- الإعلانات -

سماجی، قانونی مسائل اور ہم

وطن عزیز میں عوام الناس کیلئے بے شمار مسائل ہیں ایک مسئلہ قدرے حل کے قریب ہوتا ہے تو کئی دیگر مسائل سینہ تانے کھڑے ہوجاتے ہیں کوئی ایسا شعبہ نہیں جہاں پرابلم نہ ہوں تعلیم کے مسائل صحت کے مسائل امن و امان کے مسائل کہیں بجلی نہیں تو کہیں پانی ندارد کہیں قانون کے ساتھ کھلواڑ سڑکیں ٹوٹی ہوئی گٹر ابل رہے ہیں نام کو مدرسہ ہے توچھت نہیں جہاں کہیں چھت ہے جانور بندھے ہیں یا کسی طاقتور کے گودام یا بیٹھک کے طور پر استعمال ہورہے ہیں کئی خستہ حال عمارتوں پر ہسپتال کی تہمت لگی ہوئی ہے ٹوٹے پھوٹے بیڈ جن پر 4 چار مریض ایک ساتھ لیٹے ہوئے ہیں اکثر ہسپتالوں کی ایکسرے مشینیں اور اسکینر یا تو خراب ہیں یا خراب کردئے گئے ہیں تاکہ مریض اور ان کے لواحقین باہر کی لیبارٹریوں سے رپورٹیں کروائیں جو عموما ہسپتال کے عملے کی ملکیت ہوتی ہیں ریل ہے تو وقت پر نہیں باکمال لوگوں کی ایئر لائن کہیں ہے کہ نہیں ہے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں کہیں منشیات برآمد ہو رہی ہیں جو دنیا بھر میں سبکی کا باعث ہیں چلتے جہاز اسکریپ سے بھی کم بھاؤ بیچ دئے جاتے ہیں ریلوں کا حال سب کے سامنے ہے نئے انجن بھی ہانپ کانپ کر کہیں نہ کہیں کھڑے ہو جاتے ہیں بیرون ملک ہونے والی خریداریوں میں شفافیت نہیں سی پیک بھی اب تک راز ہی ہے کوئی نہیں بتا رہا کہ اصل صورت حال کیا ہے پہلے مغربی روٹ بنے گا یا مشرقی روٹ ایران اور دیگر پڑوسی ہم سے شاکی ہیں وزارت خارجہ کہیں نہیں ہے جب وزیر خارجہ ہی نہیں تو کیسی وزارت خارجہ اور کہاں کی پالیسی کسی مناسب فورم پر ہماری جانب کوئی جواب نہیں جارہا کلبھوشن یادو پر وزارت خارجہ منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھی ہے انڈیا کے ساتھ ہمارا باہمی ایگریمنٹ تھا جو 2008 سے روبعمل ہے جس کی رو سے دونوں ممالک جاسوسی یا تخریب کاری میں ملوث لوگوں کو کونسلر رسائی نہیں دیں گے لیکن کلبھوشن یادو جیسے حاضر سروس اعلی افسر کی رنگے ہاتھوں گرفتاری دنیا میں ایک بہت منفرد مثال ہے آج تک کسی خفیہ مشن پر مامور اتنا بڑا افسر رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا گیا جب طے شدہ تھا کہ کونسلر رسائی نہین دی جائے گی تو اس کے کیس میں استثنی کا خط کیوں دیا گیا جس کی بنیاد پر انڈیا عالمی عدالت چلا گیا اور لگ رہا ہے کلبھوشن کو ہماری رضامندی سے عالمی عدالت سے بری کروا کر ہمارے منہ پر کالک پوت دی جائے گی حالانکہ اگر یہ شخص پاکستانی ہوتا تو انڈیا ہم پر بین الاقوامی پابندیاں لگوا چکا ہوتا ہماری وزارت خارجہ اس کیس سے بالکل ہی غیر متعلق لگ رہی ہے لگتا ہے کلبھوشن کا ہماری حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے کسی اور ملک نے اسے ٹمبکٹو سے مٹر گشتی کرتے پکڑلیا ہے جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں دوسری جانب ہمارے ہاں بعض عدالتی معاملات میں کئی قانونی سقم موجود ہیں جن سے اصل مجرم فائدہ حاصل لیتے ہیں چند روز قبل کوئٹہ میں ٹریفک سارجنٹ عنایت اللہ شہید جو ایک چوراہے پر کھڑا ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا اسے مین روڈ پر آنے والی ایک لینڈ کروزر کے ڈرائیور نے پوری رفتار سے ٹکر مار کر ہلاک کردیا ایف آئی آر نامعلوم شخص کے خلاف درج کرلی گئی حقائق سامنے آنے کے بعد پتہ چلا کہ ٹکر مارنے والا شخص بلوچستان صوبائی اسمبلی کا رکن عبدالمجید اچکزئی ہے اور بلوچستان کے اقتدار پر قابض ٹولے کا اہم رکن ہے چیف جسٹس پاکستان کے نوٹس لئے جانے کے بعد موصوف کو گرفتار تو کر لیا گیا لیکن لاک اپ میں ایرکولر فراہم کردیا گیا عدالت میں پیشی کے موقع پر ہتھکڑی نہیں لگائی گئی اب مرحوم کے ورثا پر صلح کے لئے اعلی ترین سطح پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے ضلع زیارت کے ڈی سی او خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں جو مظلوم خاندان سے زیادتی ہے قانون سازوں کو چاہئے کہ اس قانون مین میں مناسب ترامیم کی جائیں کہ قانون شکن شخص فرد کے ساتھ ریاست کا بھی مجرم ہے اگر لواحقین معاف بھی کردیں تو ریاست مجرم کو قانون کے مطابق سزا دے جیسا کہ دہشتگردی کی دفعات میں یہ شق رکھی گئی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاسکیں ایک اور حساس قانونی اور انسانی مسئلہ خواتین کی جانب سے خلع کا مقدمہ دائر کرنے سے متعلق ہے مقدمے کے اندراج کے بعد طویل عرصے تک یہ مقدمات چلتے رہتے ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف لاہور میں 700 سے زیادہ ایسے مقدمات زیر سماعت ہیں مقدمے کی صورت میں قانونا بچے والدہ کے حوالے کردئے جاتے ہیں اور والد کو ایک ماہ میں محض 2 گھنٹے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے وہ بھی احاطہ عدالت میں اگر باپ بچوں کو گھر لے جانا چاہتا ہے اسے عدالت میں لاکھوں روپے کی ضمانت جمع کروانی پڑتی ہے تاکہ والد بچوں کو لیکر کہیں رفو چکر نہ ہو جائے کیا ماں ایسا نہیں کر سکتی والد کے ساتھ دو گھنٹے اور باقی وقت ماں کے ساتھ حالانکہ بچوں کی تربیت کے لئے دونوں کا وقت دینا ضروری ہے کیا یہ سوچا گیا ہے کہ جب ماں کا باپ کے ساتھ اختلاف ہوگا تو ماں اس کے خاندان کی جانب سے بچے کو کیا سکھایا جائے گا دیکھا گیا ہے کہ ماں اور اس کے خاندان کے لوگ بچوں کے دل و دماغ میں دن رات نفرت بھرتے رہتے ہیں کہ دن کی بہترین خاتون تمہاری والدہ اور دنیا کا بدترین فرد تمہارا باپ کی ایسا کیا جانا قرین انصاف ہے جب بچے کے وقت کا 99% ماں اور اس کے خاندان کے ساتھ گزرے گا تو بچہ یکطرفہ تربیت سے کیا سیکھے گا کیا یہ انصاف کے اسلامی اصولوں کے مطابق ہے اس اہم مسئلہ پر قانون سازوں کو غور خوض اور مناسب قانون سازی کی بہت زیادہ ضرورت ہے اللہ ہمیں حق اور انصاف کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین۔
***