- الإعلانات -

جمہوریت کے محافظ عوام، عدلیہ، میڈیااورمسلح افواج

حقیقتِ واقعہ کا اعتراف سب سے بڑا قول اورحقیقتِ واقعہ سے مطابقت سب سے بڑا عمل ہے مگریہ کیسا وقت آن پڑا ہے، حقیقتِ واقعہ سے آنکھیں چرائے ہمارے سیاسی قائدین اور زعماتاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے حقیقت پسندانہ دلیل پراپنے کان دھرنے کی بجائے سب کے سب منتشر اور ذہنی پراگندگی ذاتی جاہ وحشمت کی وقتی خواہشات میں مست’اپنے اقتدار کی اناوں کی تسکین کی خاطر اپنے جیسے’سیاسی ہم عصروں’ کی ٹانگیں کھینچنے میں مگن اپنے مفاداتی طرزِ عمل’ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے سے منکر ملک ا ورقوم کوایسے دوراہے پر لا کھڑا کردیا ایک طرف قوم کی مجموعی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی و اقتصادی صورتحال تباہی کی انتہائی خبریں ہیں تو دوسری جانب ملکی جغرافیائی تحفظ اوربقاکی سلامتی پر ہمارا ازلی و ابدی دشمن اِس تاک میں کہ وہ کسی وقت بھی کوئی ایسی بہیمانہ حرکت کربیٹھے جس کے نتیجے میں خطہ کے مسلم ایٹمی ملک پاکستان کے لئے اپنا جوابی قدم اٹھانا ناگزیر ہوجائے حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمی میں آج حکمران خاندان کھڑا ہے ملکی جمہوریت نہیں کھڑی ہے ملکی عدلیہ چاہے عدالتِ عالیہ ہویاعدالتِ عظمی کا وجود جمہوریت کے مضبوط و مستحکم پائیدانوں پرآئین وقانون کی بالادستی کے عزمِ صمیم سے ہماری عدالتیں اپنے غیر متزلزل پختہ یقین و ایقان کے جذبوں سے لیس اپنی یقینی موجودگی کا اگر اظہار کر رہی ہیں تو یہ سنہری موقع عوام کو ہرصورت میں غنیمت سمجھنا چاہیئے ‘عدالت کے بغیرقوموں کا تصورکسی کے ذہن میں آسکتا ہے نہ ہی کوئی ملک چاہے وہ کتنا بڑا طاقتورملک کیوں نہ ہو معتبر عدالتوں کے بغیرایسے ملک اپنا وجود برقرارنہیں رکھ سکتے ہیں، پاکستان ایک جمہوری ملک ہے دنیا کے کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے میں ‘شخصیات’ کی کوئی حیثیت نہیں ہو تی ‘جمہوریت میں اصولی اعمال میں بلند ترین اور اہم ترین عمل خود احتسابی سے مربوط اور ‘فنِ سیاست’کے منتخب شہ سواروں کو ہی اعلی مقام عطا ہوتا ہے، جس پرعمل پیرا ہوئے بغیرکوئی بھی سیاست دان کبھی مطلق العنانیت کے تکبر سے خود کو آلودہ نہیں کرتا، بدقسمتی سے ہمارے ہاں اب تک یہی ہورہا ہے، امام جوزی فرماتے ہیں ‘شیطان حکمرانوں کو یہ دھوکہ دیتا رہتا ہے کہ وہ ‘امورِسیاست میں اپنی صوابیدپر عمل کیا کریں افسوس صدہا افسوس! اِسی ناپسندیدہ خواہش پرست صوابیدی اختیار نے ہرآمریت کو چاہے وہ فوجی آمریت ہو یا اب تک کی ملک میں رائج جمہوری آمریت ہو’ ہرکسی نے شرکے دفعیہ کے لئے ہمیشہ شر ہی کا استعمال کیا جس کے نتیجہ میں سوائے مزید شر کے اور کچھ برآمد نہیں ہوا ماضی میں کسی نے دیکھا نہ ہی آج تک دیکھا ہوگا عدالت کی بات کوئی سن رہا ہے، عدالیہ کا تمسخرسرِبازاراڑانے والوں کوجمہوریت کے اعلی وارفع اصولوں کی کوئی پرواہ ہے ہی نہیں، آئین اورقانون کی حاکمیت پر پرلے درجے کی ملوکیت اور ‘شخصیت پرستی کی بدترین شکل میں جیسی بادشاہت آج ہمیں وطن میں دکھائی دیتی ہے شائد ہی کبھی دیکھی گئی ہو؟ پانامہ لیکس کے گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران جتنا کچھ اخبارات میں شائع ہواہے الیکٹرونک میڈیا پرہونے والے ٹاک شوز میں کیا کیا کچھ عوام نے نہیں سنا، اِس کے باوجود جمہوری ایوانوں کا ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہلا نہ سکا ،کوئی بتا سکتا ہے 2008 سے اب تک ہونے والے جمہوری ادوارمیں کسی جمہوری حکومت نے بھی براہِ راست عوام کی فلاح وبہبود اوربہتری کے لئے کوئی ایک بھی اہم قانون سازی کی ہو؟ ماسوائے اِس کے کہ ‘جمہوریت کے بینی فشریز’ کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دینے کے لئے اوران کے فوائد کے لئے قانون سازی ہوتی ضرور دیکھی گئی ہے، بعض لوگ سمجھتے ہیں ملک میں اپنی آئینی مدت کے پوری ہونے کے بعد انتخابات منعقد کرانے سے جمہوریت آہستہ آہستہ حقیقی جمہوری رنگ اختیار کرلے گی ؟جنابِ والہ! اگر یہ ناپیدار سسٹم یونہی چلتا رہا توعوام کی ایک نسل تو کیا انہیں کئی نسلوں کی قربانی دینی پڑجائے گی ، عوام ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اورجمہوریت کے نام پر ہربارمنتخب ہونے والی اشرافیہ اوران کی نسلیں معلوم اطلاعات کی روشنی میں منی لانڈرنگ کے ذریعے سے ملکی خزانوں کو لوٹ کرعوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دبئی اور مغربی ممالک میں پناہ گزین ہو جائیں گی مہذب دنیا کے جمہوری معاشروں کی معروف شہرت کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے ادارے مضبوط ہوتے ہیں، خود مختار ہوتے ہیں، دیانتداراوروطن پرست اپنی ذات سے بالا تر بیوروکریٹس ان قومی اداروں کو صرف عوامی فلاح وبہبود کی پہلی اور آخری ترجیح کی بنیاد پر چلاتے ہیں گزشتہ برسوں میں بدقسمتی سے ہمارے آئینی ادارے مضبوط ہوپائے نہ ملکی انتظامیہ کے صوبائی اور وفاقی اداروں کا کوئی شہرتِ یافتہ مستحکم تشخص ابھرسکا، اقرباپروری اورمیرٹ کی دھجیاں جمہوریت کے نام پر دل کھول کر اڑائی گئیں ملک کا کوئی گلی محلہ ایسا نہیں جہاں ایسی گفتگونہ ہوتی ہو،چند ایسے میڈیا ادارے ضرور متحرک ہونگے جنہیں اپنی اعلیٰ باصلاحیت پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا احساس ہو گا۔پاکستان کی فضاؤں اور ہواؤں میں اپنی ‘میڈیائی کوریج’ کی وسعتوں کو پھیلانے میں ہمارے ازلی وابدی دشمنوں نے روپے پیسوں کی ریل پیل سے ہمارے ہی اپنے ‘بھائیوں’ کو خرید اہوا ہے میڈیا کی آزادی واقعی لائقِ تحسین سمجھیں جس کے ہوتے ہوئے جمہوریت کو کیا خطرہ، عدالتِ عالیہ ہو یا عدالتِ عظمیٰ آج پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں، بیس کروڑعوام کو انصاف کی توقع ہے عوام یہ ایک اہم امید بھی اپنی عدالتِ عظمیٰ سے لگائے بیٹھے ہیں کہ ملک میں عدالتِ عظمیٰ ایک ایسا صاف اورشفاف الیکٹرول سسٹم یقیناًرائج کر دئے گی کہ آئندہ کوئی خائن اور بد دیانت فرد الیکشن کمیشن میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل نہ کراسکے، میڈیا’عدلیہ ایک اور اہم ڈسپلن ادارہ جس پر ملکی عوام کو ہمیشہ سے بھروسہ رہا ہے اس قومی ادارے پر عوام کے بھروسہ کی کئی وجوہات ہیں، ایک طرف عوام عدالتِ عظمی کے فاضل اور معزز جسٹس صاحبان سے جمہوری قوانین کی تشریح سننے کیلئے اپنے کان لگائے بیٹھے ہیں، جیسا چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک بار فرمایا تھا ‘ہم ایسا فیصلہ کریں گے کہ صدیوں یاد رکھا جائے گا’ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے اس تاریخ ساز عزم میں واضح کامیابی عطا فرمائے دوسری جانب آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے گزشتہ دِنوں قوم کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ’پاکستانی فوج پاکستانی آئین اور قانون کی پاسداری کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی پاکستان کا دشمن کوئی کتنا ہی بڑا اور طاقتور کیوں نہ ہو کبھی اپنے ناپاک اِرادوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔