- الإعلانات -

عید سے پہلے عید

بھارتی میڈیا، سرکار اورہند وجنونی آئی سی سی چمپئن ٹرافی فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں شرمنا ک شکست کا سارا غصہ معصوم اور بے گناہ مسلمانوں اور کشمیریوں پر نکال رہے ہیں۔ اپنی ٹیم کی شکست انہیں ہضم نہیں ہورہی ۔بھارتی میڈیا کے عجیب و غریب اینکرزایسے گلے پھاڑرہے ہیں جیسے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کمنٹیٹرز ہوں۔ ان کا ہدف تنقید خاص طور پر میر واعظ عمر فاروق ہیں جنہوں نے پاکستان کی جیت پر اپنے ایک ٹویٹ میں پاکستان ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ’’ ہر طرف آتش بازی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ عید سے قبل عید آ گئی ہو۔‘‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی جیت پر پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری مقبوضہ وادی بھی’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی سنگینوں کے درمیان کشمیریوں نے آتش بازی کا بھرپور مظاہرہ کرکے مودی سرکار، بھارتی فوج اور میڈیا کے دلوں کو جلا کر رکھ دیا۔کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کی یہ خوشیاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو وہ ایسے سیخ پا ہوا کہ میچ پر پیشہ ورانہ تبصروں اور کوہلی الیون کی کلاس لینے کی بجائے ’’میر واعظ کی مبارکبادی ٹویٹ اور کشمیری عوام کے پٹاخے‘‘ ان کے دل و دماغ پر حاوی ہوگئے۔آپ کوئی بھی بھارتی چینل ٹیون کرلیجئے، آپ کوان کی سکرینوں پرپاکستان کی فتح پر کشمیری نوجوانوں کی خوشی منانے کی ویڈیوز پر دشنام طراز تبصرے دکھائی دیں گے۔ اینکرز اور’’تجزیہ نگار‘‘ مسلمانوں، کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف انتہائی زہریلی اور غیرشائستہ زبان اگلتے نظر آئیں گے۔ ’’یہ غدار ہیں… بھارت کی ہار پر خوشی منانے والے پھانسی کے لائق ہیں…. انہیں اتنی خوشی کیوں ہیں، یہ لوگ بھارتی پاسپورٹ پھاڑ کرپاکستان کیوں نہیں چلے جاتے… بھارت میں رہ کر بھارت کی کھا کر پاکستان سے نمک حلالی برداشت نہیں….وغیرہ وغیرہ‘‘۔اس طرح اوول میں بھارت کی اس شرمناک شکست نے ’’سیکولر‘‘ ، ’’روشن خیال‘‘ اور اسپورٹس مین شپ‘‘ کے تمام بھارتی دعوؤں کی بیک وقت قلعی دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔پاکستان تو اپنے قیام سے ہی بھارت کے اس اصلی چہرے سے خوب واقف ہے۔ 28مئی 1998ء کو ہم نے اس کے اسی رویے کے پس منظر میں جوہری دھماکے کرکے اس کی گیڈربھبکیوں کا منہ بند کیا تھا۔ تاہم کسی نہ کسی شکل میں اس کی مخاصمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی دھمکیاں اور پاکستان سے کرکٹ نہ کھیلنے کی روش اختیار کرکے مودی نے اپنی اسی مخاصمت کا اظہار کیا تھا۔ مگر مودی کی اس حسرت کو تعبیر نہ مل سکی۔ وہ پاکستان کو تنہا کرسکا نہ کرکٹ سے دور رہ سکا۔ قدرت نے آئی سی سی چمپئن ٹرافی کی صورت میں دونوں ٹیموں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا۔ پہلے میچ میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد جس طرح’’ باپ بیٹے ‘‘اور’’ موقع موقع‘‘ کی رٹ لگا کر پاکستانی شائقین کی دل آزادی کی کوشش کی گئی وہ سب کے سامنے ہے۔ اتنا غرور ، حد ہوگئی، مگر اللہ تعالیٰ کی ذات بڑی بے نیاز ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹورنامنٹ میں ایسے کم بیک کیا کہ بھارت سمیت پوری دنیا ششدر رہ گئی۔ موقع موقع کی رٹ لگانے والوں کے غرورخاک میں ملانے کے لئے ا للہ تعالیٰ نے پاکستان کو چن لیا۔ آج پورے بھارت میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ پاکستان کو انتہا پسند کہنے والے خود انتہاء پسندی کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ بھارتی عوام اپنے ٹی وی سیٹ توڑ رہے ہیں، ان کا میڈیا جس نے فائنل سے قبل بھارتی ٹیم کو ناقابل شکست قراردے کر ایک ہائپ پیدا کررکھی تھی اب اس شرمناک شکست کو کوئی اور ہی رخ دینے کی کوشش کررہا ہے۔ کوئی ستاروں کا کھیل تو کوئی بدشگونی قراردے رہاہے اور کوئی اس شکست کو سازش سے گردان رہا ہے۔ ایسی ایسی کہانیاں منظر عام پرلائی جارہی ہیں کہ جنہیں دیکھ سن کر بے ساختہ ہنسی نکل جاتی ہے۔اس طرح پاکستان کی اس فتح نے پاکستان کے لئے بہت سی کامیابیاں اور بھارت کے لئے بہت سی پشیمانیوں کا سامان کیا ہے۔ کشمیر میں پاکستان کی فتح پرپاکستان کے حق میں لگنے والے نعرے اور آتش بازی نے جہاں مودی سرکار اور بھارتی فوج کی بے بسی کا اظہار کیا ہے وہاں دنیا کو یہ بھی بتایا ہے کہ کشمیری عوام کی خواہشات کیا ہیں۔اسی طرح مختلف ریاستوں میں پاکستان کی جیت پر خوشی منانے پر گرفتاریاں اور ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات نے بھارت کے سیکولر چہرے کا پول تو کھولا ہی ہے ہے اس کی وہاں پائی جانے والی عدم برداشت اورریاستی انتہاء پسندی کو بھی اجاگر کردیا ہے۔ یقیناًدنیا نے بھارت اور ہندو جنونیت کے اصل چہرے کو دیکھ لیا ہے۔اپنی سیاست کے حوالے سے بھی ایک بات قارئین سے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جس طرح مودی نے پاک بھارت کھیلوں میں سیاست لے آئے ہیں اسی طرح عمران خان بھی پاکستان کے ہر قومی تہوار اور خوشی میں اپنی سیاست کو گھسیٹ کر بدمزگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اوول گراؤنڈ کے باہر گو نواز گو اور نجم سیٹھی سے بدتمیزی کے واقعات قابل مذمت ہیں۔ اس طرح کی روایات ہمیں تقسیم کرکے ہمارے اجتماعی قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ اس لئے ان سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔بہرحال پاکستان کرکٹ ٹیم نے چمپئن ٹرافی جیتنے کارنامہ انجام دے کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ کرکٹ پاکستان سے ختم کی جاسکتی ہے نہ اس کا مستقبل تاریک ہے۔ جس طرح یہ قوم نامساعد حالات میں اچانک ابھر آتی ہے اسی طرح ہماری کرکٹ بھی مشکلات اور سازشوں کی شکار بھنور میں پھنسی رہی مگرآج وہ چمپئنز کی چمپئن ہے۔جو کرکٹ کے حوالے سے اس کی زرخیزی اور سرسبزوشادابی کا واضح اظہار کررہی ہے۔اس میچ کے اور بھی بہت سے اسباق ہیں۔ ٹیم ورک اور اتحاد سے ہر پہاڑ سر کیا جاسکتاہے، کمزوری کو کامیابی میں بدلہ جاسکتا ہے، محنت کامیابی کی کنجی ہے اور نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، انہیں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرکے ہم کسی بھی میدان میں حیران کن کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔آخر میں تمام پاکستانیوں کو جیت کی خوشیاں مبارک۔ ہمارے قابل فخر کھلاڑیوں نے پاکستان کو جس طرح دنیائے کرکٹ میں سرفراز کیا ہے اور عید سے پہلے جو عید کروائی ہے اس پر پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔(ختم شد)