- الإعلانات -

بھارتی کسانوں میں خودکشیوں کا بڑھتا ہوا رجحان؟

nasir-raza-kazmi

بھارت دنیا میں مہلک سے مہلک اور جدید سے جدید اسلحہ کی خریداری میں پہلے نمبر پر ‘لیکن اپنے عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں دنیا کی سب سے نچلی سطح پر کیوں گنا جارہا ہے اِس کی کئی توجیحات ہیں، مختلف النوع کئی جہات ہیں کن کن کا یہاں پر تذکرہ کریں کالم کی تنگی نے قلم کا دامن پکڑ ا ہوا ہے بھارت کے پڑوس میں کون سا ایسا ملک ہے جسکی بھارت کے ساتھ سرحدی چپقلش نہیں ‘ نیپال ‘ بنگلہ دیش ،خصوصاً پاکستان اور چین ہر کسی چھوٹے بڑے ایٹمی غیر ایٹمی پڑوسی ملک کے ساتھ بھارت نے زبردستی کے گنجلک نوعیت کے انتہائی پیچیدہ جھگڑے مول لے رکھے ہیں اگر اُسے کوئی فکر وتشویش نہیں ہے تو وہ ہے بھارتی عوام کی آئے روز کی بڑھتی ہوئی اور سطح ِ غریب کا گراف بڑھتا جارہا ہے آجکل بھارت میں تیزی سے فروغ پانے والا ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ دیش میں کسانوں کی خودکشیوں کی تعداد میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے نئی دہلی کی مودی انتظامیہ کو نجانے اِس کی کوئی فکر ہے یا نہیں مگر دنیا کے با وثوق ومعتبر میڈیا کی خبروں کے مطابق گزشتہ دوڈھائی برسوں میں اب تک بھارت میں تقریباً پندرہ سو کسانوں نے صرف اِس وجوہ کی بناءپر اپنے آپ کو موت کی بانہوں میں دیدیا چونکہ اُن کے پاس حکومت سے لیئے گئے زرعی قرضہ وقت پر واپس کرنے کے لئے ایک ’پائی ‘ باقی نہیں بچی تھی کہیں بارش نے اُن کی کپاس کی فضل تباہ کی تو کہیں اُنہیں سرکاری محکموں کے ٹھیکیداروں نے نقلی ‘ جعلی کیڑے مار ادوایات فراہم کیں جن کے اسپرے کی وجہ سے اُن کی گندم اور چاول کی فصلیں بار آور ثابت نہیں ہوسکیں یہ سچی کہانی مہاراشٹر کے ایک گاو¿ں کے کسان’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ کے لواحقین نے میڈیا کو سنائی ہے ’ اُس نے خود ہی سرکاری قرضہ کی پہلی قسط کی ادائیگی کے لئے روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے زہر پینا گوارا کرلیا ’ رام راو¿ نارائن پنچ لینیوار‘ نامی یہ کسی ایک کسان کی داستان نہیں ہے یہ سن کر پاکستان میں ”بھارت کی مالا جپنے والے حلقوں“ کے لئے یقینا ایک ’معلوماتی خبر ‘ ہوگی کہ بھارت دنیا کا وہ ملک ہے جہاں پر کسانوں کو جو زرعی قرضہ اگر کہیں ملتا بھی ہے تو اُس کی واپسی تین گنا زیادہ کرنی ہوتی ہے اور مدت ابھی اِتنی کم کہ اگلی کاشت کرنے کے لئے ’قرض‘ کے حصول کی خاطر وہ پھر ریاست کی طرف د یکھنے لگتا ہے بھارتی کسانوں کی مجبوراً خودکشیوں کا ریکارڈز نئی دہلی کی نریندر مودی انتظامیہ کی نااہلیت کو جانچنے کے لئے بھارتی نیشنل کرائم بیورزکی ویب سائٹ کاوزٹ کرنے والے کہتے ہیں’ ماضی قریب میں تباہ کن بارشوں ‘ سیلاب یا ژالہ باریوں سے فصلوں کی تباہی کے بعد کسانوں پر شائد ہی کبھی بھارتی سرکار نے سرکاری مالیہ معاف کیا ہو ؟موسموں کی طوفانی شدتیں نہ بڑے کسانوں کو چھوڑتی ہیں نہ یا ہی چھوٹے کسان بچ پاتے ہیں بڑے بڑے جاگیرداروں کے زرعی نقصان کی کیا اہمیت ہوگی ؟ انسانی فطرت کی خاصہ یہ ہے آفات سماوی ہوں یا زمینی ہمیشہ ایسی آفات چھوٹے محنت کش اپنے ہاتھوں سے اپنی زمینوں کو سینچنے والوں پر قیامت بن کر ٹوٹتے ہیں اگر اتفاقاً کہیں آبرسیں تو سب سے زیادہ نقصان چھوٹے کسانوں کا ہی تو ہوتا ہے بھارت کا چھوٹا کسان ویسے بھی چھوٹا اور پھر ذات پات میں بھی چھوٹا ‘ شائد یہ وہ وجوہات ہوں کہ اُن پر سماوی آفات کی مصیبتوں اور زمینی ذات پات کی نفرتوں کا سار ا عذاب بوجھ بن جاتا ہے جبکہ نئی دہلی سرکار کے زیادہ قریب کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مالی بلکہ نہ صرف اور مراعات بھی دیدی جاتی ہیںاُن کے کروڑوں کے زرعی و صنعتی قرضے بھی معاف ہوجاتے ہیں تیسری دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی طرح بھارت کا شمار بھی اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کا کسان اپنی فصل کے ثمرآور نتائج کی امیّد میں مستقبل کے خواب بنتا ہے اُس کے کچے مکان کی تزئین ‘ بھائی بہن بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی کے سہانے سپنے یہ سب اُس کی فصل سے جڑے ہوتے ہیں لہٰذا ساتھ ہی سرکارسے بیچوں کے لئے جوقرض اُس نے لیا ہوتا ہے اُس کی واپسی فصل کی فروختگی سے منسلک ہوتی ہے بھارتی کسان کی ایسی انتہائی ناگفتہ حالت ِ زار بیان کرنے والے موثر تفتیشی نامہ نگاروں نے دیش کی جو افسوس ناک صورتحال اپنی رپورٹوں میں لکھیں وہ ’امیّد وبیم ‘ کی کشمکش اور ’موسموں ‘ کی شدتوں سے زیادہ ریاستی قرضوں پر سود کی بے پناہ بڑوھوتی (زیادتی)اور واپسی کی مدت کی کمی کی داستانیں سناتی ہیں، حالیہ ہفتوں میں بھارت کے کئی حصوں میں بہت بارشیں ہوئیں غیر متوقع ژ الہ باری نے مہاراشٹر میں زرعی نظام کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچایا، کپاس اور گندم کی فصلیں بُری طرح سے تباہ ہوئیں، پھلوں کے باغات کو بڑا نقصان پہنچا یہاں سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی ریاستی اور مرکزی حکومتوںنے انتخابات میں اپنے ووٹروں سے جو بلند بانگ وعدے کیئے تھے کہ بی جے پی نئی دہلی میں حکومت بنانے میں اگر کامیاب ہوگی تو وہ بھارتی سماجی زندگیوں میں معاشی انقلاب پیدا کردے گی یہ وعدے کہا ں مرکھب گئے؟ بھارتی کسان کیوں خود کشیاں کرنے مجبور ہیں کھیت کی پیداوار کھیت کی پیداوار کے ہنر مند کسانوں کی محنت کا معاوضہ اُنہیں کیوں نہیں مل رہا اب تو نریندر مودی جیسا جنونی ہندو قائد نئی دہلی کے تخت پر بیٹھا ہوا کیا بھارتی عوام کی اکثریت نے اُسے اِس لئے نئی دہلی کے ایوان ِ اقتدار تک پہنچا یا تھا کہ وہ بجائے بھارتی عوام کی فلاح و بہبود میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے بھارتی اقلیتوں خصوصاً بھارتی نژاد مسلمانوں پر اپنے سیاسی ہتھیار بند وں کی فوج کشی کرتا پھرے بھارتی عوام کی سماجی ومعاشی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر پورے دیش کے ارد گرد جنگ زدہ ماحول پیدا کردے ؟بھارتی کسانوں کی پے درپے خودکشیوں کی خبروں نے دنیا کو دہلا دیا ہے نریندر مودی کی کان پر جوں رینگی یا نہیں ؟بے گناہ انسانوں کی آہ وبکا نریندر مودی اور اُس کے حالی موالیوں کو بحیرہ ¾ ِ ہند میں غرق کردے گی یہی کچھ اُس کی ’جنم بھومی ‘ لکھا ہے آخری اطلا ع ابھی ابھی موصول ہوئی ہے ’ ریاست بہار کے انتخابات نتائج نے اِسی جنونی نریندر مودی کا ”تختہ “ نہیں کردیا‘ ۔