- الإعلانات -

امریکی وفد کی وزیراعظم سے ملاقات اوردورہ جنوبی وزیرستان

امریکی سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آنے والے امریکی سینیٹ کے وفد سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ پاکستان اور امریکا طویل مدتی اسٹریٹجک پارٹنر ہیں،دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرپا تعلقات ضرور ی ہیں.ملاقات کے موقع پر پاک امریکا تعلقات اور خطے کی سلامتی صورتحال سمیت دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ امریکی سینیٹ کے وفد نے جنوبی وزیرستان کا بھی دورہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد کو پاک افغان سرحدی سیکیورٹی کی صورتحال،آہنی باڑ کے ذریعے بہتری کے لیے حالیہ اقدامات پر بریفنگ اور ایجنسی میں سماجی ترقی کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا۔یہ امر خوش آئند ہے کہ امریکی سینٹ کا اہم اور نمائندہ وفد ان دنوں پاکستان کے خصوصی دورے پر ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ دونوں ممالک کے مابین پائی جانے والی بعض معاملات خصوصاًافغانستان اور بھارت سے تعلقات کے ایشو پر سرد مہری کو کم کرنے میں مدد ملے گی.اسی لیے وزیراعظم نواز شریف نے اپنی حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ہم ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاک امریکا مضبوط پارٹنر شپ ضروری ہے اورافغانستان میں پائیدار امن کیلئے کی جانیوالی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی برادری بالخصو ص امریکا مقبوضہ کشمیر کے عوام کے مصائب اور مشکلات ختم کرا نے کیلئے اپنا کرادار اداکرے۔ وزیر اعظم نے بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات اوردہشت گردی پر قابو پانے کیلئے گزشتہ چار سالوں کے دوران کی گئی حکومتی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ اسمیں کامیابی کا اندازہ پاکستان کی نمایاں طور پر بہتر ہونے والی سیکورٹی کی صورتحال سے لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانوں کی قیادت میں امن عمل کے لیے مذاکرات پر مبنی ٹھوس مساعی کی ضرورت ہے جبکہ امریکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط پارٹنر شپ بھی لازمی ہے۔ اس سلسلے میں افغان مصالحتی عمل کی سہولت کے لئے چار فریقی رابطہ گروپ (کیو سی جی)بہت اہمیت رکھتا ہے۔علاوہ ازیں امریکی سینیٹرز کے وفد کو جنوبی وزیرستان کا دورے کے موقع پر سکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔امریکی سینٹ کی آرمز کمیٹی کے وفد نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا فضائی دورہ کر کے سرحدی علاقے میں نئے تعمیر شدہ قلعوں،چوکیوں اور ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیااور پاک فوج کی کوششوں،قربانیوں اور مقامی قبائل کے تعاون کو سراہا۔ امریکی سینیٹرز نے پاک افغان سرحدی سکیورٹی کیلئے کوارڈی نیشن اور تعاون کے ادارہ جاتی میکنزم کی اہمیت پر زور دیا۔سینیٹر جان مکین نے اس موقع پر کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ایک ایسے موقع پر جب ٹرمپ انتظامیہ افغانستان اور پاکستان کے لیے نئی پالیسی مرتب کررہی ہے امریکی وفد کا تفصیلی دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے.جس سے امریکی پالیسی میکرز کو یقیناًزمینی حقائق کو سمجھنے میں مدد ملے گی.اس دورے کی اہمیت اس حوالے بھی بہت اہم ہے کہ امریکہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان سے ہمیشہ ڈور مور کا مطالبہ کرتا آیا ہے.اسے شکایت رہتی ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں امن قائم کرنے میں ناکام ہے مگر اس وفد کے انہی علاقوں کے دورے سے تمام پروپیگنڈے کو دم توڑ جانا چاہیئے.پاکستان سرحد پر آزادانہ نقل و حمل کی روک تھام کے لیے استطاعت سے باہر ہونے کے باوجود سخت اقدامات کررہا ہے. مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ سرحد کے اس پار تعاون نام کی کوئی چیز نہیں ملتی اس پر سونے پہ سہاگہ یہ کہ خود امریکہ نے افغان حکام کے اس عدم تعاون کے رویے پر چشم پوشی کررکھی ہے جس سے پاکستان کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔افغانستان میں امن محض پاکستان کی خواہش اور کوشش سے ممکن نہیں بلکہ ایسا ہمہ گیر کوششوں سے ہی ممکن ہے جیسے وزیراعظم پاکستان نے بھی زور دیا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے امریکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط پارٹنر شپ لازمی ہے۔اب یہ امریکی انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کی قدر کرے اور غنی حکومت کو تعاون پر آمادہ کرے بصورت دیگر تمام کوششیں غارت ہوتی رہیں گی۔
ملیحہ لودھی کا دبنگ موقف
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے نہایت ہی نپے تلے الفاظ میں مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے کور ایشو پر بین الاقوامی برادری کی دوعملی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کی سیاسی حکمت عملی کشمیر اور فلسطین کے مسائل کے حل میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ایک برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے ملیحہ لودھی نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق کشمیر اور فلسطین کے تنازعات کو حل کرنے میں مدد کریں۔انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل میں بھارت جبکہ فلسطین کے تنازع کے حل میں اسرائیل کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔انہوں نے کشمیر اور فلسطین دونوں خطوں کے مسائل میں مماثل قرار دیتے ہوئے بجا نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مسلم امہ میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی واضح قراردادوں کو نافذ کیوں نہیں کیا جاتا.انہوں نے باور کرایا کہ اگر اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ تنازعات کا حل نہیں نکالا گیا تو ان خطوں میں مزید تنازعات پیدا ہوں گے.ان کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کشمیریوں کے حقوق کا غاصب بھارتی وزیراعظم اسرائیل کے دورے پر ہے.کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا اسرائیل کا یہ پہلا دور ہے جس پر بجا طور اس خدشے کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ اب جنوبی اور وسطی ایشیا میں مزید بے چینی اور دونوں خطوں کی عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا.اسی لیے ملیحہ لودھی نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب دلائی ہے کہ کشمیری اور فلسطینی عوام کی صورتحال ایک جیسی ہے، کیونکہ عالمی برادری نے ان سے اب تک جتنے بھی وعدے کیے وہ وفا نہیں ہو سکے، جس کا خمیازہ عالمی دنیا مشرقی وسطی اور جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے نتیجے میں بھگت رہی ہے۔
چین بھارت سرحدی کشیدگی
چین اور بھارت کے مابین ان دنوں کشیدگی عروج پر جس کی بنیادی وجہ بھارت سرحدی خلاف ورزی ہے۔گزشتہ دنوں بھارتی فوج سکم سرحد کے قریب چین کے حصے میں داخل ہوکر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جو عالمی کنونشن کے خلاف اقدام ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکم چین کا حصہ ہے۔ یہ سرحد چین اور برطانیہ کے درمیان 1890 میں معاہدے کے بعد طے ہوئی تھی۔جس پر چین نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہر قیمت پر اپنی سرحدی عملداری کا دفاع کرے گا۔ پیر کے روز چینی وزارت خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ اپنی سرحدی عملداری کی حفاظت کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ادھر چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کیساتھ جاری محاذ آرائی بھرپور جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ سکم سیکٹر کے علاقے میں سرحدی حدود کے تنازع پر دونوں ممالک کے افواج آمنے سامنے آچکی ہیں۔اگر بھارتی ہٹ دھرمی جاری رہی تو جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔