- الإعلانات -

عمران خان…. بعض ڈاکٹرحضرات ،چھوٹا نہیں، بڑا مافیا

ejaz-ahmed

اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل پاکستان تحریک انصاف کے چیر مین عمران خان سے کئی ایسی غلطیاں سر زد ہو رہی ہیں جس سے نہ صرف اُسکی سیاسی ساکھ نُقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اُنکی مقبولیت میں کمی کا با عث بھی بن رہی ہیں۔ مگر جہاں تک عمران خان کے اُس سٹیٹمنٹ اور بیان کا تعلق ہے جس میں عمران خان نے بعض ڈاکٹروں کو ما فیا کہا ہے ،تو میرے نا قص خیال میں عمران خان کا یہ بیان 100 فی صد نہیں بلکہ120فی صد صحیح اور حقیقت پر مبنی ہے۔اگر عمران خان کے اس قسم کے بیان سے بعض ڈا کٹر حضرات سیخ پا ہو رہے ہیں یا اس بیان اور سٹیٹمنٹ کو غلط کہہ رہے ہیںتو اس میں کوئی عقلی دلیل نہیں۔اگر ہم حالات اور واقعات پر غور کر لیں ڈا کٹروں کی اکثریت نے خیبر پختون خواکے زیادہ تر شہروں میں کلینکس، لیبا رٹریاں اور دوائیوں کے سٹورز، ایکسرے،ای سی جی ، سی ٹی سکین ، ایم آر آئی کی مشینیں لگائی ہوئی ہیں اور وہ ہفتے کے مختلف دنوں میں مختف شہروں میں قائم ان کلینکوں اور لیبا رٹریوں کا وزٹ کرکے، مریضوں کو دونوں ہا تھوں سے خوب لو ٹتے اور سرکاری ڈیوٹی سے جان چُھڑاتے ہیں۔ اپنی بھا ری فیسوں کے علاوہ دوائیاں بھی بیچتے ہیں اور مختلف قسم کے مہنگی ٹسٹ بھی مریضوں کو تجویز کرتے ہیں۔یہ ڈاکٹر حضرات سرکاری ہسپتا لوں کے بجائے زیادہ وقت اپنے کلینکوں اور لیباٹریوں کو دیتے ہیں۔ جن ہسپتالوں میںیہ ڈا کٹر کام کر رہے ہوتے ہیں،وہاں پر مریضوں کے ساتھ انکا رویہ وہ نہیں ہوتا جو اُنکا مریضوں کے ساتھ اپنےپرائیویٹ کلینکس میں ہوتا ہے۔کئی دوا ساز ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں اور ادارے اپنی نئی پروڈکٹ تیار اور لنچ کر کے ڈا کٹروں کو بھاری رقوم اور مختلف سہولیات اور مراعات دیکر ان سے مریضوں کو لکھواتے ہیں۔ اسی طر ح دوا ساز کمپنیاں اور ڈاکٹر حضرات دونوں غریبوں کولوٹ کر خوب کمائی کرتے ہیں۔وطن عزیز اور بالخصوص خیبر پختون خوا میں ڈاکٹروں کی فیس لینے کے لئے کو ئی معیار اورقاعدہ مقرر نہیں۔ایک ڈاکٹر ایک سرجری کے لئے ایک فیس اور دوسرا ڈاکٹر اس قسم کی سر جری کی دوسری فیس لیتا ہے ۔اگر اس میں ہزار دو کا فرق ہو تو پھرکوئی بات نہیں مگر اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ان میں حد سے فرق اور تفاوت ہوتا ہے۔میں کئی ایسے ڈاکٹروں کو جانتا ہوں جو کئی دواسا ز کمپنیوں سے پیسے لیکرمریضوں کو غیر ضروری اور مہنگی دوائیاں لکھواتے ہیں ۔ میں شام کو ایک کیمیسٹ کے دکان پر بیٹھا رہتا ہوں ۔ وہاں پر مخلف ڈاکٹروں کے نُسخے آتے ہیں ان نُسخوں میں کئی ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جنکی قیمتیں انتہائی زیادہ ہوتی ہیں۔ مگر ڈاکٹر مریضوں کو اس قسم کی دوائیاں بلا ضرورت لکھواتے ہیں کیونکہ اسکے عوض وہ دواساز کمپنیوںسے مختلف قسم کی ناجائز مراعات لیتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے اس قسم کے رویوں کا دو طریقوں سے علاج کیا جا سکتا ہے ایک دین سے اور دوسرا قانون سے۔ بد قسمتی سے دین کو ہم نے چھوڑا ہے ۔اور اگر ہم مسلمان ہیں تو برائے نام اور وراثتی۔ اگر ایک انسان کاصرف اس بات پر یقین ہو کہ اُس نے مرنا ہے اور اللہ کو جواب دہ ہو نا ہے تو میرے خیال میں اُس سے گناہ صغیرہ تو سر زد ہو سکتا ہے مگر وہ بڑا گناہ یعنی گناہ کببیرہ سے پہلے وہ 100 دفعہ سوچے گا، مگر بد قسمتی سے اُس دین کو جس کو غیر مسلموں نے اپنا یا ہوا ہے اُس سے مُستفید ہو رہے ہیں اور ہم نے اس دین کے ساتھ برائے نام منسلک ہیں۔ دوسرا اس قسم کے مسائل علاج قانون سے کیا جا سکتا ہے مگر بد قسمتی سے اسکانفا ذ صرف غریب کے لئے ہے ، امیر کے لئے کوئی قانون نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر حضرا ت اس میںلو پ ہول نکالتے ہیں اور ناجائز کمائی کرتے ہیں۔اکثر دوا ساز کمپنیوں کی طر ف سے ڈا کٹر حضرات کو گا ڑیاں دی جاتی ہیں انکو بیرون ملک سیر و سیاحت کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اُنکو عمرے اور حج کروائے جاتے ہیں ۔ اُنکی بچوں کی سکولوں اور کا لجوں کی فیسیس دی جاتی ہیں ۔ انکے لئے پلاٹ خریدے جاتے ہیں انکی کو ٹیاں دواساز کمپنیوں کی طر ف سے بنائی جاتی ہیں ۔ انکے کلینکس کیلئے فر نیچرز اور دوسری چیزیں خریدی جا تی ہیں۔اور یہ سب کچھ اسلئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس قسم کے کرتوتوں سے ڈاکٹر حضرات اور دواساز کمپنبیاں دونوں نا جائز طریقے سے اپنا پیٹ دو زخ کی آگ سے بھرتے ہیں۔کئی ڈاکٹروں نے اپنے نر سنگ ہوم کھولے ہوئے ہیں ، جس میں وہ مریضوں کو ایڈ مٹ کرتے ہیں اور یوں ہسپتال کی جگہ ان نر سنگ ہومز اور میڈیکل سنٹرز میں مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک والد نے اپنے لخت جگر ہسپتال میں دا خل کر وایا ۔ ڈا کٹر نے بچے کو اتنے مہنگے انجکشن لکھوائے کہ والد نے جمع پو نجی ختم ہو نے کے بعد لخت جگر کی جان بچانے کےلئے جانور بیچنا شروع کئے۔اگر ہم غو ر کر لیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹری اور حکمت کا شعبہ جو عبادت کا درجہ رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے بعض ڈا کٹر حضرات نے اس پیشے کو بد نام کر رہے ہیں اور عبادت کے بجائے اس پیشے سے صرف لوگوں کو لوٹتے ہیں۔ میں سٹیلائٹ ٹاﺅن میں واقع ایک ماہر چشم اور ہو لی فیملی ہسپتال کے ایک پروفیسر کے پا س چیک کر نے گیا ۔ایک ہزار روپے فیس دینے کے بعد ڈا کٹر صا حب نے میری آنکھوں کا معائنہ کیا ۔ اور دو ہزار مزید فیس ایک اور ٹسٹ کرنے کی لے لی۔پر و فیسر کے مطابق میرے آنکھوں میں سفید اور کالا مو تیا دونوں بن رہے تھے ´۔ میں نے ڈاکٹر صا حب سے نظر چیک کر نے کو کہا ´مو صوف نے میری نظر چیک کی اور عینک بنانے کا کہا۔میں نے نزدیک شفاءآپٹیکل میں عینک بنوانے کا آرڈر دیا ۔ دو دن بعد جب عینک پہن کے چیک کرنے لگا تواُن میں کچھ نظر نہیں آر ہا تھا۔میں ایک اور پر و فیسر اور ما ہر چشم کے پا س چلا گیا اور اس سے استد عا کی کہ وہ میری آنکھوں کا پو را طبی معائنہ کر لیں۔اُنہوں نے کا فی معائنے اور تشخیص کے بعد کہا کہ آنکھیں بالکل ٹھیک ہیں البتہ نظر میں تھو ڑی سی تبدیلی آ رہی ہے ۔میں نے پو چھا کیا میری آنکھوں میں سفید یا کالا مو تیا بن رہا ہے ، ڈا کٹر نے کہا اللہ کے فضل سے ایسی کوئی بات نہیں۔ اُنہوں نے میری نظر چیک کی اور اُسی نُسخے کے مطابق عینک تیا ر ہوئی اور اب اللہ کے فضل وکرم سے میری دور اور نزدیک کی دونوں نظر ٹھیک ہے۔ اکثر زنانہ مریضوں کو بچے کے پیدائش کے دوران آپریشن کی بھی ضروت نہیں ہو تی مگر قصائی ڈاکٹر اُنکا آپریشن بغیر کسی ضرورت کے کر واتے ہیں۔ پنڈی میں ایک ای این ٹی سپیشلسٹ کو جانتا ہوں جو بھی مریض اُس کے پاس جاتا ہے وہ ۵۹ فیصد مریضوں کا گلے یا ناک کا آپریشن بلا ضرورت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض ڈا کٹر چھوٹا ما فیا نہیں بلکہ بڑے بڑے اژدھے اور سانپ ہیں جو غریب وگوں کو نگل رہا ہے۔