- الإعلانات -

کیا بی جے پی کا زوال شروع ہو گیا ہے؟

riaz-ahmed

حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست بہار میں ذلت آمیز شکست نریندر مودی کیخلاف عوامی ریفرنڈم ہے۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی اور مسلم کش فسادات کی سیاست بھی بی جے پی کو شکست سے نہیں بچا سکی۔ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ کشمیر کے بعد نہتے مسلمانوں کی قتل و غارت گری کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی میں مظلوم کشمیریوں کیلئے اقتصادی پیکج کے دعوے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی نے ریاست بہار میں انتخابات سے قبل ہند وانتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ دیکر نہتے مسلمانوں پر مظالم کی انتہا کر دی۔ کبھی گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگا کر مسلم کش فسادات برپا کئے گئے۔ اخلاق احمد جیسے بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا تو کبھی عیسائیوں وسکھوں کی عبادت گاہوں اور مذہبی کتب کی بے حرمتی کی گئی۔ اسی طرح نچلی ذات کے ہندوﺅں پر بھی بربریت کی انتہا کر دی گئی اور پورے ہندوستان میں طوفان بدتمیزی برپا کر دیا گیا۔بی جے پی کی قیادت سمجھتی تھی کہ شاید اس طرح کے اقدامات کے ذریعہ وہ ہندوﺅں کے جذبات بھڑکا کران کے ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے گی لیکن بی جے پی کے اس نظریہ کو بہار کے غریب عوام نے مسترد کر تے ہوئے انتہا پسندوں کے غروروتکبر کو خاک میں ملا دیا ۔
بی جے پی نے مذکورہ ریاستی انتخابات جیتنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ہندوﺅں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کیلئے پاکستان دشمنی کی بھی انتہا کر دی گئی لیکن اس سب کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ بہار کے 243 کے ایوان میں مودی کی قوم پرست پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو صرف 58 نشستیں حاصل ہو سکیں۔ جبکہ ان کے مدمقابل بہار کے سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار، لالو پرشاد اور کانگریس کے گرینڈ الائنس ”جنتا دل“ کو 178 نشستیں حاصل ہو گئیں جو ایوان کی دو تہائی اکثریت ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی کی اپنی صرف 53 نشستیں ہیں جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ بہار کے عوام نے مودی کی انتہا پسند پالیسیاں یکسر مسترد کر دی ہیں چنانچہ پاکستان دشمنی اور گائے کارڈ بھی ان کے کسی کام نہ آیا۔ انہوں نے بہار میں اپنی پارٹی کو کامیابی دلانے کے لیے ریکارڈ 30 انتخابی جلسے کیے اور مسلم دشمنی کے جذبات ابھارنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر بہار کے عوام نے ان کو اس انتہا پسندانہ سوچ کی بنیاد پر ٹھینگا دکھا دیا اور ان کے ہندو ازم کے بھوت کی بھی خوب ٹھکائی کی۔ اس انتخاب کے نتیجہ میں دو بار وزیراعلیٰ رہنے والے نتیش کمار کی بطور وزیراعلیٰ تیسری ٹرم کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے جن کی پاکستان کے ساتھ سازگار دوستانہ تعلقات کی خواہش کے پیش نظر بھارت کے سیاسی پنڈت بھارتی سیاست میں ان کے مودی کے مدمقابل آنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
مودی سرکار نے ریاستی اسمبلی بہار کے انتخابات کے حوالے سے ہندوازم کے فروغ پر مبنی جارحانہ پالیسی اختیار کی اور اس پالیسی کے تابع ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے بھارتی مسلمانوں کی تضحیک کا سلسلہ شروع کیا۔ پاکستان سے آنے والے دانشوروں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور دوسرے مکاتب زندگی کے لوگوں کو بھارت سے واپس جانے پر مجبور کرنے کے جارحانہ اقدامات کا بھی آغاز کیا۔ جن کے خلاف مودی سرکار نے کسی قسم کی کارروائی نہ کر کے ان غنڈوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہونے کا عندیہ دیا ۔چنانچہ مودی سرکار کی ان انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بیرونی دنیا میں بھی سخت ردعمل پیدا ہوا اور خود بھارت کے اندر اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی۔ بھارتی دانشوروں اور فنکاروںنے مودی سرکار کی اس پالیسی کو بھارت کے سیکولر چہرے پر بدنما داغ سے تعبیر کیا اور اپنے اعلیٰ سرکاری میڈل واپس کر کے اپنے سخت ردعمل کے اظہار کا سلسلہ شروع کیا۔
بہار میں بی جے پی کی شکست کو مودی کی تعصب اور عدم برداشت کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ بھارت کے لوگ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں اس لئے بہار کے انتخابات میں انہوں نے بی جے پی کی نفرت کی سیاست کو شکست دی ہے۔ اب بہار کے عوام کے مینڈیٹ کے مطابق نتیش کمار ہی وزیر اعلیٰ بنیں گے جو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے دوبار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں اور اپنے ملک واپس جا کر بھی پاکستان بھارت خیر سگالی کے دوستانہ تعلقات کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ یقیناً اب ان کی یہ سوچ اور سیاست بی جے پی کی نفرت انگیز سیاست پر حاوی ہو گی۔
اپنی انتہا پسندی کا مودی سرکار نہ صرف ریاستی انتخابات میں خمیازہ بھگت رہی ہے بلکہ اس کی قومی سیاست کو بھی سخت دھچکا لگ رہا ہے۔ چنانچہ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی اس سیاست کا بولورام ہونے کا قوی امکان ہے۔اگر یہی حال رہا تو بی جے پی کو آنے والے انتخابات میں دیگر ریاستوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔