- الإعلانات -

کیلاش کے کافر اور ’ہجومِ مومنین‘

Asif-Mehmood

ایک جانب ’ صاحبانِ نظر‘ وزیر اعظم کو ہندوؤں کے تہوار میں شرکت پر مطعون و ملعون کر رہے ہیں تو دوسری طرف ’ اہلِ حق ‘ کی جانب سے زلزلوں ، سیلابوں اور دیگر آفتوں کا ذمہ دار کیلاش کے ’ کافروں ‘ کو قرار دیا جا رہا ہے ۔۔۔یہ دونوں رویے نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہیں کہ یہ نیم خواندہ اور ناتراشیدہ سماج اپنے مذہب کی مبادیات کی تفہیم ہی سے قاصر ہے، اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اسے ایک ایسے فکری بیانیے کی ضرورت ہے جو اسے انتہا پسندی سے نکال کر اس کی تہذیب کر سکے۔

کینیڈا کے جواں سال وزیر اعظم ،ایک مسجد میں جا کر مسلمانوں سے ملے تو خوشگوار حیرت ہوئی۔دوسرے روز خبر ملی وہ سکھوں کے پاس بھی چلے گئے اور ہندوؤں کے ایک مندر میں جا کر دیوالی کی خوشیوں میں بھی شریک ہوئے۔جسٹن ٹروڈو نہ مسلمان ہیں نہ سکھ نہ ہی ہندو۔لیکن سب کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔تو کیا یہ ہماری اجتماعی منافقت ہے کہ ہم جسٹن ٹروڈو کی تو تعریف کر رہے ہیں لیکن ہمارا اپنا وزیر اعظم اپنے ہم وطنوں کی خوشیوں میں شریک ہو رہا ہے تو اس کی مذمت کر رہے ہیں۔دیوالی کی خوشیوں میں شرکت ایک ہم وطن قوم کے تہوار میں شرکت ہے۔ ایسا کر کے وزیر اعظم نے کون سی اسلامی تعلیمات کی نفی کی ہے کہ ان کی مذمت کی جائے؟ہاں وہ وہاں ہندوؤں کی عبادت میں شریک ہوتے تو ان پر تنقید ضرور کی جانی چاہیے تھی۔لیکن وہ ان کی عبادت میں نہیں ان کی خوشیوں میں شریک ہوئے۔کیونکہ وہ ان کے بھی وزیر اعظم بھی ہیں۔جسٹن ٹروڈو مسجد ، مندر اور گردوارے میں جانے کے باوجود مسلمان ، ہندو یا سکھ نہیں ہوئے اور نواز شریف دیوالی کی تقریب میں شریک ہو کر بھی مسلمان ہی ہیں؟لیکن ایک کی تعریف کی جارہی ہے اور دوسرے کی مذمت؟فرق یہ ہے کہ کینیڈا کے لوگ جانتے ہیں کہ سب کو ساتھ لے کر چلے بغیر قومی ترقی کا عمل جاری رہنا ممکن نہیں اور ہم اپنی خود ساختہ دنیا کے وہ سادہ لوح ہیں جو دھوکے اور سراب اوڑھ کر جی رہے ہیں۔45 لاکھ ہندو ہمارے ہم وطن ہیں ،لیکن ہمیں پرواہ نہیں اور ہم کمال بے نیازی سے اپنے نصاب میں انہی بچوں کو پڑھاتے ہیں کہ ’’ ہندو ایک تنگ نظر قوم ہے‘‘۔کبھی ہم نے سوچا کہ نفرتوں کا یہ نصاب ان پینتالیس لاکھ ہندوؤں کو قومی دھارے میں کیسے لا سکے گا؟۔

نیم خواندگی اور ناقص فہمِ دین، سماج میں آج بھی شعلہ بیان مقررین کی مانگ ہے ۔دھیمے انداز میں صرف قرآن و سنت کی کوئی بات کرے ہماری نگاہ انتخاب اس پر ٹھہرتی ہی نہیں۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔تازہ ارشاد یہ ہے کہ شمالی علاقوں میں زلزلے اور سیلاب کیلاش قبیلے کی وجہ سے آ رہے ہیں۔یہ قبیلہ گناہ کرتا ہے اور عذاب سب پر آ جاتا ہے۔قرآن و سنت کی روشنی میں اس موقف کا کوئی اعتبار نہیں۔ویسے بھی اگر آفات گناہوں کی وجہ سے آتیں تو ’ ریڈ زون‘ کیسے محفوظ ہوتا جہاں وہ پارلیمنٹ موجود ہے جس کے سب ممبران مبینہ طور پر نیک اور پاک ہیں۔ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا حق ہے۔لا اکراہ فی الدین کا حکم اس باب میں نہائت واضح ہے۔قبیلہ کیلاش اپنی مذہبی رسومات پر عمل کرنے کا پورا پورا حق رکھتا ہے اور انہیں جبرا اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔نہ ہی کسی کو طاقت کا استعمال کر کے مسلمان کیا جا سکتا ہے۔کسی کا اپنا دل خود بلا خوف و ترغیب اسلام کی جانب مائل ہو جائے تو وہ ایک الگ بات ہے۔زلزلوں اور سیلابوں کی شانِ نزول میں یہ بیانیہ طوفانوں کی خبر دے رہا ہے۔اس کا راستہ نہ روکا گیا تو ہر بستی میں لوگ اٹھیں گے کہ زلزلے اور سیلاب کا ذمہ دار فلاں گرو ہ ہے

اور اللہ اس سے ناراض ہے۔نیم خواندہ قوم کی فکری تہذیب اور توازن کے لیے ایک متبادل بیانیہ نہایت ضروری ہے۔یہ بیا نیہ کسی گروہ کی جانب سے نہیں بلکہ دستورِ پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی طرف سے آ نا چاہیے۔لیکن برا ہو ٹاک شوز کا، اراکینِ پارلیمنٹ کے ذوق، اوبلندی فکر کے نوحے سرِ شام ٹی وہ چینلوں پر سننے کو ملتے ہیں۔جو لوگ اتنے اوسط درجے کے ہوں کہ ڈھنگ سے مکالمہ ہی نہ کر سکیں اور گفتگو کے پانچ منٹ بعد لوگوں کو پطرس بخاری یاد آ جائیں،کیا وہ کوئی فکری بیانیہ دے پائیں گے؟
آدمی کس دیوارِ گریہ پر سر رکھے؟