- الإعلانات -

بلدیاتی انتخابات کے نتائج کیا اندھیروں کاراستہ ہیں ؟

aisha-masood

 پاکستانی عوام کی زیادہ تعداد کی یہ عادت ہے کہ دن بھر کی مصروفیات کے بعد شام کے سرمگیں سائے کے بعد اور رات کے اندھیرے سے کچھ دیر قبل ٹی وی چینلز بدل بدل کر دیکھتے ہیں تاکہ کسی اہم خبر ‘ کسی اہم تبصرے یا تجزیے سے آگاہی حاصل کر سکیں۔ اس دوران کسی شخصیت کا کوئی نقطہ اہم ہو یا کوئی دلچسپ بحث مباحثہ ایسا ہو کہ جو معلومات میں اضافہ کررہا ہو تب لوگ اس چینل پر رک جاتے ہیں ورنہ چینل بدل بدل کر طبیعت پر ایک غبار چھانے لگتا ہے۔
بقول گلزار بخاری :
آنکھوں میں دھول جھونکتا پھرتا ہے شہر شہر
سر پر بٹھا لیا ہے ہوا نے غبار کو
اسی طرح ایک دن چینل بدلتے بدلتے میں رک گئی۔ کیونکہ آنے والے وقتوں کے لئے ایک ایسے خدشہ کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جو ملک کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ویسے تو ہم بے شمار خطروں میں گھرے ہوئے ہیں اور ان سے نبرد آزما بھی رستے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ بیرونی خطرات سے مقابلہ کرنے کےلئے پوری قوم کا متحد اور یکجا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اگر یہ یکجائی اور اتحاد نہ رہے تو پھر کچھ بھی باقی بچنے کا امکان بھی نہیں رہتا۔ جو شخصیت ایک اہم خدشہ کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے بارے میں ڈاکٹر مجید نظامی نے بھی ایک مرتبہ کہا تھا کہ وہ پاکستانیت اور نظریہ پاکستان پر یقین رکھنے والے محب وطن صحافی ہیں۔ معروف صحافی سردار خان نیازی اپنی گفتگو میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر توجہ مبذول کروا رہے تھے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ مسلم لیگ ”ن“ نے برتری حاصل کر لی یا پھر پیپلز پارٹی نے برتری حاصل کر لی بلکہ فرق اس بات سے پڑ سکتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی پنجاب میں ن لیگ اور سرحد میں پی ٹی آئی اور بلوچستان میں کوئی اور پارٹی جیت جائے تو ملکی یکجہتی کا کیا ہو گا اور مرکزی حکومت کا ”مرکز“ بنا کر تمام صوبوں میں کردارکیسے ادا ہو گا اور اپوزیشن کون ہو گا ؟مرکزی حکومت کمزور ہوگی اور صوبائی حکومتوں کا کمزور ہونا ملک کے لئے خطرناک بات ہے اس سے پاکستان کے اتحاد کو خطرات لاحق ہونگے۔
ملکی منظر نامے پر سیاسی پارٹیاں اور ان کے لیڈر کیا کردار ادا کر رہے ہیں کہیں وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کی حفاظت میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے کسی خطرناک ڈگر کی طرف نہیں چل پڑے اور شاید وہ اس خیال کو بھی ترک کر چکے ہیں کہ وہ پوری پاکستانی قوم کے لیڈر ہیں۔ کیا قائد اعظم نے یہ روش اپنائی تھی ؟ سردار خان نیازی ایک سینئر جرنلسٹ ہونے کی بنیاد پر تکرار کر رہے تھے کہ ہم اندھیروں کی طرف جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگلے الیکشن میں آج کے بلدیاتی انتخابات کے منظر کے بعد کیا دیکھنے کو ملے گا اور کون سے نتائج اگلے پانچ سالوں کے لئے سامنے آئیں گے ان پر سوچ بچار کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ جناب سردار خان نیازی نے بڑے اہم نکتہ پر انگلی اٹھا دی ہے۔ اب سیاستدانوں اور حکمرانوں کو سوچنا ہو گا کہ انہیں فقط اپنی اپنی بقاءکی جنگ کے لئے ملک کو صوبائیت کی ہوا میں نہیں دھکیل دینا ہے بلکہ انہیں اس ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ملک میں ”لیڈر شپ“ کی کمی ہے اور بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو انہیں کی طرف مڑ مڑ کر دیکھنا پڑتا ہے اور اگر وہ عمران کے پیچھے کسی تبدیلی کی طرف سے چل بھی پڑے تھے تو عمران بھی اقتدار کی خواہش میں بے تاب ہو گئے تھے اور پھر یہ اعلان بھی پبلک میں کر ڈالا تھا کہ جلدی سے نیا پاکستان بن جائے تاکہ وہ شادی کریں۔ خود شادی کا اعلان پبلک میں کرتے ہیں اور ج عوام میں سے کوئی ریحام خان کے بارے میں سوال پوچھے تو اس کی بے عزتی کرتے ہیں۔ لہذا عمران خان سے بھی عوام کو مایوسی ہوئی ہے مگر ایسے میں ان لیڈروں کو عقل اور ہوش مندی کی روش اختیار کرنا پڑے گی کیونکہ آرمی چیف راحیل شریف اس قوم کے ایسے ہیرو بن چکے ہیں جنہوں نے اس ملک کی حفاظت کا ایسا بیڑہ اٹھایا ہے کہ ہر دل میں بسنے لگے ہیں۔ جنرل راحیل شریف ایک مضبوط کردار اور شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان کے دور میں اور ان کی قیادت میں افواج نے بڑی مشکل جنگ لڑی ہے اور ملک کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا لیکن اگر حکمران اپنی سیاست کے انداز ایسے اختیار کریں گے کہ اپنے اپنے صوبے میں اپنی اپنی کرسی پکی کرنے کے چکر میں ملک کی مرکزی حکومت اور واضح اپوزیشن کے کردار کو دائو پر لگا کر ملک کو صوبائیت کی طرف دھکیل دیں گے تو اگلے پانچ برسوں میں پھر سے کہیں ایسی نوبت نہ آ جائے کہ فوج کو ملک بچانے کے لئے اقتدار کے ایوانوں تک نہ آنا پڑ جائے۔ ماضی میں جب بھی مارشل لاءلگایا گیا اس میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کے کردار کی کمزوریاں اور غلطیاں شامل تھیں۔ یہ علیحدہ بات کہ ڈکٹیٹرز کو واپس جانے کا دل نہیں چاہتا رہا۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے بعد سردار خان نیازی جیسے محب وطن سینئر صحافی نے اپنی دانش مندانہ اور دانش ورانہ رائے کا بروقت اور سچا اظہارکر دیا ہے۔ اب حکمرانوں ‘ سیاستدانوں اور پاکستانی عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم نے اندھیروں کا سفر اختیار کر لیا ہوا ہے ؟
ادائے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے
اپنا خیال رکھیئے گا۔
بشکریہ نوائے وقت