- الإعلانات -

وزیراعظم کا کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ سے خطاب

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان ترقی کے حوالے سے اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ پاکستان کو استحکام کے 30,20 سال مل جاتے ہیں تو ہم بہت سے ممالک سے آگے نکل جائیں گے ۔ ترقی ہوگی تو ٹیم بھی اچھا کھیلے گی۔ پاکستان کا نام بلند ہوگا ، پی سی بی پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کیلئے کسی ٹیم یا ملک کی منت سماجت نہ کرے جوخوشی سے آنا چاہے اسے خوش آمدید کہیں گے جو نہیں آتے انہیں مجبور نہیں کرینگے ۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب ہر کوئی اپنی مرضی سے پاکستان آئے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے والے ہمارے کھلاڑی اصل لیڈر اور وزیر اعظم ہیں ہم تو صرف نام کے و زیر اعظم ہیں ، مجھ سمیت قوم کا ہر فرد ان اصل ہیرو سے ملنا چاہتا ہے۔موجودہ کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ہمیشہ حسین یاد رہے گی ، آنے والا وقت پاکستان میں کھیلوں کے فروغ کا ہے ، پاکستان کی ٹیم نے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کیلئے بورڈ کسی ملک کی منت سماجت نہ کرے،ایک دن آئے گا جب غیرملکی ٹیمیں بھاگی بھاگی پاکستان آئیں گی، مجھے باؤنسر برداشت نہیں تھا ،کرکٹ میں کوئی باؤنسر مارتا تھا تو جواب میں چھکا یا چوکا کھاتا تھا۔تمام کھلاڑیوں کویہاں خوش آمدید کہتا ہوں۔ شہر یار خان کیلئے میرے دل میں بہت عزت ہے۔ میں شہر یار خان کو ملک و قوم کیلئے کام کرنے والے افسر کے طور پر جانتا ہوں۔ہر ارے میں وزرائے اعظم میچ میں ورلڈ الیون کے خلاف میں نے 36 رنز ناٹ آؤٹ بنائے وہ فرینڈلی میچ تھا۔ جس میں میں نے چھکے اور چوکے مارے تھے۔ عالمی رہنماؤں کے ساتھ کرکٹ کے میدان میں کھیلنا اچھا لگا۔ مجھے باؤنسر برداشت نہیں تھا ،کرکٹ میں کوئی باؤنسر مارتا تھا تو جواب میں چھکا یا چوکا کھاتا تھا۔ بچپن سے علم ہے کہ ملک میں کھیل کے میدانوں کی کمی ہے بچوں کے کھیلنے کیلئے گراؤنڈز کی اشد ضرورت ہے ۔ وزرائے اعلیٰ کو یونین کونسل کی سطح پر گراؤنڈ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چیمپئین ٹرافی میں جیت پر انتہائی خوشی ہوئی ۔ ابتدائی میچز میں کھلاڑیو ں کی کارکردگی پر افسردہ تھا اس ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم کا آغاز ایسا ہی تھا جیسے 2013ء میں ہماری حکومت کا تھا اس وقت پاکستان بڑی مشکلات کا شکار تھا لگتا تھا خدا نخواستہ ایک سال کے اندر اندر ملک ڈیفالٹ کر جائے گا ۔ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ دہشت گردی دم توڑ رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں ہر جگہ سیاحوں کا رش ہے۔ ملک میں سیاحت کا فروغ گزشتہ 4,3 سال سے بڑھ رہا ہے۔ امن و امان کی بحالی سیاحوں کو پاکستان کی جانب کھینچ رہی ہے۔ سیاح گلگت بلتستان کے دشوار گزار راستوں کا بھی رخ کر رہے ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں بھی دھڑا دھڑ کارخانے لگ رہے ہیں۔ ماضی کی روایات کے برعکس ڈیڑھ ڈیڑھ سال میں منصوبے مکمل ہو رہے ہیں۔ 1999ء تک ملک میں صرف لاہور سے اسلام آباد تک موٹر وے تھی اب ملک بھر میں موٹر ویز اور شاہراہوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔ ہزاروں کلو میٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔ شاہراہوں پر ہزار ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ آج ترقی کے حوالے سے پاکستان دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے ۔ مستقبل میں بھی ترقی کا یہ عمل جاری رہا تو پاکستان کا دنیا میں نام ہو گا۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا آنے والا وقت پاکستان میں کھیلوں کے فرو غ اور ترقی کا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کھیل کے میدان میں اپنا ایک مقام رکھتی ہے۔ کرکٹ ٹیم کی شاندار جیت پر حکومت کی طرف سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اس امر کی آئینہ دار ہے کہ حکومت کھیلوں کے فروغ میں اقدام کررہی ہے۔ کھیل کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرنے پر بلاشبہ ہماری قومی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے اور حکومت کی طرف سے دئیے جانے والے چیک کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنیں گے۔بلا شبہ کرکٹ ٹیم نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس پر قوم کو فخر ہے ۔ کرکٹ ٹیم کوچاہیے کہ وہ اپنے اس اعزاز کو برقرار کھے اور یوں پاکستان کا نام روشن کرتی رہے۔ کرکٹ ٹیم کی بہترین باؤلنگ، بیٹنگ اورفیلڈنگ ہی اس کی کامیابی کا باعث بنی۔
ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھنے کا عسکری عزم
آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیرصدارت سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ ، سیکریٹری داخلہ، آئی جی ، ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز سندھ سمیت دیگر سول وعسکری حکام شریک ہوئے۔ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید اور سیکریٹری داخلہ نے اجلاس کے شرکا کو کراچی کی امن وامان سمیت مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی جبکہ اجلاس میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد اور کراچی آپریشن کا جائرہ لیا گیا اور جیلوں کی سیکیورٹی کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں کراچی سینٹرل جیل سے قیدیوں کے فرار کے معاملات بھی زیر غور آئے جب کہ ایپکس کمیٹی نے کراچی میں معاشی سرگرمیوں کے لیے دیرپا امن کی ضرورت پرزور دیا۔آرمی چیف نے ایجنسیوں کی کارکردگی منظم بنانے پرکراچی کور، سندھ رینجرز کی تعریف کی اور سندھ پولیس کی حالیہ بہتری کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔ آرمی چیف نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہم آہنگی مزید بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے لیے جلد انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔پاک فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ قابل ذکر کامیابیوں کے باوجود ابھی طویل راستہ طے کرنا ہے پاک فوج تمام ریاستی اداروں کے لیے حمایت جاری رکھے گی۔ دیرپا قیام امن کے لیے ریاستی رٹ کا احترام ضروری ہے کیوں کہ امن کا قیام ریاست کی رٹ سے ہی ممکن ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وطن پہلے باقی سب بعد میں ملکی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھیں گے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس کیلئے پاکستان کو بہت فاصلہ طے کرنا پڑا ،کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے منفی سوچ کو شکست دینا ہوگی ،قوم کی بے غرض اور بے لوث خدمت انجام دیتے رہیں جبکہ آرمی چیف نے پنوں عاقل گریژن میں خطاب میں کہاکہ پاک فوج کی پیش ورانہ تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا اور افسروں وجوانوں کے عزم وحوصلے کو سراہا۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا وطن پہلے باقی سب بعد میں ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ملکی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کی حمایت جاری رکھیں گے۔دہشتگردی کے خلاف کامیابی کیلئے پاکستان کو بہت فاصلہ طے کرنا پڑا ۔کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے منفی سوچ کو شکست دینا ہوگی جس کے لیے کوششیں مجموعی طور پر کی جائیں۔قوم کی بے غرض اور بے لوث خدمت انجام دیتے رہیں گے۔ آرمی چیف نے بجا فرمایا پاک فوج ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کے نتیجہ میں ملک میں امن قائم ہورہا ہے اوردہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھڑتا دکھائی دے رہا ہے۔پاک فوج نے دہشت گردی کیخلاف جاری آپریشن میں کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ آپریشن ردالفساد کے اہداف پورے کرنے کیلئے اس میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے سے ہی ملک میں امن قائم ہو گا اور ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوگا۔