- الإعلانات -

رفعت ِ اخوت کے باہمی تعلقات کے مظہر

nasir-raza-kazmi

جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک نے کہا تھا ” جب ہم مکمل آزادی کا نام لیتے ہیں تو اِس سے ہماری مراد قدرتاً یہ ہوتی ہے کہ سیاسی ‘ مالی ‘ اقتصادی ‘ قانونی ‘ فوجی اور تمام دیگر امور میں ہمیں مکمل آزادی میسر ہو “ بالکل اِن ہی خطوط پر یہی طرز ِ تخاطب ‘ اِن ہی معنوں میں 26 ستمبر1947کو بانی ¾ ِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے بھی پاکستان کی صنعتی ترقی کی جانب اپنے ایک خطاب میں ارشاد فرمایا تھا ’اگر پاکستان دنیا میں اپنا صحیح کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اُسے اپنی زراعت کے پہلو بہ پہلو صنعتی امکانات کو بھی ترقی دینی ہوگی اور اپنی اقتصادیات کو صنعتی میلان میں بھی بڑھانا ہوگا تاکہ ہم صنعتکاری کے ذریعے اشیائے ِ صرف کی فراہمی کے لئے بیرونی دنیا پر مکمل انحصار نہ کربیٹھیں یہی ایک آزاد وخود مختارقوموں کا طرہّ ِ اِ متیاز ہوتا ہے “بر صغیر اور ترکی کے مسلمانوں کے لئے یہی وہ تاریخی و یاد گار لمحات تھے اُنہوں نے جب یکسو ہوکر مکمل آزادی کی جانب اپنا سفر شروع کیا یہ گزرے لمحات نہ ہم فراموش کرسکتے ہیں نہ ترک عوام بھول سکتے ہیں اِس معاملے میں ہمارے برادر مسلم ملک ترکی کے عوام واقعی بڑے فراخ دل واقع ہوئے ایسی کشادہ وسعت ِ قلبی عالمی سفارتی ہم آھنگی کی تاریخ کے اوراق میں ہمیں کم کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے قیام ِ پاکستان سے اب تک ’پاک ترک سفارتی تعلقات ‘کے حوالے اگر یہ کہا جائے توسبھی متفق ہونگے کہ ’ پاکستان نے ترکی کے ساتھ ‘ثقافتی ‘ سماجی و سفارتی ا ورتجارتی تعلقات میں جہاں اہل ِ ترک کے احساس ِ تکریم کے باہمی مقاصد کو یقینی سمجھا اور سفارتی وتجارتی اُصولوں کے معاہدات کی بجا آوری میں اپنے ذہنی وقلبی وابستگیوں کو پوری نیک نیتی سے ہمیشہ اپنے پیش ِ نظر رکھا وہاں ترکی کے عوام اور ترکی کی ہر عہد ِ حکومت میں بھی پاکستان و پاکستانی قوم کو بھی بعینہ اُسی پُر جوش ملی برادرانہ اشتراک وتعاون کا عملی ثبوت ملا، یہاں پر ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے خود ترکی عوام بھی اِس تاریخی حقائق کے آج بھی معترف کہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک ِ خلافت کے دنوں میں جس والہانہ و ملی جذباتی انداز سے سر شار اور مغلوب ہوکر اپنے مسلمان ترک بھائیوں کی اخلاقی و مدد و اعانت کی تھی، اہل ِ ترک آج بھی اُس ناقابل ِ فراموش ماضی کو یاد کرکے اپنے دلوں میں پاکستانی مسلمانوں کے لئے یگانگت واپنائیت کی امڈتی ہوئی ملی اخوت کے انقلابی جذبوں کو اُسی طرح سے شاداب و تازہ کیئے رکھتے ہیں، یہی وجوہ ہے کہ پاکستانی اور ترکی عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کی آوازوں کی ’ردھم ‘ ایک ہی جیسی ہے، ترکی‘ پاکستان کے نزدیک دنیا کے اُن چند معدودے ممالک میں شامل ہے جہاں جاکر پاکستانی باشندے لسانی غیر مانوسیت کے باوجود اجنبیت بالکل محسوس نہیں کرتے اور پاکستانی اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ اجنبیت کیوں محسوس کریں ؟ ترکی نے ہمیشہ اقوام ِ متحدہ میں پاکستانی سفارتی موقف کا ساتھ دیا پاکستان نے بھی ہمیشہ عالمی فورم پر ترکی کے ساتھ قدم بہ قدم ملا کر کھڑنے رہنے کو ترجیح دی، زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے، جس میں دونوں ملک پاکستان اور ترکی نے ایک دوسرے کی پشت پناہی نہ کی ہو، آج جب ہم یہ سطور رقم کررہے ہیں تو ہمیں وہ وقت بھی یاد آرہا ہے جب پاکستان ‘ ایران اور ترکی ’علاقائی تعاون برائے ترقی ‘ کے رشتے میں منسلک تھے جسے’ آر سی ڈی‘ کہا جاتا تھا، علاقائی تعاون برائے ترقی کا یہ شاندار معاہدہ کاش! عالمی معاشی تباہ کاروں کی ’ بدمعاشیوں ‘ کی سازشوں کا شکار نہ ہوتا تو ذرا سوچیں کہ ایران ‘ ترکی اور پاکستان یہ تینوں مسلم پڑوسی ممالک سماجی ‘ معاشی و ثقافتی سفارت کاریوں کی کامیابیوں کے کس عظیم المرتبت سنگ ِ میل کو آج عبور کرچکے ہوتے بہر حال! وقت اب بھی ہمارے ہاتھوں سے نکلا نہیں ہے ،پاکستان اور ترکی کے مابین نئے سرے سے خوشگوار سیاسی و سفارتی اور تجارتی وثقافتی تعلقات کی راہیں اُن ہی اعلیٰ پر اعتماد نہج پر وسیع اور کشادہ ہورہی ہیں حال میں 18 اکتو بر کو پاکستا ن اور ترکی کے فضائی افواج کے مابین جاری شاندار فضائی مشقیں اپنے اختتام کو پہنچیں پاکستان اور ترکی کی فضائی افواج کی طرف سے منعقد مشترکہ مشق جس کا’ کوڈ نام‘ ’نمائندہ تصویر‘ 5 اکتوبر سے 17 اکتوبر 2015 تک جاری رہنے والی اِس فضائی مشق میں دونوں برادر ملک ترکی اور پاکستانی کی فضائیہ نے حصہ لیا ترکی فضائیہ کے معروف سولو aerobatic ٹیم’سولو ترک‘ بھی اِس فضائی مشق کا حصہ تھی جس میںدونوں افواج نے کامیابی سے باہمی افہام و تفہیم کی دفاعی پیشہ امور کو بڑھانے کے لئے کئی دہائیوں کے لئے پاکستان ترکی کے دفاعی عزم کا اظہار کر کے دنیا پر یہ ثابت کردیا کہ پاکستان اور ترکی کسی بھی مشکل اور کٹھن گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں گزشتہ دنوں جب ترکی کے دارلحکومت انقرہ میں دہشت گردی کی افسوس ناک کارروائی ہوئی جس میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے لاتعداد زخمی ہوئے تو ترکی عوام کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے لئے کوئی لمحہ ضائع کیئے بغیر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف انقرہ پہنچ گئے پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے اہل ِ ترکی کو یہ پیغام دیا کہ ’غم واندوہ کے اِس موقع پر پاکستان اپنے برادر مسلم ملک ترکی کے ساتھ ہے‘ پاکستانی فوج کے دلیر اور جراّت مند سربراہ نے ترک عوام کے غم واندوہ کو پاکستانی غم واندوہ قرار د یا اور یہ عندیہ دیا کہ پاکستان جو خود اِس وقت اپنے ملک کے اندر ہونے والی وحشیانہ جنونی انتہا پسند مسلح دہشت گردی کو اُس کی جڑ بیخ سمیت اکھاڑنے کی جنگ لڑرہا ہے وہ سمجھتا ہے کہ انقرہ میں رونما ہونے والی دہشت گردی بھی اُسی نوعیت کی بہیمانہ وحشت زدہ دہشت گردی ہے پاکستان ترکی میں ہونے والی دہشت گردی کی پُر زور مذمت کرتا ہے پاکستانی سپہ سالار نے اپنے ترکی کے ہم منصب سے ہونے والی ملاقات میں ترکی سے شدت پسندی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کے لئے دوطرفہ تبادلہ ¾ ِ خیال کیا جبکہ ترکی اور پاکستان کے مابین دفاعی تعاون کی ضرورت کو خصوصی زور دیا دوسری جانب پاکستان اور ترکی کی حکومتوں کے درمیان بھی اعلیٰ سطحی سیاسی قیادتوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے پاکستانی وزیر اعظم اور ترکی کی مقتدر سیاسی قیادتیں بھی اپنے اِسی عزم کا کئی مرتبہ اعادہ کرچکی ہیں کہ پاکستان اور ترکی دونوں برادر ملک سماجی وثقافتی اصلاحات کے علاوہ صحت وتعلیم کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ماضی سے اور زیادہ بڑھ کر اپنے اپنے تجربات کے باہمی تبادلوں کا یہ سلسلہ یونہی جاری وساری رکھیںپاکستان ترکی تعلقات میں وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کو جو تیزی دکھائی دے رہی ہے وہ یقینا اِس خطہ میں اقتصادی و تجارتی اورثقافتی شعبوں میں بھی حیرت انگیز خوشحالی کی ایک نو ید ہے کم آمدنی والے پاکستانیوں کے لئے کم لاگت کی ہاو¿سنگ اسکیمیں‘ لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو بس سروسنز کی سہولتوں کی فراہمی ’ لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبے جبکہ سندھ میں زورلو انرجی کی طرف سے ہوا کے ذریعہ سے توانائی کے منصوبے اور ’اِن کمنگ فری ٹریڈ ایگر یمنٹ کے ذریعے سے ترکی اور پاکستان کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والا ایک مستحکم بندھن اپنے اِن رابطوں کو اور بھی زیادہ مضبوط سے مضبوط تر کر ئے گا۔