- الإعلانات -

ریمنڈ ڈیوس۔۔۔ آج اِتنا معزز ہوگیا؟

زمانہ کو آہستہ آہستہ پتہ چلنے لگا ہے کہ قیامِ پاکستان بلکہ اِس سے بھی پہلے’بھارت براہِ راست خود بھی دیگر’مسلم دشمن مغربی ممالک’ سمیت برطانیہ اورامریکا کو اپنے ساتھ ملاکر 70 برسوں سے پاکستان کے خلاف غیراعلان شدہ جنونی ’نفسیاتی جنگ’میں مصروفِ عمل کل بھی رہا آج بھی ہے اورآئندہ بھی اْس کی مشکوک حرکات وسکنات یونہی جاری رہیں گی’اِسی بارے میں مزید کچھ کہنے سے قبل ہم کیوں نہ یہ بھی مان لیں کہ جدیدعہد میں نفسیاتی جنگ ‘باقاعدہ عملی جنگ’کی نسبت زیادہ موثر’آزمودہ اورفکری وں ظری ہتھیاروں کی مانند ایک مہلک حیثیت اختیار کرچکی ہے’جس کی اہمیت سے انکارممکن نہیں’نفسیاتی جنگ اپنے’ٹارگٹڈ دشمن’ کے ہوش وخرد پرکاری ضربیں لگانے میں خاصی تیر بہدف نسخہ ثابت ہوتی ہے’کالم زیادہ تفصیل میں جانے کا فی الوقت متحمل نہیں ہوسکتا’لہذاء طویل تمیہد کا سہارا لیئے بغیرہم یہاں پاکستان کیالیکٹرونک میڈیا پر زور دارہونے والی تازہ ترین اْس متنازعہ کتاب پراپنی رائے قارئین کے ساتھ شیئرکرنا چاہتے ہیں سی آئی اے کی شائع کردہ ‘دی کنٹریکٹر’نامی یہ کتاب جسے ایک امریکی کرائے کے قاتل جاسوس ریمنڈڈیوس’ کے نام پر نجانے حسین حقانی نے خود ہی لکھی ہے یا آرایس ایس کے متشدد اورجنونی کسی امریکی نژاد بھارتی فن کار نے لکھ کراْس کتاب کواِتنے پھرتیلے اندازمیں دنیا بھرمیں پھیلادیا ہے، جس سے کئی بنیادی سوالات اْٹھنے شروع ہوگئے ہیں ‘مثلا یہ متنازعہ کتاب اورکتاب کے متنازعہ مصنف دونوں کے خفیہ اورمذموم مقاصد کا پردہ بہت بْری طرح سے چاک ضرور ہوگیا،یقیناًاب اِس میں کوئی شک نہیں رہا ہے کہ دنیا بھرمیں نصف صدی سے بھی زائدعرصہ تک اپنی جابرانہ استبدادی چالوں کوبروئےِ کارلاکر تیسری دنیا کے معاشی واقتصادی طور پر کمزور ملکوں کے عوامی حلقوں میں مایوسانہ فکری انتشاروافتراق پیدا کرکے حکومتوں کا تختہ الٹنے اورعوامی طبقات میں انارکی کی فضاء ہموار کرنے میں بدنامِ زمانہ سی آئی اے کا جو ایک بہیمانہ ٹریک ریکارڈ رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے’حالیہ پاکستان کے سیاسی اندرونی حالات وواقعات کی ابتر اوربیڈ گورنس کی مایوس کن صورتحال سے کون بے خبر نہیں؟11/9 سے ابیٹ آباد کے2 مئی کے واقعات کیا پاکستانی سیکورٹی کے حوالیسے کم قیامت خیز نہیں تھے؟26 نومبر2011کی شب کے لمحات کو پاکستانی قوم کیسے فراموش کردے جب افغان سرحدوں سے ملحقہ سلالہ چیک پوسٹوں پرامریکی اور نیٹو کے طیاروں نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی نگراں چوکیوں پر بمباری کرکے پاکستانی فوج کے 24 جوانوں کو افسروں سمیت شہید کیا تھا جس کے نتیجے میں اْس وقت کے فوجی سربراہ جنرل کیا نی نے اہم فوجی کمانڈروں کی باہمی مشاورت سے پاکستان کے راستے افغانستان جانے والی نیٹو کارواں پر پابندی عائد کی تھی اورکھلے لفظوں میں امریکی محکمہِ خارجہ اورافغانستان میں موجود امریکی کمانڈروں کو یہ ‘تنبہیہ’بھی کردی تھی کہ آئندہ پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی توپاکستان اورامریکا کے سفارتی تعلقات کا فیصلہ پاکستان کی سڑکوں پر پاکستان کے عوام خود کرنے پر مجبور ہوجائیں گے امریکیوں سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستانی عوام کے نزدیک امریکی تعلقات کتنے کچے دھاگوں سے بندھے ہوئے ہیں ہاں عوام بخوبی اِن حقائق سے منحرف نہیں کہ آج کی اسلام آباد کی حکومت ہو یا ماضی کی ملکی قیادت’ پاکستان کے مفادات کو کبھی کسی نے بھی عزیز نہیں رکھا بلکہ امریکا کے ساتھ ہمیشہ ہر ملکی حکمران نے ذاتی تعلقات کو اہمیت دی چاہے کولیشن فنڈز کا معاملہ ہو یا عالمی مالیاتی اداروں سے بجٹ کے نام پر قرضہ لینے کے معاملات عوام کی فلاح وبہبود کسی بھی ملکی حکمران نے اہمیت دینا ضروری نہیں سمجھا آج پرائیوٹ چینلز پر بیٹھے اینکرپرسنزسی آئی اے کے زیر اہتمام شائع ہونے والی جس کتاب پر باتیں اور بحث ومباحث کرنے میں اپنا دلچسپی کا اظہار کرنے میں جلد بازی اور تصویر کے ایک ہی رخ کو پیش کررہے ہیں اِس کے پیچھے پاکستانی عوام کو صاف بھارتی اور امریکی سرمائے کی چمک اگر دکھائی دے رہی ہے تو وہ بلا وجہ نہیں’ڈونلڈ ٹرمپ اورنریندرا مودی کے مابین طے پانے والے مہلک جوہری اسلحے کے معاہدوں کے بعد خطہ میں ابھرنے والے خطرات کی تپش کوکم کرنے کے لئے سی آئی اے کو کچھ نہ کچھ تماشا تو لگانا تھا سْو وہ لگایا گیا ہے نجی الیکٹرونک میڈیا کا ماضی میں بھی یہی وطیرہ رہا آج بھی وہ کچھ نیا نہیں کررہے سی آئی اے کی ‘ٹائمنگ’ پرنظررکھیں یاد رہے کہ 2 مئی کو ابیٹ آباد آپریشن میں حصہ لینے والے امریکی میرین دستوں کے افراد پر امریکا نے ایک قانون کے تحت ‘اعترافات’ یا ‘ یاداشتوں’ کے نام پر ذرائعِ ابلاغ کے نمائندوں سے کچھ کہنے سننے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے ریمنڈڈیوس کا تعلق بھی 2 مئی کے آپریشن سے ہی جڑاہوا ہے پھر کوئی کسی امریکی عہدیدار سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ قاتل اور کرائے کے جاسوس ریمنڈڈیوس کو یہ اجازت کیسے دیدی گئی کہ وہ اپنی بدنامِ زمانہ کاروائیوں کے قصے اور کہانتیں سرعام سناتا پھرے ایک رخ یہ دوسرا رخ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ بہت کم لوگ پاکستان میں ایسے ہونگے جوجنرل پاشا سابق ڈی جی آئی ایس آئی کوقریب سے جانتے ہونگے ،اْن کی پیشہ ورانہ مہارت کی اہلیت وصلاحیت سے واقف ہونگے؟ ‘دی کنٹریکٹر’میں تحریراِس بات سے راقم بالکل متفق نہیں ہے جسے بعض اینکر پرسنزنے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا جوصریحاً غلط ہے جس کی کوئی سند کسی کے پاس نہیں ہے افسوس ہے کہ پاکستانی رائےِ عامہ پر اثرانداز ہونے والے اگر یقین کررہے ہیں تو ‘ریمنڈڈیوس’ کی کہی ہوئی باتوں پر یقین کررہے ہیں اْنہیں بتانے کے لئے یہاں لکھنا پڑرہا ہے کہ’ سی آئی اے کے سربراہ لیؤن پینٹا نے خود تسلیم کیا ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی میں کسی ‘مین آف انٹیلی جنس’ سے متاثر ہوا ہے تو وہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا سے ہونے والی اپنی مختصراوربامقصد ملاقاتوں کے دوران اْن سے حد درجہ متاثر ہوا ہے اب کون انکار کرئے گا کہ جنرل ریٹائرڈ پاشا جب پہلی بار امریکا گئے تو ایک ہی دن میں واپس وطن لوٹ آئے تھے، جس سوٹ میں وہ امریکا گئے تھے، اْسی سوٹ میں واپس پاکستان آگئے تھے ‘کاش! 2008 کے الیکشن کے بعد سے اب تک کی موجودہ ملٹری قیادت کو’سیاسی مصلحت پسند’ جمہوری لیڈرشپ کی بجائے (لیڈرشپ کے علاوہ اورکیا کہا جائے؟) کوئی ایسی ویژنری’بہادر’جرات مند اور ذاتی مفادات سے بالاتر سیاسی لیڈر شپ ملتی تو پاکستان کا یہ حال نہ ہوتا جو آج ہے جسے ‘قحط الرجال’ کا دور کہا جارہا ہے تو غلط نہیں کہا جارہا دنیا کا کون سا ایسا ملک ہوگا جس ملک کی سیاسی لیڈرشپ ایسی ہوجو اپنے ملک کے حساس سیکورٹی اداروں کے پیشہ ورانہ عزت ووقار کویوں سرعام بے توقیر ہوئے دیکھ کراندرونی طور پراطمینان محسوس کرتی ہوگی افسوس آج پاکستان بھرمیں عالمی سطح پراعلیٰ مقام کی حامل سمجھنے والی پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کومیڈیا میں تمسخرانہ اورطنزیہ لب ولہجے میں ملفوف طرزِ گفتگو کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے جبکہ دنیا کی مہذب اقوام اپنے معتبر اداروں کے سامنے کسی اور کی پھیلائی باتوں کو اِتنی اہمیت نہیں دیتی ہمارے میڈیا اکابرین دنیا کے دیگر حساس اداروں کی عظمت وتوقیر سے ہی کچھ موعظت وعبرت آموزی کا تھوڑا بہت کوئی سبق سیکھ لیتے یوں آج اُن کے بارے میں کروڑوں پاکستانیوں کو یو ں نہ سوچنا پڑتا؟۔