- الإعلانات -

دہشت گردی کا طرفداربھارتی سوشل میڈیا

پاکستان کے بیس کروڑعوام کو پہلے توخود یہ سمجھنا ہوگا پھر دنیا کو باورکرانا پڑے گا کہ مسلم دنیا کے واحد ایٹمی ڈیٹرنس سے لیس تسلیم شدہ ملکِ پاکستان کوگھیرنے اس پرمسلسل اپنی غیرمرئی اوروحشیانہ طاقت کا دباو ڈالے رکھنے کی علاقائی وعالمی مذموم سازشیں نہ کل کامیاب ہوسکی تھیں نہ آئندہ کبھی ان کی سفاکانہ بربریت کے قتال وجدال کی خفیہ اورمذموم شیطان صفت انسانیت کش سرگرمیوں کے حربوں سے اورخونریزقابل شرم ہتھکنڈوں کے زور پروہ پاکستانی قوم کے پختہ اورسیسہ پلائے عزمِ صمیم کومتزلزل کرسکتی ہیں یقیناًقوم ملال کی صورتِ حال سے ضرور گزر رہی ہے پاراچنارکوئٹہ اور کراچی میں 23 جون کو یک بعد دیگرے رونما ہونے والے افسوس ناک لائقِ نفریں دہشت گردی کی کارروائیوں پر ابھی افسردہ اورغم زدہ ضرور ہے، مگر اپنے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو اپنی چادروں میں جمع کرتے ہوئے قوم ایسی ہی دہشت گردی کے ہر واقعہ پر پہلے سے بخوبی جان چکی ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کے آ لہِ کارخونخواربھیڑیوں کی شکل میں عصرِ حاضر کے منکرانِ دین پاکستانیوں کے خون کی پے درپے جو ہولیاں کھیل رہے ہیں قوم ان ہاتھوں کو بھی پہچان کل بھی پہچانتی تھی آج بھی خوب جانتی ہے جو نئی دہلی اور کابل میں بیٹھے اِن کی ڈوریاں ہلاتے ہیں پارہ چنار کے مسلمانوں پر تباہ کن قیامتیں ڈھانے کا یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے پارا چنار کا شائد ہی ایسا کوئی گھر ہو گا جہاں سے کسی بے گناہ کی لاش نہ اٹھی ہو رواں برس 2017 کی جنوری میں بھی انسانی جسموں کے چیتھڑے پاراچنار میں اڑائے گئے یکم اپریل 2017 کو بھی فرقہ وارانہ نفرت کی آگ میں جھلستے شیطان صف وحشی گروہوں نے کرم ایجنسی میں پاراچنارکو اِسی طرح سے انسانی لہو سے رنگین کردیا تھا ، جیسے گزشتہ دِنوں 23 جون کو ماضی کے تسلسل میں ایک بار پھر آئینِ پاکستان کے منہ زور باغیوں نے کھلے فتنہ وفساد کے پیروکاروں نے نہ انسانیت کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا نہ ہی دینِ اسلام کی الہی تعلیماتِ مقدسہ کے اصولوں کی پاسداری کا احترام کیا بلکہ نہایت بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ معصوم عورتوں بچوں بزرگوں اورنوجوانوں کے اجتماعی قتل وغارت گری کا کھیل کھیل کر وحشی ظالم کتنی آیاتِ قرآنی سے مکمل انحراف کے مرتکب ہوئے انہیں کتنی بار حادیثِ نبی کے حوالے پیش کیے جائیں؟ منکرانِ قرآن مجید مانتے ہی نہیں’ منکرانِ حدیث احکامِ نبی کچھ سننے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے اصل میں اِن کے اپنے کوئی مقاصد نہیں یہ تو کرایے کے قاتل ہیں اِن کا کوئی مذہب نہیں ہے کوئی ذات پات نہیں اِن کی صرف ایک ہی شناخت اور پہچان ہے کہ یہ جنونی وحشی دہشت گرد ہیں اِنہیں کوئی واسطہ نہیں کہ اِس انسانی اجتماع میں کوئی تسبہیح وتہلیل کرنے والا باشرع مسلمان ہوگا نمازِ پنجگانہ ادا کرنے والا کوئی ہوگاکوئی روزہ دار ہوگا تہجد گزار ہوگا قیام اللیل اداکرنے والا ہوگا، اِن لائق جہنم دہشت گردوں کو اِن باتوں سے رتی برابر کوئی غرض نہیں ہوتی، افسوس صدہا افسوس! مجمعوں کے مجمعوں کو منٹوں سیکنڈوں میں انسانیت کے یہ ظالم وسفاک دہشت گردرا اور این ڈی اے کی گمراہ ہدایاتوں پر جلاکر راکھ کردیتے ہیں اور نہایت بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ بڑی ڈھٹائی سے خود قبول کرلیتے ہیں کہ ‘ہاں یہ دہشت گردی ہم نے کی ہے ‘ جرم کا اعتراف برسرعام؟یہ کیسی فساد انگیزی اور فتنہ انگیزی ہے جن کی پرورش برسہابرس سے بھارت سے افغانستان میں اب تو خود روپودے کی طرح پھل پھول رہی ہے امریکا اور چند مغربی ممالک نے افغانستان کو مسلسل عدم استحکام رکھنے کی پالیسی پر باہم ایکا کیوں کیا؟ یہ سوال اپنے اندرہی اپنا تشفی جواب رکھتا ہے، افغانستان سے پرے وسطی ایشیائی ریاستوں کے زیر زمین موجود برسہا برس تک قیمتی قدرتی وسائل کی بندربانٹ تبھی ممکن ہوگی نا جب افغانستان میں آئین ہو اور نہ ہی وہاں کی لااینڈ آرڈر کی صورتحال کبھی مستحکم ہو پائے پاکستان اورایران کی موثراوراہم جغرافیائی اسٹرٹیجک اہمیت کو صرفِ نظر کر کے دنیا کا کوئی بھی ملک وسطی ایشیائی ریاستیں تو رہیں ایک طرف وہ افغانستان کی سرزمین پر اپنا قدم نہیں رکھ سکتا 11/9 تو صرف عالمی بہانہ تھا جسے دنیا اس وقت تسلیم توکرلیا اب ایسا دوبارہ کوئی اور11/ 9 نہیں آسکتا لہذاسی آئی اے کی مکمل آشیر بادپاکر را اور این ڈی اے نے افغان سرحدکے قریبی پاکستانی علاقوں میں اپنے تربیتِ یافتہ دہشت گرد گروہوں کے ذریعے دہشت گردی کروانا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے ایک جانب یہ سنگین صورتحال دوسری جانب دنیا کو مسلسل دھوکہ میں رکھنے کے لئے اپنے زیر استعمال سوشل میڈیا کے ذریعے سے بے سروپا جھوٹی اور من گھڑت اسٹوریاں وائرل کروائی جارہی ہیں تاکہ پاکستانی سپریم انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی بدنام ہوسکے غیر جانبدارعالمی رائےِ عامہ کو گمراہ کیئے رکھنے کے لئے بھارتی سیکورٹی اداروں نے مختلف ٹائٹیلز کے کئی سوشل میڈیا ادارے سرگرم کررکھے ہیں 9 جون کوایسے ہی ایک بھارتی سوشل میڈیا’دی نیوز منٹس نے ایک بڑی جھوٹی من گھڑت خبراپنی سائٹ پروائرل کی تھی جس میں بے سروپا جھوٹا دعوی یہ کیا گیا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بقول بھارتی آئی بی کے اگلے15 دِنوں میں بھارتی زیرکنٹرول جموں وکشمیر کے علاقہ ضلع کھتوا میں پہلے سے بھیجے گئے اپنے ایجنٹوں کومہلک اسلحہ اورگولہ بارود بھیجنے والی ہے یہ کھوج بھارتی آئی بی نے لگائی ہے؟’لہذابھارتی سیکورٹی ادارے چوکس ہوجائیں؟’آج 30 جون ہے، بھارتی آئی بی کی ڈیسک کھوج کی خبر کتنی جھوٹی ثابت ہوئی اندازہ دنیا نے خود ہی لگا لیا ہوگا، ضلع کھتوا میں توکچھ ہوا ہی نہیں مگر دنیا کی توجہ حاصل کرنے کی اِس ناکام کوششوں کا نتیجہ کیا نکلا؟ جبکہ اِس دوران پاکستان کے مختلف اہم اورحساس علاقوں میں کلبھوش یادیونیٹ ورک نے اپنے مسلح کارندوں کے ذریعے سے کتنی بڑی وحشیانہ دہشت گردی کی کارروائیاں کیں جس میں ڈیڑہ سو کے قریب پاکستانی شہری اورسیکورٹی اداروں کے درجنوں اہلکاراپنی قیمتی جانوں سے گئے، شدید زخمی ہونے والوں کی بڑی تعداد الگ ہے، کرم ایجنسی میں پاراچنار میں ہوئے دوبم دھماکوں کی ذمہ داری بھی افغانستان میں پناہ لیئے ہوئے مسلح دہشت گرد گروپ نے قبول کرلی ہے بھارتی سوشل میڈیا دی نیوز منٹس کے پاس وائرل کردہ جھوٹی اور بے سروپا خبر بریک کرنے کا کوئی اخلاقی جواز ہے جسے پیش کرکے وہ اپنی ساکھ پر لگنے والے داغ کو دھوسکے گا؟۔
*****