں صدی میں یہ سب کچھ یکدم الٹ ہو کررہ گیاہے، آج جو پڑھ لکھ گیاہے ، وہ ڈگری ہاتھ میں تھامے اپنی تعلیم اور اپنے معیار کے مطابق نوکری تلاش کرتا دردر کی خاک چھانتاپھر رہاہے، جبکہ آج جو کھیل رہاہے اور وہ بھی کھیلوں میں صرف کرکٹ کھیل رہاہے، اُس کے ہاتھ اِدھر اُدھر سے آتی جاتی دولت کی ریل پیل ہے، الغرض یہ کہ میری پوری پاکستانی قوم کرکٹ فوبیا میں مبتلاہوچکی ہے ،حد تو یہ ہے کہ حکومت بھی کرفیولگا کر کرکٹ کے میچوں کا اہتمام کررہی ہے، درسگاہوں میں سناٹوں کا راج ہے، کھیل کے میدان میں قوم کے معمارنوجوان کرکٹ کا بلا اُٹھا ئے ،کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں، تعلیم کو ایک طرف فضول سی شئے جان کر رکھ دیاگیاہے، ایسے میں سوالیہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ کیا اَزل سے کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا معیار کھیل رہاہے؟ یا تعلیم…؟اَب یہ آپ سوچ کر بتا ئیں اگر کھیل ہی سب کچھ ہے تو پھر ہمیں بحیثیت مسلمان ’’ اقراء‘‘ کا درس کیو ں دیا گیاہے۔؟