- الإعلانات -

شنگھائی تعاون تنظیم اور پاکستان

ہماری وزارت خارجہ کی کوششیں قابل تعریف ہیں کہ پاکستان بھی شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن بن گیا اس ممبر شپ کے نتیجے میں دوسرے ملکوں کے تعاون سے نہ صرف ملکی معیشت بہتر ہوگی بلکہ سائنس تعلیم ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی ترقی کے مواقع زیادہ حاصل ہوں گے۔ ان مفادات کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ عالمی اور خصوصاً علاقائی معاملات میں ہمارے ملک کا کردار بھی موثر ہوگا ۔ آپ کو یاد ہوگا پندرہ جون 2001ء میں چین ا، روس ، قازقستان ، کرغزستان اورتاجکستان نے یوں تو ایک سیکورٹی پیکٹ کیا تھا لیکن اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں رکن ممالک کے مابین باہمی اعتماد اچھی ہمسائیگی کا فروغ ، سیاست معیشت، تحقیق ، تعلیم ، ٹرانسپورٹ، سیاحت، توانائی ، ٹیکنالوجی ماحول کے صاف ستھرا ہونے کا تحفظ کی ضمانت کے علاوہ دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو قائم رکھنے کے لئے کوششیں شامل تھیں ۔ اگر اس تنظیم کے بنیادی مقاصد کا آپ بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام ممالک یہ چاہتے ہیں کہ خطے میں جمہوری حکومتیں قائم ہوں اور قائم رہیں قابل تعریف اور قابل عمل سیاسی ، اقتصادی نظام قائم ہو جو تمام رکن ممالک کے عوام کے لئے خوشحالی اور ترقی کا بھرپور ضامن ہو ۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کیلئے اسے تنظیم کا رکن بننے پر ایک تاریخ ساز واقعہ کیا ہے کیونکہ ہمارے ملک کو اس تنظیم کی رکنیت سے مختلف شعبوں میں مفادات حاصل ہوں گے اس تنظیم کا 17واں سربراہی اجلاس قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوا جسمیں پاکستان اور بھارت کی باقاعدہ رکنیت کا اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں پانچ سالہ معاہدے کی بہت مفید اور دوررس نتائج کی حامل تجاویز بھی پیش کیں ۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کے فروغ اور علاقائی ترقی کیلئے ’’ایک پٹی ایک شاہراہ‘‘ کی تعمیر کے منصوبے کیلئے پاکستان کی عملی کوششوں کی بھرپور وضاحت کی اور کھلے دل کے ساتھ بھارت کو بھی اس اہم تنظیم کا ممبر بننے پر مبارکباد دی اور ساتھ انہیں یہ بھی کہاکہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نفرتوں کے زہر کو پھیلنے سے روکیں اور اپنے تمام حل طلب مسائل دشمنی کی سوچ سے نہیں بلکہ رواداری بردباری اور ایک سیاسی لیڈر کی سوچ کے ساتھ حل کریں تاکہ دونوں ملکوں کے عوام ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پرامن ، سلامتی سے گامزن رہیں۔ آنے والی نسلوں کو امن اور دوستی کا ورثہ ملے۔ وزیراعظم نے یہ پیغام وقت کی نبض پہنچانتے ہوئے دیا مقبوضہ کشمیر میں جس قدر مظالم کیے جارہے ہیں اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں جس طرح دہشت گردی کی جاری ہے اس کے تانے بانے ہندوستان سے جاکر ملتے ہیں ۔ پاکستان کی ترقی خوشحالی اور استحکام بھارت کو ایک آنکھ نہیں بھاتا وزیراعظم مودی کے حالیہ امریکی دورے میں پاکستان کے خلاف جوکچھ بھی منصوبے بنائے جارہے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اگر اس طرح کی نفرتیں رہیں اور ناپاک عزائم رہے تو خطے میں امن کی خواہش ایک خواب سے زیادہ نہیں ہوگی۔ کیونکہ ہندوستان ہر دن ایک نئے ناپاک منصوبے سے نمودار ہوتا ہے شنگھائی تنظیم پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ رکن ملک بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ پاکستان کے ساتھ حل طلب مسائل کو پرامن طریقے اور باہمی گفت و شنید سے جلدازجلد حل کرے تاکہ خطے میں جو امن کے خواب یہ تنظیم دیکھ رہی ہے اس کی تعبیر صحیح معنوں میں مل سکے ۔ پاکستان نے تو ہمیشہ ہی بھارت کیلئے دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن دوسری جانب سے ہمیشہ بغل میں چھری منہ میں رام رام کا معاملہ سامنے آیا اب امید کی جاسکتی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم دونوں رکن ممالک کے مسائل حل کروانے میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کرے گی تاکہ اس کے عظیم الشان مقاصد حاصل ہوسکیں ۔ پاکستان اور بھارت کی رکنیت کے علاوہ اس تعاون میں چین ، روس جیسی عالمی طاقتیں موجودہیں اور آٹھ اہم ملک اسمیں شامل ہیں ۔ مبصر ملکوں میں افغانستان ،ایران ، بیلاروس اور منگولیا شامل ہیں۔ اگر ان ممالک کی تاریخ پرنظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ممالک قدرتی اور انسانی وسائل سے بھرپور ہیں ان تمام ملکوں کے باہمی تعاون سے نہ صرف خطے میں ایک نمایاں تبدیلی آسکتی ہے بلکہ دیگر ملکوں کیلئے ایک مثال قائم ہوسکتی ہے۔ افغانستان جسمیں ایک طویل عرصے سے امن قائم نہیں ہوسکا اسے بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ امریکہ اور بھارت کی پشت پناہی سے وہ کب تک بیساکھیوں کے سہارے چلتا رہے گا ترقی اور خوشحالی کیلئے سب سے پہلا قدم امن ، امان قائم کرنے کیلئے اٹھانا پڑے گا پھر اسے بھی اسکی مکمل رکنیت حاصل کرکے اپنے ملک کو تمام ممبر ممالک کے بھرپورتعاون سے ترقی ، خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا۔ کب تک وہاں بارود کے بادل چھائے رہیں گے کب تک ملک کھنڈر بنتا رہے گا کب تک افغان محرومیوں کا شکار رہیں گے۔ اس تنظیم کے مقاصد کی روشنی افغانستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ پاکستان کو بھی ایک ممبر کی حیثیت سے یہ امید ہے کہ چین اور روس کے قائدین بھارت اور افغانستان کی جانب سے بے جا الزام تراشیوں کا سلسلہ بند کروائیں گے اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی خاطر اپنا کردار بھی بھرپور انداز سے ادا کریں گے۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ چین اور افغانستان نے ریلوے نیٹ ورک اور بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے جو معاہدے کیے ہیں اس سے کابل کی بھارت کیلئے بے انتہا گرمجوشی کے رویے میں کمی واقع ہوگی اور آنے والا وقت افغانستان کے عوام کے لئے خوشحالی اور امن کاپیامبر ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ افغانستان بھارت کے جپھے سے جلد ازجلد آزاد ہونے کی کوشش کرے ۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم ممبر ممالک کی رکنیت سے انکے عوام کے لئے حکمت تدبر، فراخدلی معقول رویوں اور مناسب تعلق کے ذریعے سیاسی معاشی اور معاشرتی ترقی کی راہیں کشادہ کرسکتی ہے اور مقتدر ممبر ریاستوں کے درمیان دیرینہ تنازعات احسن طریقے سے حل بھی کرواسکتی ہے جو ایک طویل عرصے سے حل طلب ہیں اور جن کی وجہ سے ممبر ملکوں میں تعلقات نارمل نہیں رہ پاتے ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ آنے والا وقت ممبر ممالک کے عوام کے لئے مزید ترقی اور خوشحالی لائے گا۔

راگ میاں کی ٹوڈی۔۔۔ شوق موسوی
تھا انتظار ، وہ ریپورٹ پیش ہو بھی گئی
جواب اور بھی کچھ کارِ احتساب سے دیں
وہ مانتے ہی نہیں ارتکابِ جرم کیا
تو پوچھتے ہیں کہ استعفیٰ کس حساب سے دیں