- الإعلانات -

اودھم مچانے کے بجائے عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے

ساٹھ دن کے طویل انتظار کے بعد پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)نے مقررہ وقت کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ گزشتہ روز تین رکنی بنچ کے رو بروجمع کرادی،جس میں وزیراعظم نوازشریف،اُن کے بچوں حسین،حسن نواز اور مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔رپورٹ دس جلدوں پر مشتمل ہے جبکہ سوائے جلد نمبر دس کے باقی تمام رپورٹ پبلک بھی کر دی گئی ہے۔ادھر حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی قراردے کر مسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کااعلان کیا ہے جبکہ وزیراعظم کو مستعفی نہ ہونے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔جے آئی ٹی نے جس عرق ریزی سے رپورٹ پیش کی اس کو تمام حلقوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ پاناما کیس اب اہم ترین موڑ پر آ گیا ہے۔ایک سال سے زیر سماعت یہ کیس اب اپنے منطقی انجام کے قریب ہے۔بہت سے نکات اب واضح ہو گئے ہیں۔جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بڑے قرضوں اور تحفوں کی شکل میں رقوم کی ترسیل میں بے قاعدگی پائی گئی ہے،ذرائع آمدن کے متعلق واضح جوابات نہیں دیے گئے،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف آمدن سے زائد دولت رکھنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔پاکستان میں موجود کمپنیوں کا مالیاتی ڈھانچہ اور ان کی حیثیت مدعدعلیہان کی دولت سے مطابقت نہیں رکھتی اس لئے نیب آرڈیننس اورقانون شہادت کے حوالے دینے پرمجبورہیں، آف شورکمپنیوں نیسکول لمیٹڈ،نیلسن انٹرپرائزز،الانہ سروسز،لیمکین،کومبر گروپ اور ہلٹن انٹرنیشنل کے ذریعے برطانیہ میں کاروبار کیاجاتارہا،انہی کمپنیوں کو ترسیلات زر کیلئے استعمال کیا گیا،انہی رقوم سے نہ صرف برطانیہ میں مہنگی جائیدادیں خریدی گئیں بلکہ فنڈز برطانیہ،سعودی عرب،یو اے ای اور پاکستان میں موجود کمپنیوں کے درمیان تقسیم ظاہر کرنے کے کام بھی آئے، اسی طرح دیگر بے قاعدہ ترسیلات لندن کی ہل میٹل کمپنی اور یو اے ای کی کیپٹل ایف زی ای کمپنیوں سے ہوئیں،اس لیے مدعا علیہان کی طرف سے یہ موقف اختیار کرنا کہ لندن کی پراپرٹیز کاروبار کی وجہ سے تھیں،آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔جے آئی ٹی کے مطابق نیب آرڈیننس 1999 اور اور قانون شہادت آرڈر 1984 کی دفعات کے تحت یہ تمام معاملات بدعنوانی کے زمرے میں آتے ہیں۔جے آئی ٹی نے بحکم اعلیٰ عدلیہ اپنا کام اور رائے معزز بنچ کے سامنے رکھ دی ہے۔ اب یہ معزز بینچ پر منحصر ہے کہ وہ اس رپورٹ کو مکمل طور پر پرکھنے کے بعد کیا رائے قائم کرتی ہے تاہم تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کر کے اہم کام کیا ہے جس سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو متنازعہ بنانے اور ابہام پھیلانے کی جو عمدا” کوشش کی جا رہی تھی وہ دم توڑ گئی ہے۔یہ ایک گہری سازش تھی جس کی سپریم کورٹ نے بروقت بیخ کنی کر دی۔یہاں حکومتی حلقوں کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ بھی افسوسناک ہے کہ ایک بار پھر جے آئی ٹی کے خلاف سخت زبان استعمال کر کے بادی النظر میں اعلیٰ عدلیہ کے حکم کی توہین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال ،وزیردفاع خواجہ محمد آصف،ظفر اللہ خان،شاہد خاقان عباسی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران پاناما کیس کی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سیاسی بیانیے کو رپورٹ کی شکل میں پیش کیا ہے ،کوئی مائنس ون فارمولہ نہیں چلے گا ،ان ہتھکنڈوں سے عوامی مینڈیٹ کی نفی نہیں کی جاسکتی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جے آئی ٹی میں چن چن کر ہمارے سیاسی مخالفین کو شامل کیا گیا، یہ دھرنا ون ،دھرنا ٹو کی ناکامی کے بعد جے آئی ٹی کی رپورٹ دھرنا تھری ہے۔انہوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ بلال رسول ق لیگ کے رہنما میاں اظہر کے بھانجے ہیں،کیسے فیئر ہوسکتے ہیں ،عامر عزیز نے مشرف دور میں شریف خاندان کیخلاف ریفرنس بنایا،ان کا مزید کہناتھاکہ کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی تو شروع ہوئی ہے،عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی ہے،امید ہے ہمارے ساتھ انصاف ہوگا ، سازش نہیں ہوگی۔پانامہ کیس جہاں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے لیے کٹھن مرحلہ ہے وہیں پاکستان کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کیلئے بھی سیاسی طور پر نہ صرف ایک بحران بلکہ چیلنج بھی ہے۔ملک کی سیاسی تاریخ میں اس مقدمے کے بہت دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔فریقین کو تحمل سے کام لینا ہو گا اچھی بات یہ ہے کہ قبل ازیں فریقین عدلیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے آئے ہیں۔امید ہے حتمی فیصلہ پر بھی ایسا ہی کریں گے، یقیناًعدالت عظمیٰ کا فیصلہ آئین ،قانون اور انصاف کے تمام تقاضوں کے مطابق ہو گا۔فریقین کو چاہئے کہ اپنے ردعمل کے اظہار میں بھی احتیاط برتیں تاکہ ملک میں سیاسی افراتفری کا ماحول نہ بنے۔ملک کو پہلے ہی کئی قسم کے چیلنجز درپیش ہیں۔اگر ماضی کی تاریخ دوہرانے کی کوشش کی گئی تو بھی یقینا” جمہوریت کا مستقبل ایک بار پھر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔سیاسی قیادتوں کی سیاسی بلوغت کو ایسے نازک مواقع پر پرکھا جاتا ہے کہ وہ ملکی مفاد کو ترجیح دیتی ہے یا پھر ذاتی سیاسی مفاد سے چمٹی رہتی ہے۔مسلم لیگ نون کی قیادت کو بھی اب یہی مرحلہ در پیش ہے ۔قانونی جنگ لڑنا اس کا حق ہے لیکن جس طرح کا لب و لہجہ اب تک لیگی رہنماؤں کی طرف سے اختیار کیا جاتا رہا ہے وہ نہایت ہی متنازعہ اور افسوسناک تھا۔قبل ازیں اسی لب و لہجے ہی کی وجہ سے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا سامنا تو اب عدلیہ نے مزید مسلم لیگی لیڈروں کی تقاریر کا ریکارڈ مانگ لیا ہے۔اس سے اس کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ معاملات کو اس نہج پر نہ لے جانا ہی سب کے مفاد میں ہے۔
راجناتھ سنگھ ہوش کے ناخن لیں
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق ایک بار پھر کشمیر میں حالات بگاڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر ملک میں کسی بھی طرح کی دہشتگردی ہے تو وہ پاکستان کی حمایت یافتہ ہے۔ نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت میں جب جنگجوؤں کو شہید کیا جاتا ہے تو پاکستان میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے ہمارا پڑوسی ناپاک حرکتیں کر رہا ہے ۔ ہمیں کشمیر کی صورت حال پر تشویش ہے اور حکومت اسے بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔راجناتھ سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کر ڈالا کہ پاکستان اب لائن آف کنٹرول پر بار بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر کے بھارتی شہریوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے ۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت خطے میں پائی جانے والی دہشت گردی کی آڑ میں چھپا ہوا ہے۔پاکستان سے بات چیت نہ کرنے کی سرکاری پالیسی اپنا لی گئی ہے۔پاکستان بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اپنے گھر سے بے خبری کے مترادف ہے۔بھارت کو اندرونی طور پر کئی علیحدگی تحریکوں سے واسطہ ہے ان دنوں بھی ریاست مغربی بنگال کے شہر دارجیلنگ میں علیحدگی کی تحریک عروج پر ہے اور گورکھا لینڈ کے حامیوں نے علیحدہ وطن کے مطالبے کیلئے نئی دہلی کے جنتر منتر کا رخ کرلیا ہے۔ دارجیلنگ کے باسی بھارتی ظلم و ستم سے تنگ آکر اب الگ وطن گورکھا لینڈ کی تحریک چلارہے ہیں، پرتشدد مظاہروں میں 5 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی بھی ہوچکے ہیں۔پاکستان کو بھارت میں عدم استحکام کیلئے اپنی توانائی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بھارت کو گھر کے چراغ سے پہلے ہی آگ لگی ہوئی ہے۔