- الإعلانات -

برہان وانی کے والد گرفتار

حریت پسند کشمیری نوجوان برہان وانی شہید کی شہادت کا ایک برس مکمل ہونے پر مودی سرکاربوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ بھارتی فوج نے کشمیر میں آزادی کی علامت شہید برہان وانی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور ان کے والد کو گرفتار کرلیاجبکہ مقبوضہ وادی کے ضلع پلواما میں بھارتی فوج نے جعلی مقابلے میں ایک اور کشمیری کو شہید کردیا۔ شہید ہونیوالوں کی تعداد تین ہوگئی ۔ شہید کشمیریوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور پاکستان اورآزادی کے حق میں نعرے لگائے۔ بھارتی فوج برہان وانی سے اتنی خائف ہے کہ شہادت کے ایک سال بعد بھی برہان وانی ان کے اعصابوں پر سوار نظر آتا ہے۔ 8جولائی کو کشمیری نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن اور حریت لیڈر برہان وانی کی پہلی برسی منائی جارہی ہے۔ آج بھارتی فوج نے برہان وانی کے گھر پر چھاپہ مارا اور وانی کے والد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ برہان وانی کی پہلی برسی کے سلسلے میں حریت کانفرنس نے بھی 8 اور 13جولائی کو مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاون ہڑتال کی کال دی ہے اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ برہان وانی کے والد مظفر وانی کا کہنا تھا کہ برہان کو بچپن سے ہی فوج میں جانے کا شوق تھا لیکن مقبوضہ کشمیر کے حالات اور بھارتی فوج کے ظلم نے اسے تحریک آزادی کا کمانڈر بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک روز بھارت برہان وانی کو بھی بھگت سنگھ کی طرح ’’ حریت پسند رہنما‘‘ مان لے گا۔مظفر وانی کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر کے بارے میں درست موقف پیش کیا۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان سے بات چیت کرنی چاہیئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی کشمیریوں کی شہادتوں پر بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ذکر کیا۔ میرے بڑے بیٹے کو بھی بھارتی فوج نے تشدد کر کے شہید کیا۔ جب بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کو سیل کر رکھا ہے تو پھر لوگ کیسے مقبوضہ کشمیر میں آجاتے ہیں۔ اڑی سیکٹر پر ہونے والے حملے میں پاکستان ملوث نہیں اور تحریک آزادی کے لئے جو بھی لڑتا ہے وہ کشمیری ہے۔ ۔ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا بھارتی فوج پر حملے ہوتے رہیں گے۔مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کو ایک سال گزرنے والا ہے۔ بھارتی فورسز کے ہاتھوں ان کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک آج بھی عروج پر ہے۔برسی کے موقع پر حالات پر قابو پانے کیلئے جموں میں بھارتی فوج کی مزید نفری طلب کرلی گئی۔ انجینئر رشید کی سربراہی میں درجنوں کارکنوں نے مبصرین کے دفتر میں ایک یادداشت جمع کرائی جس میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ جموں کشمیر میں فوری طور پر رائے شماری کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے اور کشمیریوں کے خلاف طاقت کے بے تحاشا استعمال کو بند کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔کیونکہ اب تک اقوام متحدہ جموں کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوئی۔ بھارتی فوج نے پلواما کے علاقے ملنگ پورہ کا چوبیس گھنٹے تک محاصرہ کرنے کے بعد گھروں کو مارٹر گولوں سے تباہ کردیااور ساتھ تین نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا۔ شہید ہونیوالے دونوں نوجوانوں کی شناخت کفایت احمد اور جہانگیر بانڈے کے طور پر ہوئی ہے جن کی نماز جنارہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ پورا علاقہ آزادی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے آزادی کیلئے سراپا احتجاج کشمیری نوجوانوں کو رام کرنے کیلئے سینکڑوں ’’ایس پی او‘‘ بھرتی کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔ چیئرمین حریت کانفرنس سیدعلی گیلانی نے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کٹھ پتلی حکومت دہلی دربار کی ایما پر وادی میں شرپسندی پھیلانے اور روزگار کے نام پر نوجوانوں کو بے وقوف بنانے کیلئے 90ء کی دہائی کی بدنام زمانہ اخوان موومنٹ طرز کا منصوبہ سامنے لائی ہے جس کا مقصد کشمیر پر بھارتی قبضہ کو مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی ایجنٹ افسروں کو دفاتر میں گھسنے سے باز رکھیں اور کشمیری عازمین حج سعودی عرب روانگی کے وقت کٹھ پتلی وزراء افسروں سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں۔ بھارتی فورسز نے حریت کانفرنس کی جانب سے دی گئی نمازجمعہ کے بعداحتجاج کی کال کو ناکام بنانے کیلئے اکثر علاقوں میں کرفیو نافذ کئے رکھا۔تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازجمعہ نہ ہونے دی گئی۔میرواعظ مولوی عمرفاروق اور سیدعلی شاہ گیلانی سمیت حریت کانفرنس کے کئی قائدین نظربند رہے جبکہ یاسین ملک کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتاری سے قبل یاسین ملک نے کہا کہ مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر کی پولیس نے ہماری مساجد میں بھی گھسنا شروع کردیاہے اور وہ آر ، ایس ، ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پولیس کو وردی پہننا چھوڑ کر آر ، ایس ، ایس کا امتیازی لباس زیب تن کرنا چاہئے۔