- الإعلانات -

اب کرکٹ برابری کی سطح پر

گمنام سر میں خاک ڈالے ،بکھرے بالوں ،پھٹی پھٹی آنکھوں اور میلے کچیلے کپڑوں میں ملوث بیٹھا فیصلہ نہ کرپارہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔سوچ اس کی مفقود ہوچکی تھی ،تمام زاوئیے تبدیل ہورہے تھے ،جسم شل تھا ،حالات کی گرداب میں پھنسا گمنام گمنام ہی ہوتا جارہا تھا ۔حالات کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہے تھے ،اس سیاسی باغ میں سب بھانت بھانت کی بولی بول رہے تھے ۔اس رنگ برنگے معاشرے کسی کا کوئی قبلہ درست ہی نہ تھا ۔جس کو دیکھو اپنے تیئں افلاطون بنا ہوا ہے ۔ملک وقوم کا کوسی کو خیال نہیں ،کیا ملک اس لیے حاصل کیا تھا ،ہمارے قائد نے یہ کہا تھا ،کسی قربانیاں دی تھیں ،گمنام کی آنکھوں کے سامنے وہ ساری فلم چل رہی تھی ،جیسے بھارت سے ہجرت کے وقت پاکستان آنے والوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے تھے ۔ماﺅں کے سامنے بیٹوں ،بیویوں کے سامنے ان کے شوہروں ،بہنوں کے سامنے بھائیوں ،بچوں کے سامنے والدین کو مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا گیا تھا ۔یہ سب کچھ کس لیے برداشت کیا گیا تھا ۔کبھی کرکٹ بحالی کا مسئلہ،کبھی ایل او سی پر بھارتی بلااشتعال فائرنگ ،کبھی آزادی گیٹ سے بھارتی گاڑی ٹکرانا،عالمی سطح پر بھارت کی ہٹ دھرمی ،وزیراعظم نوازشریف کی بہترین پالیسی کی وجہ سے آج دنیا بھر میںمودی کا منہ کالا ہورہا ہے ۔بھارت میں اس وقت زیادہ تر سیاسی جماعتیں مودی کی حرکتوں پر نالاں ہیں،کانگریس نے بھی آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے ۔بہار اور اڑیسہ میں بھی مودی مخالف تحریک زوروںپر ہے ۔وزیراعظم نواشریف اپنے عوام کے دلوں میں اس وقت مزید گھر کرلیا جب پی سی بی نے پاک بھارت کرکٹ کے حوالے سے ڈانڈے ملانے شروع کیے تو وزیراعظم نے نے کہا کہ پی سی بی بغیر اجازت کے کرکٹ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہ کرے اور اس حوالے سے کوئی بھی قدم اجازت کے بغیر نہ اٹھایا جائے ۔بھارت کو دو ٹوک جواب دیکر واضح کردیا کہ اصولوں پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔اب کرکٹ ڈپلومیسی بھی برابری کی سطح پر ہوگی ۔مودی کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا ہے ۔بین الاقوامی دنیا بھی اس کا مکروہ چہرہ دیکھ چکی ہے ۔اس کی دہشتگردانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے کا امن وامان تباہ ہوچکا ہے ۔بھارتی جمہوریت کے منہ پر تھپڑ ہے ۔عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ شیوسینا کو دہشتگرد تنظیم قرار دے ۔نامعلوم کیا وجہ ہے کہ بین الاقوامی برادری نے آنکھیں موند رکھی ہیں ۔گائے کا مسئلہ بھی بھارت میں انتہا کو پہنچ چکا ہے وہاں مسلمانوں کا جینا حرام کردیا گیا ہے ۔پیرس میں حملوں کیخلاف پوری دنیا اکٹھی ہوسکتی ہے تو مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت سرعام معصوم ،بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے اس کیخلاف امریکہ ،برطانیہ،فرانس اور اس کی دیگر اتحادی ممالک نے کیوں آنکھیں بند کررکھی ہیں ۔یہ دوہرا معیار کب تک چلتا رہے گا ۔مقبوضہ کشمیر اوربھارت کی ہر گلی ،ہر کوچہ بے گناہ مسلمانوں کے خون سے عبارت ہے ۔کیا اس جانب کسی کی نظر نہیں جاتی ۔فلسطین میں اسرائیل نے بربریت مچا رکھی ہے ۔معصوم فلسطینی بچے تک محفوظ نہیں ۔بیت المقدس جو کہ قبلہ اول ہے اس کیخلاف اسرائیل برسرپیکا ہے ۔کیا او آئی سی اس پرآواز نہیں اٹھا سکتی اس تنظیم کا کیا فائدہ ہے ۔کافروں کے مفاد کو جہاں ٹھیس پہنچتی ہے تمام کفار ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں ۔اقوام متحدہ کو ساتھ ملا لیتے ہیں مگر افسوس ہے کہ او آئی سی بنائی بھی گئی اس کی کارکردگی صفر ہے ۔دنیا بھر میں مسلمانوں پرعرصہ حیات اورزمین تنگ کردی گئی ہے مگر کوئی ایک ایسی بین الاقوامی تنظیم نہیں جو آواز اٹھائے ۔امت مسلمہ دوراہے پر کھڑی ہے ۔فیصلہ کرنے کا وقت ہے کہ کیا ہم نے کفار کی غلامی کرنا ہے یا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ۔تمام مسلمان ایک پلیٹ فارم متحد ہوکر جمع ہوجائیں ۔مجال ہے کہ کوئی ٹیڑھی آنکھ سے بھی دیکھ سکے ،کسی ایک کو اپنا سربراہ بنا لیں ۔اس میں سعودی عرب اور پاکستان سرفہرست ہیں ۔پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور نوازشریف نے جس طرح عالمی برادری میں بھارت اورمودی کو شکست سے دوچار کیا ہے وہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اہل اسلام کی بھرپورانداز میں آواز اٹھائیں ۔صرف ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام امت مسلمہ اتحاد واتفاق اوریگانگت کا مظاہرے کرے پھر کسی مودی کو جرات نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں پر ظلم وستم کرے ۔