- الإعلانات -

امت مسلمہ کیلئے پیغام

uzair-column

توہم پرستی بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی اور پھر بعض اوقات بڑے اچھے اورپڑھے لکھے انسان بھی کوئی نہ کوئی ایسی بات کرتے ہیں جس پر حیرانگی ہوتی ہے ۔بھلا تاریخوں اور مہینوں میں کیا رکھا ہے ساری تاریخیں ایک جیسی ہیں ۔گذشتہ روز سے میڈیا میں ایک بات چل پڑی ہے کہ آخر 11کے ہندسے میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ جب امریکہ میں چودہ سال قبل ٹوئن ٹاورز پر حملہ ہوتا ہے اس سے جہاز سے ٹکراتے ہیں تو وہ 9/11کی تاریخ تھی ۔پھر جب ممبئی حملے ہوئے تو وہ بھی 26/11 کی تاریخ تھی۔پاکستان کے درہ آدم خیل میں خود کش حملہ ہوا جس میں بہت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں یہ بھی 5/11کی تاریخ تھی ۔گذشتہ روز فرانس کے خوشبوﺅں والے پیرس میں جب بارود کی بدبو پھیلی تو وہ بھی 13/11کی تاریخ تھی ۔اب اس کو حسن اتفاق کہا جائے یا کوئی گیارہ کے پیچھے خاص کہانی سے منسوب کیا جائے ۔مہینہ تو گیارہواں ہی نکلتا ہے ۔ٹوئن ٹاور پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے اتحادیوں کوملا کر دہشتگردی کیخلاف ایک بھرپور جنگ کا اعلان کیا ۔واقفان حال تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دراصل امریکہ صلیبی جنگوں کا بدلہ لے رہا ہے اور پھراب تو یورپ سے یہ بھی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں کہ پیرس کے حملے ہونے والے خود کش حملے اور فائرنگ تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے ۔بات دہشتگردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے ہورہی تھی تو جب سے یہ جنگ شروع ہوئی ہے اس میں خصوصی طور پر بلکہ قطعی طور پر تمام ترکارروائیاں مسلمانوں کیخلاف ہی ہورہی ہیں ۔2001ءسے لیکر 2015ءتک دہشتگردی میں مرنے والے لوگوں کی اموات میں 45سو فیصد اضافہ ہوا ۔عراق میں 1892حملے خود کش حملے کیے گئے ،اسی جنگ کے دوران داعش نے بھی جنم لیا ،پاکستان میں 2001ءسے لیکر 2015ءتک 486خود کش حملے ہوئے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔دیکھنے اورسوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشتگردی کیخلاف جنگ قابو میں نہیں بلکہ بے قابو ہوچکی ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے بالکل صحیح کہا کہ جب امریکہ اوریورپ آگ لگائیں گے تو یہ آگ ان کے گھروں تک بھی پہنچے گی ۔دوسروں کے گھروں سے ہاتھ تاپنے والے بھلا خود کیسے بچ سکتے ہیں ۔جتنے بھی اتحادی ہیں وہ انتہائی جدید ترین ملک ہیں پھر آخر پیرس میں اتنا بڑا دہشتگردانہ واقعہ کیونکر ممکن ہوا ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس حملے سے بارہ گھنٹے قبل اطلاع کردی گئی تھی کہ حملہ کیا جائیگا ۔اس کے باوجود بھی اس کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ۔پھر عین دوسرے دن ٹوئٹر پر ایک پیغام چلا کہ فرانس کے ایک جہاز میں بم ہے جس کی وجہ سے اس فلائٹ کو بھی روک لیا گیا ۔امریکہ بھی اس وقت پھر سے میدان میں کود چکا ہے ۔ساری دنیا اس دہشتگردی کےخلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔مگر جو اصل اسباب ہیں ان کی جانب کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا کہ آخر یہ دہشتگردی کیوں پھیل رہی ہے ۔کس کے کیا عزائم ہیں ،کون کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ،کس کو کون تباہ کرنا چاہتا ہے ،کس کا بارود زیادہ فروخت ہورہا ہے ،کون تیل پر ڈکیتی مار رہا ہے ،کون مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ رہا ہے ،دنیا میں غلط تقسیم کار کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں ۔کیا صرف تمام دہشتگرد یا انارکی مسلمان ممالک میں ہی ہے ۔یہ وہ ایک اہم سوال ہے جس پر او آئی سی اور مسلم ممالک کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔پاکستان ،افغانستان،بوسنیا ،چیچنیا ،عراق ، ایران ، شام ، فلسطین ،لیبیا، یمن اورسعودی عرب میں ہی آخر کار تمام دہشتگردانہ کارروائیاں کیو ہورہی ہیںاور دنیا میں جہاں کہیں سے بھی کوئی بھی دہشتگرد گرفتار کیا جاتا ہے تو اس کے ڈانڈے کسی نہ کسی طریقے سے مسلم ممالک کے ساتھ جوڑ دئیے جاتے ہیں ۔آخر مسلمان ممالک میں کس چیز کی کمی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نعمت عطا کی ہے ،پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے ،سعودی عرب، ایران ،عراق کے پاس تیل جیسی نایاب دولت ہے ۔ہاں اگر کمی ہے تو صرف ایک بات کی کہ اس وقت امت مسلمہ قطعی طور پر اپنی راہ سے بھٹک چکی ہے ۔اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات سے دوری اختیار کرتی جارہی ہے ۔دنیا ومافیہا میں مسلمان اتنا گُم ہوچکا ہے کہ جیسے لگتا ہے کہ اس نے اس دنیا سے ناطہ ہی نہیں توڑنا ،کیا وہ 313مجاہدین والا جذبہ اب موجود نہیں ہے جنہوں نے اس پوری دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی تھی ۔انہیں بھروسہ تھا تو صرف اللہ اور اس کے رسول کریمﷺ کا اور وہ لڑتے تھے تو اسلام اوراللہ کے محبوبﷺ کی خاطر ۔آج ہم مادیت پرستی میں دفن ہوچکے ہیں ۔دنیا کی لذتوں میں اتنا غرقاب ہیں کہ آخرت کا کوئی دھیان ہی نہیں ۔اس وقت جتنی بھی شیطانی قوتیں اسلام کیخلاف کارفرما ہیں ان کی صفوں میں اتحاد ہے اور مسلمان پوری دنیا میں آبادی کے اعتبار سے بھی زیادہ ہیں ،طاقت کے اعتبار سے بھی سب پر بھاری ہیں ،ٹیکنالوجی کی بھی کمی نہیں ،جذبہ بھی زیادہ ہے مگر اگر کمی ہے تو وہ صرف اتحاد اوراللہ اور اس کے محبوب ﷺ کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی ۔جو شخص اپنے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اللہ کی ذات اسے کسی کے آگے جھکنے نہیں دیتی ۔یہی آج کی امت کیلئے ایک ایسا پیغام ہے جس پر وہ عمل کرلے تو دنیا کی کوئی طاقت بھی مسلمانوں کو جھکا نہیں سکتی ۔