- الإعلانات -

پانامہ کیس، فیصلے کا انتظار کرلینا ہی بہتر ہے

وزیراعظم نے وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں ہمارا جعلی احتساب ہورہا ہے۔ پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اچھے فیصلے کی توقع ہے گزشتہ سال فیصلہ کرسکتے تھے کہ عوام سے دوبارہ مینڈیٹ لیں پھر طے کیا جو مینڈیٹ ملا اس سے فائدہ اٹھائے ہوئے قوم کی خدمت جاری رکھیں گے ۔ دیکھیں گے کیا راستہ اختیار کرنا ہے ۔جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا احتساب ہورہا ہے وہ بھی جعلی 2014 ء میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا ، لاک ڈاؤن بھی ناکام رہا یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے ان سے نمٹ لیں گے ۔ ہم پر کوئی الزام نہیں ۔ ہماری نیت ٹھیک ہے۔ وزیراعظم نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں چار فریقی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بھارت مظلوم نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کرے اور ہم انہیں تجارتی راہداری دیں یہ کسی صورت ممکن نہیں ۔بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور زیادتی کررہا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کاسا 1000 منصوبہ پاکستان اور افغانستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس سے تاجکستان کو ریونیو حاصل ہوگا۔ منصوبے سے خطے میں تجارت میں اضافے، سماجی ترقی اور توانائی کی قلت دور کرنے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور علاقائی ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی۔ جبکہ دوسری طرف سابق صدر آصف علی زرداری کہہ رہے ہیں پاکستان کی ڈوریں ان بیوقوفوں کے ہاتھوں میں ہے جو سریا بیچنا جانتے ہیں لیکن حکومتیں چلانا نہیں میاں صاحب شیر بنیں اگر آپ کے ساتھ سازش ہورہی ہے تو برداشت کریں جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہہ رہے ہیں حکومت نے شرارت کی تو عوام کی بڑی تعداد باہر لاؤں گا ۔ وزیراعظم نام لے کر بتائیں ان کے خلاف سازش فوج کررہی ہے یا سپریم کورٹ ن لیگ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر مٹھائیاں بانٹیں جے آئی ٹی میں تفتیش شروع ہوئی تو آنسو بہا رہے ہیں ۔ ڈرامے بند کریں قطری شکار کھیلنے آسکتا ہے ، بنکوں کا ریکارڈ دکھانے نہیں آسکتا۔ پانامہ لیکس کیس کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی چوتھی حتمی رپورٹ کی تیاری کا عمل تیز کردیا ہے جبکہ جے آئی ٹی کی تشکیل کو بھی 60 روز مکمل ہوگئے ہیں ۔ اس عرصہ کے دوران چھ رکنی ٹیم نے تحقیقات کرنا تھی جے آئی ٹی حتمی رپورٹ عدالتی بینچ کے سامنے پیش کرے گی۔ جس پر عدالت کا فاضل بنچ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل184(3) اور 190 کے تحت اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے یا عدالتی بنچ پیش کیے گئے مواد جائزہ لے کر وزیراعظم یا جرم سے تعلق رکھنے والے کسی دوسرے شخص کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے لیکن تعجب ہے کہ جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے کی کوشش جاری ہے جو درست نہیں قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ جے آئی ٹی پر الزام کی بھرمار اور دباؤ اس امر کا عکاس ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے ۔ چور مچائے شور اور الٹا چور کوتوال کوڈانٹنے والی صورتحال دکھائی دیتی ہے حکومتی وزراء اور اپوزیشن کو چاہیے کہ جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے تناظر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ عدالت قانون و آئین کے مطابق فیصلہ دے گی ۔ فیصلے سے پہلے شور مچانا اور جے آئی ٹی کو جعلی قرار دینا درست امر نہیں ہے۔ پانامہ کا ہنگامہ اپنے حتمی مراحل کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کی ہنگامہ خیزی میں بھی شدت آتی جارہی ہے ۔ سیاست میں الزامات کا رجحان سود مند قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ پانامہ کیس کا فیصلہ ملکی سیاست پر دوررس نتائج مرتب کرے گا ۔ کرپشن نے ملک کو دیوالیہ کررکھا ہے اور کوئی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن زدہ نہ ہو اداروں سے کرپشن کا خاتمہ کرکے ہی ان کی تطہیر کی جاسکتی ہے ۔ عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا ہی سیاسی بصیرت ہے۔ عوام کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں لیکن ایک طرف حکومتی وزراء جے آئی ٹی کو جہاں حرف تنقید بنائے ہوئے ہیں وہاں عمران خان بھی اس کے نشانے پر ہے جبکہ اپوزیشن اورعمران خان بھی کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف پانامہ کا ہنگامہ اور جے آئی ٹی کا شور سنائی دیتا ہے۔ یہ وقت فیصلے کا ہے صبروبرداشت کا مظاہرہ کیا جائے اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی اہمیت کا حامل قرار پائے گا۔ اداروں کو متنازع بنانے سے گریز کیا جائے۔
کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال
پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے عالمی برادری اور متعلقہ عالمی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے کشمیری نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں‘ بھارت کشمیری عوام کو قتل کرنے کے لئے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ساری امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ‘حقانی نیٹ ورک پاکستان میں موجود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں ہے‘ پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا تھا‘ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں‘ افغانستان میں ناکامی کی ذمہ داری پاکستان پر مت عائد کی جائے‘ بھارت کو ملٹری ٹیکنالوجی کی فراہمی پر شدید تشویش ہے‘ پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی سے غافل نہیں ہے‘ پاکستان میں دہشت گردوں کی منظم شدہ موجودگی نہیں ہے۔ مبینہ طور پر بھارتی افواج کشمیری عوام کو قتل کرنے کے لئے کیمیکل ہتھیاروں کو استعمال کررہی ہے اور لوگوں کی پراپرٹی کو تباہ کررہی ہے۔ عالمی براری اور متعلقہ عالمی تنظیمیں ان واقعات اور رپورٹوں کی تحقیقات کرائیں۔ حریت قیادت کو نظر بند کیا گیا ہے اور ان کو نماز عید اور نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دی جارہی ہے۔ امت مسلمہ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے اور او آئی سی بھی اس حوالے سے قراردادیں پاس کرچکی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام بند کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے۔ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیک کے حوالے سے غلط دعوے اس کی غیر سنجیدگی کا ثبوت ہیں۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔
ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ
اسحاق ڈار نے بینک سربراہان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاچند گھنٹوں میں ڈالر کی قیمت میں ساڑھے 3روپے کے قریب چڑھاؤآیا۔ڈالر کی اچانک اضافہ ہمارے لیے حیران کن تھا۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر ملا کہ شاید سیاسی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ آیا۔ اوپن مارکیٹ کے طریقہ کار پر ڈالر کو پہلی بار منتقل کیا تھا۔ افسوس ہے کہ اس کی وجہ رابطوں کا فقدان تھا۔ ہم بیکنگ کے شعبے کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں۔ بینکوں کے سربراہان سے ملاقات بہت مفید رہی ہے۔ ڈالر کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ انفرادی سطح پر کسی کو بھی قیمت کے تعین کا اختیار نہیں ہے۔ غیرملکی زرمبادلہ کے زخائر21ارب سے زائد ہیں۔ دنیا کی تمام بڑی معیشتوں میں مرکزی بینک کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ تمام اداروں کو اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ پیدا ہونے والے ابہام جلد ختم کیا جائے ۔ اس معاملہ کی فوری انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ایسے اقدامات کرنے ہونگے جس سے اسٹاک ایکسچینج اور روپے کی قدر مستحکم رہے۔