- الإعلانات -

بھارتی خواتین اور انکے مسائل

ہندوستانی حکمرانوں کا ہمیشہ سے دعویٰ رہا ہے کہ پسماندہ طبقات اور خواتین کے حقوق کی ہر ڈھنگ سے حفاظت کی گئی ہے دوسری جانب اگرچہ سبھی حلقوں نے اس بابت اتفاق ظاہرکیا کہ دہلی کے ان دعووں میں قطعاً کوئی حقیقت نہیں بلکہ اصل صورتحال اس سے بالکل متضاد ہے اور ہر شعبہ حیات میں انسانی حقوق کی جتنی پامالی بھارت میں ہو رہی ہے شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوئی ہو ۔ اس معاملے کی تازہ ترین دلیل کے طور پر خود بھارتی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خواتین میں بے روزگاری کی شرح ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس صورتحال کا جائز ہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی ادارے نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن کے مطابق بھارت میں خواتین ملازموں کی تعداد میں بہت تیزی سے کمی آ رہی ہے اور مجموعی طور پر کام کرنے والی عورتوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق 2004 سے 2012 کے درمیان بھارؤت میں دو کروڑ خواتین نے کام کرنا چھوڑا۔مزدوری کرنے والی خواتین کی اوسط 1993 اور 1994 میں 42 فیصد تھی جو کم ہو کر 2011 اور 2012 میں 31 فیصد رہ گئی ہے۔مجموعی تعداد میں 53 فیصد کمی ہوئی جن میں 15 سے 24 سال کی خواتین شامل ہیں ۔ دیہات کی خواتین مزدوروں کی تعداد بھی سنہ 2004 کے مقابلے میں سنہ 2010 میں 49 فیصد سے کم ہو کر 37.8 فیصد پر آ گئی ہے اور دو کروڑ 17 لاکھ خواتین بیروزگار ہو گئیں ۔ اس سے مذکورہ معاملے کی سنگینی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں یہ امر اپنے آپ میں ایک اہمیت کا حامل ہے کہ پچھلے چند ہفتوں میں ہندوستانی خواتین کے جسمانی استحصال میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے تبھی تو تازہ ترین واقعات کے مطابق یکم ستمبر 2016 کو بھارتی صوبے ہریانہ کے میوات ضلعے کے ڈینگر ہیڑی گاؤں میں دو مسلمان خواتین کے ساتھ اجتماعی بے حرمتی کا سانحہ پیش آیااور اس معاملے کا مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مجرموں کو بغیر کسی سزا کے رہا کر دیا گیا ۔ اس کے بعد نو ستمبر 2016 کو بھارتی ریاست گجرات میں ، 20 فروری 2017کو ریاست کیرالہ میں ، پھر 14 مارچ 2017 کو راجدھانی دہلی میں سیاحت کی غرض سے بھارت آئی ایک نیپالی خاتون کے ساتھ ، علاوہ ازیں 20 مئی کو کیرالہ میں ایک 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اور 25 مئی 2017کو دہلی میں چار خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کا سانحہ پیش آیا ۔ اوراس قسم کے واقعات بھارتی معاشرے میں سکہ رائج الوقت بن چکے ہیں ۔ اس صورتحال سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ بھارتی سوسائٹی آنے والے دنوں میں کس قسم کے اخلاقی بحران کا شکار ہونے والی ہے ۔