- الإعلانات -

غریب عوام کے ترجمان جے آئی ٹی کے ممبران

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام کو انصاف ملنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اور اس کا سہرا سپریم کورٹ کے معزز ججوں کے ساتھ ساتھ ان کی قائم کردہ جے آئی ٹی کے ممبران کے سر جاتا ہے۔ جے آئی ٹی کے ممبران نے کسی دباؤ کے بغیر تحقیق وقت پر مکمل کر کے پا کستان کے غریب عوام میں ایک مقام حاصل کر لیا بلکہ پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں جے آئی ٹی کی تحقیق کو سنہرے حروف سے لکھا جائے۔اپوزشن نے شروع میں اعتراض اُٹھائے تھے کہ پاکستان کے بیس گریڈ کے ملازم وقت کے حاکم اور وہ بھی پاکستان وزیر اعظم سے کیسے تحقیق کریں گے۔ پھر بھی جے آئی ٹی نے یہ ثابت کیا کہ دنیا میں اچھے لوگ ضررو ہوتے ہیں جن کی وجہ سے نظام دنیا چل رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے شدید دباؤ کے باوجودجے آئی ٹی کے ممبران نے بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا اور اپنا تحقیقی کام عدالت کے دیے ہوئے وقت پر مکمل کر کے ایک تاریخ مرتب کی ہے۔ ہم اپنے کالموں میں اللہ سے فریاد کرتے آ ئے ہیں کہ اللہ کوئی ایسا سبب بنا دے کہ مقتدر لوگوں سے عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس غریب عوام کے خزانے میں داخل ہو۔ اس میں شک کی کوئی بات نہیں کہ ہم ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں۔دنیا کے دوسرے جمہوری ملکوں کی طرح ہمارے ہاں بھی سارے قانون موجود ہیں۔ مگر ان پر عمل در آمد کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ اگر سیاستدانوں کی بات کی جائے تو انہوں نے سیاست کو منافع بخش کاروبار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ پلاٹ، پرمنٹ، نوکریاں سفارش ہمارے سیاستدانوں کی رگ رگ میں سرایت کر گئی ہیں۔ الیکشن لڑنے کے لیے کروڑوں لگاؤ ۔جیتنے کے بعد اربوں کماؤ۔ہمیں اس سلسلے میں ایک سیاستدان دلچسپ واقعہ یاد آتا ہے۔ ہم ۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۵ء ملازمت کے سلسلے میں ملتان میں رہائش پذیر تھے۔ اس دوران مسلم لیگ نون کے ایک قومی اسمبلی کے ممبر پر کرپشن کا الزام تھا۔ وہ عدالت میں پیش ہوا تو مقامی اخبارات میں اس کے عدالت میں بیان کی سرخی لگی کہ نون لیگ نے مجھ سے دو سیٹوں پر بھاری اخراجات کروائے ہیں ۔ میں کچھ بیوقوف ہوں کہ جیت کر اپنے پیسے وصول نہ کروں۔ صاحبو!پاکستان بنے ۷۰ سال ہوگئے ہیں سیاست دان سیاست کو کاروبار کے طور پر ہی استعمال کر رہے ہیں ۔یہ صرف نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان کی کرپشن کی بات نہیں ہے۔عوام اخبارات میں سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر الزامات کے حوالے سے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں سیاست دان ہنڈا ففٹی پر سوارہو کر طلبہ میں لسانی کیا سیاست کرتے تھے اب لندن میں مہنگے علاقہ میں رہائش پذیر ہیں اور اربوں میں کھیلتا ہے۔ وہیں بیٹھ کر پاکستان توڑنے کی باتیں بھی کرتے ہیں۔ فلاں صاحب کے والد صاحب سیاست میں آنے سے پہلے واکی ٹاکی سینیما چلاتے ہیں۔ ان کے صاحب زادے ایک سیاسی پارٹی میں شامل ہوئے تووہ سرے محل کے مالک بنے۔ سوئس بنکوں میں پاکستان کے غریب اور مظلوم عوام کا لوٹا سرمایا جمع کیا۔ دنیا میں مسٹر ٹین پرسنٹ کے لقب سے مشہور بھی ہوئے۔ ایک صاحب کے والد صاحب کی اخبار میں ٹائٹل اسٹوری چھپی تھی کہ گرم لوہا موڑنے کے لیے اس پر چوٹ لگا رہے ہیں۔ان ہی پر ایک فیکٹری سے بیس بائیس فیکٹریوں کا الزام بھی گردش کرتا رہتا ہے۔ایک صاحب میٹر ریڈر تھے اب وہ ارب پتی ہیں۔ ایک صاحب سیالکوٹ میں سائیکل چلاتے تھے اب اربوں کے مالک ہیں۔ اگر یہ کمائی حلال کی ہو تو ٹھیک ہے۔ کوئی بھی خاندان یا فرد پیدائشی دولت مند نہیں ہو تا کسی کے والد نے دولت کمائی ہوتی ہے اور کسی کے بچوں نے کمائی ہوتی ہے۔ مگرشرط یہ ہے کہ یہ دولت حلال طریقے سے کمائی گئی ہو۔یہ توان سیاست دان صاحبان کی روداد ہے جنہوں نے ایک دوسرے پر الزام لگائے اور الزام عوام کے سامنے آئے۔ غریب اور مظلوم عوام کے پیسے لوٹنے میں بیروگریٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے لوگ بھی برابر کے شریک رہے ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ اقتدار میں رہتے ہیں لہٰذا ان پر گرفت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ۷۰ سال سے ایسا ہی چل رہا تھا کہ اللہ اپنی مظلوم مخلوق پر مہربان ہوا اور آزاد عدلیہ نے کرپشن کے خلاف ایکشن لینا شروع کیا۔کہتے ہیں ناں کہ اللہ کے ہاں دھیر اندھیر نہیں۔ اور یہ بات بھی مشہور ہیں ناں کہ اللہ کی لاٹھی بے آوازہوتی ہے۔ یہ اللہ کی آواز لاٹھی ہی تو تھی کہ دنیا کے آزاد صحافیوں نے پاناما میں آف شور کمپنیوں کا سراغ لگایا اور سیاستدانوں کو بے نقاب کیا۔ ہمارے ملک کے چھ سو افراد کے نام آف شور کمپنیوں میں آئے۔ ان میں وزیر اعظم صاحب کی فیملی کے بھی نام تھے۔ اب جے آئی ٹی کی تفتیش کے دوران وزیر اعظم صاحب کا نام بھی آف شور کمپنی نکلی ہے۔ وزیر اعظم صاحب نے الیکٹرونک میڈیا میں خطاب کرتے ہوئے بڑے زور پر اعتماد لہجے میں کہا تھا کہ اگر تحقیق کے دوران میرے خلاف کوئی بھی الزام ثابت ہوا تو میں ایک لمحہ بھی اقتدار میں نہیں رہوں گا گھر چلا جاؤں گا۔ اب اپوزیشن وزیر اعظم سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اپنے قوم سے وعدہ کو وفا کریں اور فوراً استعفیٰ دے دیں۔ ایسا نہ ہو کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں عدالت آپ کو گھر بھیج دے اور آپ بعدمیں پچھتاتے رہیں۔ باہر ملکوں میں تو اگر کسی وزیراعظم یا کسی وزیر پر بھی کسی قسم کی کرپشن کا الزام لگتا ہے تو فوراً اپنے عوامی عہدہ سے مستعفی ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو ملکی قانون کے حوالے کر دیتے ہیں۔پاکستان میں ایسا چلن نہیں ہے اور کچھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے جو شاہ کو ڈبونے میں کام آتے ہیں۔نون لیگ کے اسلام آباد کے ایک مشہور وکیل الیکٹرونک میڈیا میں کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ جیسے ہی وزیر اعظم کی فیملی کا نام آیا تھا ان کو عوامی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ عدالت میں اپنی سفائی پیش کر نی تھی۔ مگر ان کے مشیروں نے ان کو غلط مشورے دیے۔ نون لیگ کے ایک سینیٹر صاحب نے بھی ایسا ہی کہا۔مگر نواز شریف صاحب عدلیہ سے لڑائی لینے کی پالیسی پر کار بند نظر آتے ہیں۔ نون لیگ کے وزرا جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی قرار دیا۔ ایک وزیر پہلے ہی مقدمہ بگھت رہے ہیں۔ چار وزرا کے بیانات بھی سپریم کورٹ نے منگوا لیے ہیں۔ وزیر اعظم پہلے بھی بیان دے چکے ہیں کہ اب کٹھ پتلیوں کا کھیل نہیں کھیلنے دوں گا۔ عمران خان کے مطابق یہ فوج اور عدلیہ کی طرف اشارہ تھا۔ ویسے بھی نواز شریف صاحب کی عادت رہی ہے نہ صدر سے بنتی نہ ہی عدلیہ سے۔ غلام اسحاق صاحب کے معاملے میں کہتے تھے میں ڈکٹیشن پر نہیں چلوں۔ عدلیہ پر حملہ بھی ان کے کارناموں میں شامل ہے۔ کسی بھی سپہ سار سے ان کی نہیں بنی۔ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بارے بھی ان کا مؤقف بھی کمزور تھا جس کے سبب اُس نے مارشل لا لگایا تھا جوغلط تھا۔ بقول ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بھائی حکومت کے ایک کلرک کو نکانے سے پہلے قائدے کے مطابق اسے ایک ماہ کا شو کاز نوٹس دیا جاتا ہے۔ ملک کی فوج کا سپہ سالار جوجہاز پرسوار واپس ملک آرہا ہے اور اسے بغیر نوٹس کے معزول کر دیا۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ صاحبو! ویسے ہماری عوام بھی بادشاہ ہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ سیاست دان ان کے خزانے کو بے دردی سے