- الإعلانات -

ترکی کی اقتصادی ترقی اور پاکستان

syed-rasool-tagovi

ترکی میں دو نومبر کو ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں طیب اردگان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) نے فتح حاصل کر لی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ تک ترکی کی سیاست پر حاوی رہنے والی جماعت ’اے کے پی‘ نے پارلیمانی انتخابات میں 49.4 فیصد ووٹ لے کر پارلیمنٹ کی 550 میں سے 316 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس طرح حکمراں جماعت ایک بار پھر تنہا حکومت قائم کرسکتی ہے۔ حکمراں جماعت کا پارلیمانی انتخابات میں تقریباً 50 فیصد ووٹ لینا حیران کن ہے کیونکہ انتخابات سے قبل کیے جانے والے مختلف سروے کے نتائج سے یہ بات واضح ہورہی تھی کہ اے کے پی رواں سال ماہ جون کی طرح اس بار بھی انتخابات میں 40 فیصد سے زائد ووٹ حاصل نہیں کرسکے گی، لیکن انتخابات کے نتائج اس سے مختلف رہے۔طیب اردگان کی جماعت کی بھاری اکثریت میں کامیابی پر صدر اور وزیراعظم پاکستان نے خصوصی پیغامات میں نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک باہمی تعمیر و ترقی کےلئے ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔پاک ترک تعلقات اسلامی ثقافت کے گہرے رنگوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ۔30ستمبر 1947ءکو جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے والا دنیا کا 56واں ملک بن رہا تھا تو پاکستان کی حمایت میں ترکی کے مندوب نے ایسی جاندار تقریر کی تھی کہ اجلاس میں موجود 54ممالک میں سے 53نے پاکستان کی حمایت کی،اس موقع پرصرف اکیلے افغانستان ہی ایسا ملک تھا جس نے مخالفت کی تھی۔
ڈیڑھ سال کے اندر چار بار انتخابی عمل سے گزرنے والا اور موجودہ جنگوں، مہاجرین اور اقتصادی بحران کے دلدل میں پھنسے علاقے کے عین وسط میں واقع ترکی دنیا میں تیز ترین طریقے سے ترقی کی جانب گامزن ساتواں ملک ہے۔ ترکی کی تاریخ کئی سیاسی و اقتصادی نشیب و فرازسے دوچار رہی ہے۔مگر اس کے ماضی قریب کے چند عشروں کا جائزہ لیا جائے تو جہاں اسے کمال اتا ترک نے نئی پہچان دی وہاں ایک طویل عرصہ بعد طیب اردگان اسے نئے ڈگر پر لے کر چل رہے ہیں۔پاکستان کی ہر حکومت ترکی ساتھ اچھے مراسم قائم رکھتی رہی ہے،مگر موجودہ حکومت بڑی تیزی کے ساتھ اردگان حکومت کے قریب ہو رہی ہے۔ابھی دو روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ترکی کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ ترکی اور پاکستان کی ثقافت میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ لاہور میں مال روڈ پر استنبول چوک کا افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استنبول چوک پاک ترک دوستی کی علامت ہے، پاکستان اور ترکی کے مابین دوستانہ تعلقات مفید معاشی روابط میں بدل رہے ہیں“۔ ایسے خیالات خوش کن ہیں ،یقیناً حکمرانوں کو اپنے دوست ملک کی تیز رفتار ترقی سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے ،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ترکی نے یہ مقام کیسے حاصل کیا ۔ کیا پاکستان میں وہ پوٹینشل نہیں کہ وہ کم از کم ترکی کے ہم پلہ بھی نہیں ہوسکتا؟۔ تجزیہ نگاروں کے نزدیک 1980ءاور1990ءکے عشرے تک ترکی کا حال بھی پاکستان سے کوئی مختلف نہیں تھا۔ معیشت اور سیاست سمیت ہر شعبہ زوال پذیر تھا، لیکن ایک مخلص سیاسی قیادت نے جب زمام اقتدار سنبھالی تو اس نے دو چیزوں پر خصوصی توجہ دی۔ایک تعلیم پر خصوصی توجہ دی گئی، دوسرا ترک عوام اور معاشرے میں ملک اور وطن کی بہتری اور ترقی کا احساس اجاگر کیا گیا۔ تعلیم، عوامی شعور اور اقتصادی بہتری نے ترکی کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیا۔ آج ترک عوام اچھے اور ب±رے کی تمیز کر چکے ہیں، کون ملک کے لئے بہتر سوچ رہا ہے اور کون ذاتی مفاد کے لئے کام کر رہا ہے ، لہٰذا وہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔ ترکی کی ترقی سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان گزشتہ چند عشروں سے جن معاشی، سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان سے نجات کیلئے ترکی کی معاشی واقتصادی پالیسیوں سے فائدہ اُٹھاناچاہئے۔1981ءسے 2003ءتک چار فی صد شرح نمو کے ساتھ قابل تقلید ترقی کی ہے، جس کے نتیجے میںگزشتہ دس سال سے بھی کم عرصے میں ترکوں کی فی کس آمدن دس ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ ترکی میں سیاحت باقاعدہ صنعت کا درجہ رکھتی ہے اور اس مد میں سالانہ آمد ساڑھے تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جس سے ترکی کو سالانہ تئیس ارب ڈالرز کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ بینکنگ، تعمیرات، الیکٹرونکس، گھریلو آلات، ٹیکسٹائل، تیل کی صفائی، پیٹروکیمیکلز، خوراک، کان کنی اور لوہے کی صنعت میںبھی ترکی کوایک خاص مقام حاصل ہے۔
طیب اردگان جب اقتدار میں آئے تو ترکی نے آئی ایم ایف کا 23.5بلین ڈالر قرض دینا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکیمانہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے پہلے قرض اتارا اور پھر آئندہ کسی قسم کا قرض نہ لینے کی ٹھانی جس میں نہ صرف وہ کامیاب رہے بلکہ آئی ایم ایف کے چنگل سے جان خلاصی کرائی۔کامیاب پالیسیوں سے افراط زر پر قابو پایا،عوامی فلاح کے کئی پروگرام شروع کئے،مثلاً 18سال کی عمر سے تمام افراد کو مفت طبی سہولتوں کی فرہمی، ریٹائرمنٹ کی عمر میں دھیرے دھیرے اضافہ، جس سے2036ءسے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہو جائے گی اور 2048ءمیں مرد اور عورت کے لئے یہی عمر برابر ہو جائے گی۔جدید ترکی کی ترقی کا راز اس کی پالیسیوں اور ا±ن پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمدمیں ہے۔ مغرب کیترقی کی تقلید میں حرج نہیں لیکن یہی راز ہمیں اپنے کسی دوست ملک سے مل جائے تو اس سے زیادہ سستا سودااور کیا ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک میں ایسی بہت سی اشیا خام مال ،افرادی قوت،تجربہ ،مشنری ،موجود ہیں جس کی دونوں ممالک کو ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس ،کپاس ، ٹیکسٹائیل ،یارن ،جراحی کے آلات ،ادویات کھلیوں کا سامان خام چمڑہ،مصنوعات ،چاول ،زرعی اجناس ،پھل ،دودھ ،گوشت ،سیمنٹ ،ماربل ،سستی افرادی قوت،کوئلہ،نمک وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ ترکی کے پاس توانائی ،مشینری ،آٹو موبائل ،تجربات ،تعمیرات کا فن ،پیکنگ مصنوعات کا عالمی معیار ونڈ سولر،اور ہائیڈروانرجی سسٹم ،سیاحت جیسے کامیاب شعبے موجود ہیں جن سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب متوجہ کرنے کی بھر پور کوششیں کر رہی ہے لیکن اصل ضرورت ترکی کی پالیسیوں کو آزما کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔