- الإعلانات -

مشتری ہوشیار باش

uzair-column

نومبراوردسمبر کے مہینوں میں سخت سردی ہوتی ہے اورپھر وفاقی دارالحکومت میں بس ذرا بارش کی دیر ہے پھر تو یہاں کے باسی ٹھنڈ کی وجہ سے ٹھٹھرنے شروع ہوجائیں گے ۔مگر آمدہ دن کچھ اور ہی خبریں سنا رہے ہیں ۔ان یخ بستہ راتوں میں کوئی گرما گرم فیصلے ہونگے ۔اب چاہے کوئی چائے کی گرم پیالی میں طوفان برپا کرے یا اپنے اوپر رضائی لیکر گرم فیصلوں سے پہلے اس کی گرمی کو محسوس کرنے کی کوشش کرے مگر ایک بات تو طے شدہ ہے کہ اب کی بار بس ”مشتری ہوشیار باش “ذرا سی بھی غلطی کہیں چائے کی پیالی میں طوفان نہ برپا کردے اور اگر یہ تو طوفان کہیں چائے کی پیالی کے کناروں سے چھلک گیا تو گرم گرم چائے گرنے کی وجہ سے ادھر ادھر بیٹھے ہوئے لوگوں پر بھی اس گرم چائے کی چھینٹیں پڑ سکتی ہیں لہذا بہتر تو یہ ہے کہ وقت آنے سے پہلے چائے کی پیالی کو پہلے سرد موسم میں ٹھنڈے پانی سے ٹھنڈا کرلیا جائے اور اس میں جو چائے ڈالی جائے اسے پھونکیں مار مار کر پی جائے ۔اگربراہ راست ٹھنڈی رات میں گرم چائے کی ”چسکی“ لگا لی تو اس سے پہلے ہونٹ جل جائیں گے اور پھر اس سے منہ اندر سے متاثر ہوگا ،زبان پربھی چھالے پڑ سکتے ہیں ،پھربولنے میں بھی مسائل پیدا ہوں گے اور چائے پینے والا اپنی آواز آگے تک واضح طور پر نہیں پہنچا سکے گا ۔پھر ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی گرم چائے پی رہا ہے تو پہلی گرم چسکی میں وہ اچھل پڑے اور چائے ساری کی ساری گر پڑے اور اس سے زیادہ نقصان کا احتمال ہے ۔بات شروع ہوئی تھی نومبر،دسمبر سے اور استعارے ،قافیے ملاتے ملاتے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھنے لگا تھا کہ خیال آیا کہ اس کو تھم جانا چاہیے کیونکہ کچھ دن پہلے اگر یہ طوفان برپا ہوا تو شاید خس وخاشاک بہا کر لے جائے ۔یہاں بات ذرا منصوبہ بندی کی ہوجائے تو ذرا زیادہ بہتر ہوگا ۔ہم لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ ہمیشہ عید کے پیچھے ٹر کرتے ہیں جب آفات آن پڑتی ہیں تو اس سے بچت کیلئے سرگرم ہوجاتے ہیں لیکن آفت آنے سے قبل کبھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں کہ پہلے سے حفاظتی اقدامات کر لیے جائیں ۔اگر پہلے سے ہی کسی مشکل وقت کے آنے کے بارے میں سوچ لیا جائے تو پھر انسان اس میں اچھے طریقے سے بچ جاتا ہے مگر جب اچانک سر ہتھوڑا آن پڑے تو اس وقت بچت کرنا مشکل ہوتی ہے یہ بات بھی یقینی ہے کہ جب بچت کیلئے پہلے سے اقدامات نہیں کیے جائیں گے تو ایسا شخص حالات میں مگن رہے گا اور وہ یہ سوچتا رہے گا کہ شاید اس پر کبھی آفت آنی ہی نہیں ،شاید وہ کبھی مشکل کا سامنا ہی نہ کرے مگر یہ بھی ایک آفاقی اصول ہے کہ عروج کو زوال لازم ہے اور پھر کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اللہ تعالیٰ کب شاہ کو گدا اور کب گدا کو شاہ بنا دے ۔بات تو ساری اعمال اورافکار کی ہے کہ کون کہاں تک اور کیسے اپنے معمولات زندگی بسر کررہا ہے ۔سردیوں کی راتوں میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ اب جو اس وقت موسم تبدیل ہونے جارہا ہے اس میں عموماً”فلو“زکام کا مرض لاحق ہوجاتا ہے اوریہ ایک ایسی وائرل بیماری ہے جو ایک سے دوسرے ،دوسرے کو تیسرے ،تیسرے سے چوتھے کو لگتی چلی جاتی ہے اور پورا علاقہ متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔اس وائرل کے پھیلنے کا موسم بالکل سر پر موجود ہے ۔ذرا سا بھی ٹھنڈ میں بے احتیاطی کرنے سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے ۔لہذا زکام سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر بہت ضروری ہیں ،راقم یہاں یہ بتاتا چلے کہ یہ کوئی ”مینڈکی کا زکام نہیں “ اگر یہ لگ گیا تو اس سے چھینکیں آنے کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ماﺅف ہوسکتا ہے اور جب دماغ ماﺅف ہوجائے تو پھر آگے پیچھے کچھ نہیں نظر آتا ۔بعض اوقات تو اس طرح ہوجاتا ہے کہ جو شخص زکام سے متاثر ہو اسے بند کمرے میں بغیر رضائی کے بھی رکھ کر دھونی دینا پڑتی ہے تاکہ فلو کے زکام اپنی موت مر جائیں مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ فلو کے زکام مرتے مرتے مریض کیلئے بھی جان لیو ثابت ہوجاتے ہیں ۔بات کہنے کی دراصل یہ ہے کہ زندگی انسان کو صرف ایک مرتبہ ہی ملتی ہے لہذا اس زندگی میں اچھے اعمال کرلینے چاہئیں اور کچھ ایسی یادیں چھوڑ جانی چاہئیں کہ جانے کے بعد کوئی اچھے الفاظ میں یاد کرے ۔کسی کے حقوق کو سلب نہیں کرنا چاہیے جو جس کا حق ہو وہ اس کو دینا چاہیے ۔یہ حقوق چاہے ملکی سطح پر ہوں یا عوامی سطح پر اس میں کوئی عام آدمی ملوث ہو یا کہ حکمران کیونکہ حقوق العباد کو تو اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کرتا اورپھربعض اوقات اس طرح بھی ہوجاتا ہے کہ حقوق کے سوال وجواب ایسے موسم میں ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کہ قابل برداشت نہیں ہوتا ۔ایک تو سرد ہوائیں چل رہی ہوں ،رات کا سناٹا ہو کہیں سے شائیں شائیں کی آواز بھی آرہی ہو اور اس میں اگر شڑاپ شڑاپ ہوجائے تو پھر مشکلات درپیش آجاتی ہیں ۔کتنا ہی اچھا ہو کہ ہر کوئی شخص اپنا تمام تر وقت اپنے پیاروں کے ہی ساتھ گزارے اگر کہیں کسی کو تنہائی میں بھیج دیا جائے تو پھر اسے ان پیاروں کی یاد ہوگی تو لہذا اپنے پیاروں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ یہ ساری قوم ہی پیاری ہے کہیں اس کے ساتھ تو زیادتی نہیں ہورہی ،یہ ملک بہت قیمتی ہے کہیں یہاں لوٹ مار تو نہیں ہورہی ،یہ زبان اور الفاظ بھی ایسے ہی ہیں کہ اگر ایک دفعہ نکل جائیں تو واپس نہیں آتے جس طرح کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آیا اور پھر جو کچھ بولا جاتا ہے اس کو بھگتنا پڑتا ہے ۔