- الإعلانات -

مریم نواز کی پیشی،کیا حکومت اصلاحات لائیگی؟

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی بیٹی مریم نواز05جولائی 2017بروزبدھ کو پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں،وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کی پیشی کے حوالے سے بحث نہیں کہ وہ کیوں اور کہاں پیش ہوئیں۔میرے قلم اٹھانے کا مقصد آج حکومت کی توجہ ایک ایسے مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے جس کے باعث ہر روز قوم کی ہزاروں بیٹیاں عدالتوں میں پیش ہوتی ہیں جن کا مقصد یا تو اپنے کیس میں پیشی ہے یا پھر اپنے باپ،بھائی یا بیٹے کی پیشی پر ان سے ملاقات کرنا ہوتا ہے۔پاناما کیس کی سماعت کرنیوالے سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا کہ کیس کے اہم پہلوؤں کے بارے میں مزید معلومات درکار ہیں جس کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔اس کے بعد جے آئی ٹی تشکیل دی گئی،یہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے خود تشکیل دی جس کو60روز میں تحقیقات کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرانی تھی۔جوں جوں وقت گزرتا رہا جے آئی ٹی کی تحقیقات آگے بڑھتی رہیں،جے آئی ٹی نے وزیراعطم کے بیٹے حسن اورحسین نواز،وزیراعظم نواز شریف کو خود،وزیراعظم کے کزن طارق شفیع،سابق وزیرداخلہ رحمان ملک،سابق چیئرمین نیب،وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار،مریم نواز کے شوہرکیپٹن (ر)صفدر،چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کو طلب کیا اور وہ پیش بھی ہوئے،جے آئی ٹی قطری شہزادے حماد بن جاسم کو بھی طلب کیا لیکن انھوں نے پاکستان آ کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا اور موقف اپنایا کہ قطر آ کر میرا بیان ریکارڈ کیا جا سکتا ہے تاہم سپریم کورٹ میں پیش کردہ میرے خطوط میری جانب سے ہی لکھے گئے۔27جون 2017ء کو جے آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کی پیشی کیلئے بھی سمن جاری کیا گیا جس کے بعد اس ملک کے حکمرانوں کو اخلاقیات،مذہبی اور مشرقی روایات اچانک سے یاد آ گئیں اور جے آئی ٹی سے قوم کی بیٹی کو یوں بلائے جانے پر اعتراضات اٹھانا شروع کر دئیے اور اخلاقی،مذہبی اور مشرقی روایات کے درس دینا شروع کر دئیے۔میں یہاں ان حکمرانوں کے نام نہیں لوں گا جنھوں نے 27جون کے بعد یہ درسی کتب زبان زد عام کرنا شروع کیں۔میں ان کے درس دینے پر اعتراض نہیں کر رہا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہو وہ بھوک پر پوری کتاب بھی پڑھ لے تب بھی بھوک کے درد کو نہیں سمجھ سکتایہی وجہ تھی کہ میں نے اپنا قلم اس وقت تک نہیں اٹھایا جب تک وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہو گئیں۔اب جب 5جولائی 2017ء کو مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئیں تو انکو لیڈی پولیس آفیسر کی جانب سے سلیوٹ بھی پیش کیا گیا،انکی پیشی کے وقت اسلام آباد کی بڑی شاہراہیں بند تھیں جس کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام رہا،طالب علم اپنی درسگاہوں تک نہ پہنچ سکے،کچھ بیمار بروقت ہسپتال نہ پہنچ سکے اور کچھ اپنے دفاتر سے غیر حاضر رہے اور نہ جانے کسی کو میڈیکل اسٹور سے ادویات بھی وقت پر نہ ملیں ہوں اور اس جیسے درجنوں مسائل کا عوام کو سامنا کرنا پڑا ہو گا۔مریم نواز کی پیشی کے وقت25سو سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے۔مریم نواز کے قافلے میں وزیراعظم کے پروٹوکول سے زیادہ گاڑیاں تھیں اور سب گاڑیوں کیلئے راستے کھلے تھے اگر راستے بند تھے تو صرف عوام کیلئے بند تھے۔مریم نواز کے ہمراہ انکے شوہر کیپٹن (ر)صفدر،انکے دونوں بھائی حسن اور حسین نواز بھی تھے،یہی نہیں کچھ حکومتی شخصیات بھی ساتھ تھیں۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مریم نواز کے اس انداز میں پیش ہونے پر بہت اعتراضات کیے گئے جس پر وزیرمملکت مریم اورنگزیب نے جواب دیا کہ بہنوں اور بیٹیوں کی عزت کرنیوالے ہمیشہ انکے ساتھ ہوتے ہیں اور وزیرمملکت کا جواب بالکل درست تھا۔5جولائی سے قبل اگر میں کچھ لکھتا تو شائد حکومت کے اعلیٰ ایوانوں تک میری بات کی شنوائی نہ ہوتی لیکن آج مجھے امید ہے کہ یقیناًحکومت کچھ نہ کچھ ضرور کریگی کیونکہ درد کا احساس اسے ہی ہوتا ہے جو درد سے گزرتا ہے۔میں وزیراعظم نواز شریف،وفاقی وزیرداخلہ،وفاقی وزیربرائے قانون و انصاف ،وزیراعلیٰ پنجاب سمیت دیگر وزراء اعلیٰ اور صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ سمیت ہر اس حکومتی شخصیت سے مخاطب ہوں جو ایک خاتون کی کسی عدالت یا جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے درد کو سمجھ سکتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ آج کے بعد تھانوں میں رپٹ درج کرنے کیلئے خاتون عملہ تعینات کیا جائیگا،مجھے یہ بھی یقین ہے کہ کچہریوں میں جب خاندان کے واحد مرد کو جیل بھیجنے کے بعد عدالت میں پیشی کیلئے لایا جائیگا توانسے ملاقات کیلئے آئی خواتین جن میں ملزمان کی بہنیں،بیٹیاں اور بیویاں شامل ہوتی ہیں کیلئے کوئی علیحدہ انتظامات کیے جائیں گے کیونکہ حکومتی شخصیات نہیں جانتی کہ ایک کانسٹیبل لیول کے اہلکارمحض ملاقات کیلئے خواتین سے کتنے جتن کراتے اور ان لاچار اور ناخواندہ خواتین کو ملزم کی رہائی کے کیا کیا خواب دکھاتے ہیں۔محترم ارکان پارلیمنٹ جس گھر میں واحد مرد بطور ملزم جیل جاتا ہے تو اس گھر پر قیامت سے پہلے ایک قیامت آ جاتی ہے اس کے سد باب کیلئے بھی اقدامات ضروری ہیں۔مجھے یقین ہے کہ جیل میں خواتین کے ملنے کے طریقہ کار پر بھی نظر ثانی ہو گی۔مجھے یقین ہو رہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ عدالتوں میں بطور ملزمان پیش ہونیوالی خواتین کی عدالت میں موجودگی کا بھی مناسب بندوبست ہو گا۔مجھے یقین ہے کہ جن کیسز میں خواتین ملزمان ہوتی ہیں انکی انویسٹی گیشن کیلئے مرد آئی او کیساتھ خاتون کی تعیناتی بھی لازمی قرار دی جائیگی۔مجھے یقین ہے کہ عدالت میں خواتین کے کیسز ترجیحی بنیادوں پر سنے جائیں گے۔مجھے یقین ہے کہ خواتین ججز کی تعداد بڑھائی جائیگی اور خواتین کے کیسز خواتین ججز ہی سنا کریں گی جس حد تک ممکن ہو سکا۔مجھے یقین ہے کہ گارڈین کورٹس میں فیصلے جلد ہونگے اور پیشی پر آئی خواتین اور انکے بچوں کے بیٹھنے کا باعزت انتظام کیا جائے گا۔کیونکہ ہر گھر میں مر د نہیں ہوتے۔اگر ہوں تو ایک سے زیادہ نہیں ہوتے،اگر ایک سے زیادہ ہوں بھی تو سب اپنی ماؤں ،بیٹیوں اور بہنوں کیلئے انکے ہمراہ عدالت نہیں جاتے کیونکہ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کا بھی بندوبست کرنا ضروری ہوتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ خواتین کی اپیلیں جلد سنی جائیں گی کیونکہ روزانہ عدالتوں میں پیش ہونیوالی ہزاروں خواتین بھی اس قوم کی مائیں ،بیٹیاں اور بہنیں ہی ہیں۔حکمران اور ارکان پارلیمنٹ کو سمجھنا ہو گا کہ مریم نواز کی اس آرام دہ پیشی کے وقت قوم کو جس ذہنی قرب سے گزرنا پڑاتو جہاں پیشی کے وقت اتنی سہولیات اور مقام مرتبہ نہ ہو ان گھرانوں کے مردوں اور خواتین کے ذہنوں اور دلوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہوں گے۔اگر حکمران اور ارکان پارلیمنٹ مجوزہ تبدیلیاں نہیں لاتے تو پھرتاریخ مریم نواز کی پیشی بھی ایک عام سی پیشی ہی تصور کریگی۔