- الإعلانات -

حالیہ مردم شماری____ توجہ طلب پہلو!

کفر ٹوٹا خداخدا کرکے۔ کافی عرصہ تعطل کے بعد ملک عزیز میں خانہ و مردم شماری کا عمل شروع ہوا جو ۲۵ مئی کو اختتام پذیر ہوا۔ اگرچہ یہ عمل قومی خزانے پر ایک بھاری بوجھ تھا مگر یہ ضروری بھی تھا۔ اس عمل کے لیے زیادہ تر خدمات ملک عزیز کے اساتذہ نے سرانجام دیں جبکہ پاک آرمی نے بھی اس عمل میں بھرپور کرداراداکیا۔ملک بھر میں اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے کئی ایک مقامات پر حملے بھی ہوئے تاہم اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں اس عمل میں کوئی رخنہ نہ ڈال سکیں۔اس عمل کو آسان بنانے کے لیے تحصیل کی سطح پر مختلف چارج بنائے گئے اور ایک ایک چارج کے تحت زون بناکر ان کو مختلف بلاک میں تقسیم کیا گیا۔ افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک بندے کو دو دو بلاک دئیے جائیں گے ۔ جبکہ ایک بلاک کی معینہ مدت پندرہ دن مقرر کی گئی ۔پہلے تین دن خانہ شماری کے لیے تھے جبکہ باقی کے دن مردم شماری کے لیے مخصوص تھے ۔پہلے یوں کیاجاتا تھا کہ خانہ شماری کے لیے پینٹ استعمال کیا جاتا تھا مگر اس بار سبز رنگ کے مارکر استعمال کیے گئے۔یہ ایک اچھی کاوش تھی لیکن کوالٹی کا خیال نہیں رکھاگیا تھاکیونکہ دھوپ یا بارش سے لکھائی مٹ جاتی تھی۔کسی بھی متعلقہ آفیسر کی متوقع آمد کی وجہ کئی ایک جگہ خانہ شماری کے لیے لگائے نمبر کو دوبارہ لکھنا پڑاتاکہ ان کو پڑھنا ممکن ہو۔اس کے علاوہ بھی ہر طرح کا ممکنہ سامان فراہم کیاگیا جو کہ ایک اچھی کاوش تھی ۔خانہ شماری کے لیے ایک رجسٹر فراہم کیا گیا جوبلاک میں موجودعمارات کی مکمل تفصیل کے لیے کفایت کرتا تھا۔مردم شماری کے لیے ایک الگ رجسٹر فراہم کیا گیا ۔ضخامت کے لحاظ سے ان کو تین اقسام میں منقسم کیاگیا۔سب سے چھوٹے رجسٹر میں40 فارم تھے جبکہ اس سے اوپر والارجسٹر80فارموں پر مشتمل تھا۔سب سے بڑے رجسٹر میں160 فارم تھے ۔شمارکنندہ اپنے بلاک میں موجود گھرانوں کے لحاظ سے کوئی بھی رجسٹر استعمال کر سکتا تھا۔ جنس کے خانے میں صرف مرداورعورت کا ذکرتھا مگر بعد میں احتجاج کے نتیجے میں مخنث اور معذور کا کوڈ بھی دے دیا گیا ۔مجموعی طور پر کہاجاسکتا ہے کہ متعلقہ محکمہ کی طرف سے بھرپور کوشش کی گئی کہ خانہ و مردم شماری کے عمل کوکسی بھی سقم سے آزاد رکھاجائے تاکہ حتی الوسع اور حتی المقدور معلومات کی درستگی ممکن ہو۔اس عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے پاک آرمی کا جوان بھی مصروف عمل رہااور شام کو سویلین اور آرمی کا شمارکنندہ اپنے اپنے اعدادوشمار کاموازنہ کرتے تھے تا کہ کوئی خامی یا غلط اندراج ممکن نہ ہو۔اب یہ عمل مکمل ہو چکا ہے اور محکمہ شماریات فراہم کیے گئے کوائف کی مدد سے مختلف اعتبار سے اعدادوشمار کی ترتیب و تدوین میں مصروف ہے ، جو ایک لمبا اور کافی تھکا دینے والا عمل ہے اور اس میں احتیاط کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔اس طرح حتمی اور تفصیلی اعدادوشمار آنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے ۔اس تاخیر سے بچنا ممکن تھا اگر REN2 فارم میں تھوڑی سی اور گنجائش پیدا کردی جاتی ۔
مردم شماری کے لیے دیئے بلاک کی تمام تر تفصیل کے لیے REN2 فارم مہیاکیا گیا۔اس فارم میں متعلقہ بلاک کے افرادکی تفصیل درج کرنے کے لیے باکسزبنائے گئے ۔لیکن اگر اس فارم کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں صرف آٹھ باکسز بنائے گئے ۔پہلا باکس صحیح مردبشمول بچوں ، دوسرا باکس معذور افراد بشمول بچوں ، تیسرا باکس صحیح خواتین اوربچیوں ، چوتھا باکس معذور خواتین اور بچیوں ، پانچواں خانہ صحیح مخنث افرادجبکہ چھٹا باکس (خانہ )معذور مخنث حضرات کی تعدادکو ظاہر کرتا تھا۔ساتواں خانہ بلاک میں کل افراد کی تعدادبتاتاہے اور آٹھواں اور آخری خانہ بلاک میں موجود گھرانوں کی تعدادظاہر کررہاہے ۔ا س لحاظ سے کہاجاسکتا ہے کہ REN2 فارم جو کہ ایک لحاظ سے بلاک کی تفصیل کا خلاصہ ہے ، زیادہ سے زیادہ ٹھیک ، معذور ، مخنث ، کل افراداور گھرانوں کی تعداد کو کفایت کرتا ہے ۔اس کے علاوہ کی معلومات مثلا کتنے افراد خواندہ ہیں ، کتنے افراد نا خواندہ ہیں ، کتنے بچے سکول جا رہے ہیں ، کتنے بچے سکول نہیں جا رہے ، کتنے بچے ابھی سکول جانے کی عمر تک نہیں پہنچے ، کتنے افراد غیر ملکی ہیں ، جوان اور بوڑھوں کی تعداد کتنی ہے ، کتنے افراد باروزگار ہیں اور کتنے بے روزگار ہیں ، کتنے گھرانوں میں معیشت کی ذمہ داری کسی عورت کے کندھوں پر ہے؟ ، دینے سے قاصر ہے ۔اس طرح کی معلومات مردم شماری کے لیے دیئے گئے دوسرے رجسٹر میں مذکور ہے لیکن ان معلومات کے لیے محکمہ شماریات کو ایک دفعہ پھر سے پر شدہ فارموں کو کھنگالنا پڑے گا جو ایک وقت طلب اور مشقت طلب کام ہے ۔اس کام کے لیے ایک ایک فارم کو ایک بار پھر الگ سے دیکھنا پڑے گا اور اس کام کے لیے کئی ایک افراد اور ہفتے درکار ہوں گے ۔اسی کام کو آسان بنایا جاسکتا تھا اگر REN2 فارم میں کچھ اور باکسز کا اضافہ کردیا جاتا ۔جہاں آٹھ خانے موجودتھے وہیں غیرملکی افراد کا خانہ بھی بنایاجا سکتا تھا جس سے ملک عزیز میں غیر ملکی افراد کی تعدادکا اندازہ ہو جاتا۔اسی طرح خواندہ و ناخواندہ مرداورعورتوں کا بھی الگ سے خانہ بنایاجاسکتا تھا ۔جیسا کہ پاک آرمی کے جوانوں نے دوسرے بلاک میں اس عمل کو اپنایا۔اس سے ملک میں مرداور خواتین میں شرح تعلیم کا اندازہ ہو جاتا اور اسی طرح سکول جانے والے بچوں اور نہ جانے بچوں کے لیے الگ سے خانے بناکر ان کا تناسب بھی معلوم کیا جاسکتا تھا۔معاشی ذمہ داری والا خانہ اس بات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا کہ ملک میں کتنی خواتین اس فریضے کو سرانجام دے رہی ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کیا ہے ۔ اس طرح کے عمل سے BISP کو کافی مدد مل سکتی تھی۔ یہ کام ایک بلاک کی حد تک آسان بھی تھا اور مختصر بھی لیکن اب مشکل کو اور طویل ہے کیونکہ اب یہ کام جہاں بھی ہورہا ہے وہاں ملکی یا کم از کم صوبائی یا پھر قدرے کم امکان کے ساتھ ڈویژن کی سطح پر ہورہاہوگا۔ لیکن اگر یہ کام شمارکنندہ کے سپر کردیا جاتااور اس کی تفصیل REN2فارم پر بھی ہوتی تو یہ کام کئی گنا آسان تھا ۔کیونکہ شمارکنندہ ہر روز کی کارگردگی یعنی رپورٹ میں ان تمام افراد کو بڑی آسانی سے الگ کرسکتا تھا اور آخر میں تمام افراد کی مکمل تفصیل اس فارم پر آجاتی ۔یوں ایک نظرمیں اس بلا ک کی تفصیل جانناممکن ہوتااور بلاک سے ہوتا ہوا یہ مرحلہ تحصیل اور وہاں سے ضلعی اور ڈویژن کی سطح سے ہوتا ہوا صوبائی سطح تک آجاتااور یوں پورے ملک کے اعداددشمار بڑی آسانی سے دستیاب ہو سکتے تھے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اب جتنی تاخیر ہو رہی ہے ، اس سے لازمی طور پر بچاجا سکتا تھا ۔