- الإعلانات -

جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہیے

جے آئی ٹی رپورٹ جہاں پانامہ کیس کی شدت اور حدت میں اضافے کا باعث بنی وہاں سیاسی اُفق پر منڈلاتے بادلوں کو طوفانی روپ دیتے دکھائی دے رہی ہے ۔ ایک طرف اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے تو دوسری طرف حکومت نے بدلتے سیاسی ماحول کا مقابلہ کرنے کیلئے کمرکس لی ہے اور حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جبکہ ہائیکورٹ بار نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا الٹی میٹم دیا ہے اور کہاکہ اگر وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو ملک گیر تحریک چلائیں گے ۔ جے آئی ٹی رپورٹ نے پانامہ کی ہنگامہ خیزی کو بڑھا دیا ہے اور حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوتی جارہی ہیں ۔ اپوزیشن جماعتیں حکومت کیخلاف اکٹھی ہورہی ہیں اور حکومت جارحانہ رویہ اختیار کرتی جارہی ہے اور اس نے اس رپورٹ پر اپنے تحفظات ظاہر کرنے شروع کردئیے ہیں۔ پانامہ کیس اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں و وفاقی وزراء اسحاق ڈار ، خواجہ سعد رفیق اور وزیر اعظم کے مشیر بیرسٹرظفر اللہ نے اعلان کیاہے کہ حکومت جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اورہم آف شور کمپنی کا جواب سپریم کورٹ میں دیں گے اور دلیل کے ساتھ آئیں گے۔جمہوری نظام کو چلنے دیا جائے ، تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کرینگے ،جے آئی ٹی رپورٹ حتمی نہیں ، صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے ،جے آئی ٹی کا کام پارٹی بازی اور یکطرفہ فیصلہ نہیں ، کچھ لوگ چہرے کی جھریاں چھپانے کیلئے بوٹو کس استعمال کرتے ہیں مگر میں اسیا کچھ نہیں کرتا ، رپورٹ کی بعض دستاویزات ناقابل اعتبار ہیں ، 1999کے مارشل لاء میں نیب نے میرے گھر سے دستاویزات لیں، رپورٹ میں پکوڑے بیچنے والے کاغذات بھی شامل ہیں ، ، جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت بڑا خلاء ہے ، ہمارے تمام مالی معاملات کا ریکارڈ موجود ہے ، تمام الزامات ردکرتے ہیں ، جواب سپریم کورٹ میں د ینگے ، جے آئی ٹی نے اپنا کام خود کیا ہوتا تو مجھے بلانے کی ضرورت نہ پڑتی ، پانامہ پیپرز کا معاملہ دو ماہ نہیں بلکہ کئی مہینوں میں تخلیق کیا گیا ، پیپلزپارٹی کو کم از کم کرپشن کی بات زیب نہیں دیتی ، تفتیش کا اصول ہے کہ موجود مواد پر جرح کی جائے ، اتنی جلدی نہ کریں ، تیز فیصلے نہ کریں ، الٹی سیدھی چیزیں اکٹھی کرنے کیلئے بھاگ دوڑ کی گئی ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر اعظم نوازشریف کے بعدسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بھی استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف عدالت جانے کااعلان کردیا اور کہاکہ صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کا بھی فوری استعفیٰ مانگتے ہیں، اسحاق ڈار نواز شریف کا فرنٹ مین ہے جو چوری کا پیسہ باہر بھیجتا رہا ہے اور شہباز شریف بھی منی لانڈرنگ میں ملوث ہے،اگر حکومتی وزراء جے آئی ٹی رپورٹ کو عمران نامہ کہتے ہیں تو میں اسے اعزاز سمجھوں گا، انہوں نے ایس ای سی پی اور آئی بی کا غلط استعمال کیا، پانامہ میں ہزاروں لوگوں کے نام آئے، کسی ایک نے نہیں کہا کہ یہ غلط ہے، قطری شہزادے کا خط اور بیان سب فراڈ ہے، سعید احمد نے بیان میں لکھا کہ وہ منی لانڈرنگ کرتا رہا، ساری قوم کو جے آئی ٹی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، وفاقی وزراء بجائے چوروں کو پکڑنے کے الٹا انہیں تحفظ دے رہے ہیں، حکومت اور وزراء کو رپورٹ آنے کے بعد شرم سے ڈوب مرنا چاہیے، یہ لوگ نہ صرف مستعفی ہوں گے بلکہ جیلوں میں جائیں گے۔جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد اپوزیشن نے حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کے مستعفی ہوجانے سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ، اور پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات میں شیریں مزاری اور شفقت محمود بھی موجود تھے۔خورشید شاہ اور شاہ محمود قریشی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ پر اظہار خیال کیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم کے مستعفی ہوجانے سے جمہوری نظام کو کوئی خطرہ نہیں۔خورشید شاہ سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر پیپلز پارٹی کی من و عن وہی رائے ہے جو پی ٹی آئی کی ہے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بیان بھی سامنے آچکا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد نوازشریف، سیاسی اور اخلاقی جواز کھو چکے ہیں اور ہم دونوں جماعتوں کا یہی نکتہ نظر ہے کہ نوازشریف کو فی الفور وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوجانا چاہیے۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد سیاسی ہلچل اس امر کا عکاس ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی تدبر اور بصیرت کافقدان ہے۔ سپریم کورٹ آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دے گی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کرلینا ہی بہتر ہے۔ پانامہ کا ہنگامہ جلد اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ احتساب سے بالاتر کوئی نہیں اور سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تاریخی قرار پائے گا جس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔
قرآن کریم بل2017 کی سینیٹ سے منظوری
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کے اجلاس میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ قرآن کریم بل 2017 منظور ، بل کے تحت جماعت اول سے پنجم تک ناظرہ قرآن اور جماعت ششم سے بارہویں تک قرآن کریم آسان ترجمے کے ساتھ پڑھایا جانا لازم ہوگا۔ اس بل کا اطلاق غیر مسلم طلبا و طالبات پر نہیں ہوگا۔ غیر مسلم پاکستانی طلبا ء اخلاقیات کے مضمون کو پڑھتے رہے گئے۔ ناظرہ قرآن اور قرآن کریم کی آسان ترجمے کے ساتھ پڑھائی نجی سکولوں میں بھی لازم ہوگی۔ وزیر مملکت بلیغ الرحمانٰ نے کہا کہ قرآن پاک آسان ترجمے کے ساتھ اسلامیات کے پیریڈ میں پڑھایا جایا کرے گا۔ سات سالوں میں طلباء پورے قرآن پاک کو سمجھ لیں گے۔ آئین میں وضاحت سے درج ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے۔ آئینی اور مذہبی فریضہ ادا کرتے ہوئے آئینی تقاضا پورا کیا گیا ہے۔ بل کے خدوخال سادہ رکھے گئے ہیں۔ اس بل کا اطلاق اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام آنے والے سکولوں تک محدود رہے گا۔اورتمام صوبے بھی اس قانون کو لاگو کرنے پر رضا مند ہیں۔غیر مسلم اراکین پارلیمنٹ سے بھی اس سلسلے میں مشاورت جاری رہے گی ، چیئرمین کمیٹی سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے قرآن کریم بل 2017 کو مثبت قدم قرار دیا۔اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے اساتذہ کے اعزازیہ کا معاملہ زیر بحث آیا، چیئرپرسن رزینہ عالم نے بتایا کہ کمیونٹی سکولز ، گاؤں اور محلہ کی سطح پر شہری اپنی مدد آپ کے تحت بناتے ہیں۔ انڈو منٹ بورڈ میں کمیشن کا ایک ممبر شامل کرنے اور بورڈ کی سرمایہ کاری میں سے منافع کمیونٹی سکولوں کی مدد میں استعمال کرنے کیلئے مشاورت کی گئی ہے۔وزیر مملکت انجینئر بلیغ الرحمانٰ نے کہا کہ اعزازیہ پانچ ہزار ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ ہر سال مزید اضافے کی بھی پلاننگ کمیشن کو سفارش کی گئی ہے۔ صرف مدرسہ پراجیکٹ کے اساتذہ کو 12 ہزار ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا ہے۔قرآن پاک بل کی منظوری وقت کی ضرورت تھی اس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔