- الإعلانات -

ہندو طالبان کی حکمرانی

riaz-ahmed

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی برطانیہ یاترا ان کے لئے کانٹوں کی سیج ثابت ہو رہی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کادورہ برطانیہ ان کے لئے آسان ثابت نہیں ہو رہا۔بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے اس کا بھیانک چہرہ جہاں دنیا بھر میں بے نقاب کردیا ہے وہیں بھارت میں اقلیتوں، غیر مذہب اور غیر ملکیوں پر بڑھتے ہوئے ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر شدید احتجاج کیا جارہاہے۔
برطانوی اخبارات نے بھی مودی کی عوام کش پالیسیوں کے خلاف مضامین لکھے اور مودی کی برطانیہ یاترا پر سخت تنقید کی ہے۔ برطانوی اخبار گارجین نے ان کی پالیسوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہندو طالبان کی حکمرانی ہے۔ اخبار میں شائع مضمون میں ان کی پالیسوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ہندوطالبان سے تشبیہ دی ہے اور کہا ہے کہ مودی نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کا امیج بہتر بنانے کے لئے چین کے نعرے یعنی’ سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع کے ساتھ ابھرتی ہوئی معیشت‘ کوچرایا اور نتیجے کے طور پر ہندو انتہا پسندی کی لہرکے سا منے انسانی حقوق پامال ہو گئے۔ اخبار نے نریندر مودی کی شخصیت پر تبصرہ بھی کیا کہ وہ ایسے شخص نہیں ہیں جو اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو تحمل سے سنیں۔ ان کے دور حکومت میں 9 ہزار غیر سرکاری تنظیموں کو غیرملکی دشمن کہہ کر ان کی رجسٹریشن ختم کر دی گئی۔ صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بغاوت کے الزامات لگا کردھمکایا گیا۔ یہاں تک کہ ایک علاقائی گلوکار کی جانب سے تامل ناڈو کے گورنر پر الکوحل کی خرید و فروخت پر نشانہ بنانے پر گلوکار کو بھی ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ مودی کی پالیسیوں کے خلاف برطانیہ میں رہنے والے خاموش نہیں رہ سکتے۔ انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام ہورہا ہے۔ بھارت کی جو طاقت تھی وہ کمزوری میں بدل رہی ہے۔ اس کی طاقت اور خوبصورتی سیکولرازم میں تھی۔ ایک سیکولر ریاست میں ہی سیکڑوں نسلوں، زبانوں اور مذاہب کے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ پہلے بھارتی دانشوروں اور سیاستدانوں کو اور کوئی بات نہ ملتی تو ہم پاکستانیوں کو یہ طعنے دیتے تھے کہ دیکھو ہندوستان کا آئین سیکولر ہے۔ یہاں سکھ، مسلمان، شودر، چائے بیچنے والا، ہندو کوئی بھی ملک کا وزیر اعظم یا صدر بن سکتا ہے، ملک کے کسی بھی عہدے پر تعینات ہوسکتا ہے، پاکستان کے آئین میں یہ گنجائش موجود نہیں ہے۔
بھارتی وزیر اعظم کے بعد بھارتی صدر بھی انتہا پسندی کا شکار ہوگئے۔ روا داری کا لیکچر دینے والے بھارتی صدر نے ہریانہ میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی کا بل منظور کر لیا۔ گائے ذبحہ کرنے پر دس سال قید ایک لاکھ روپے جرمانہ ہو گا۔پوری دنیا کے سامنے بڑی ڈھٹائی کیساتھ اپنے ملک کو سیکولر قرار دینے والے بھارتی وزیر اعظم کے جھوٹے دعوﺅں کے باوجود پورا بھارت عدم برداشت اور ہندو انتہا پسندی کی آگ میں جل رہا ہے۔ گائے کے ذبح کے مسئلے کو اچھال کر بھارت میں مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا ہے۔ اب بھارتی صدر کی طرف سے ہریانہ میں ایسے امتیازی قوانین کے نفاذ کے بعد کوئی بھی ذی ہوش بھارت کو سیکولر ملک قرار نہیں دے سکتا۔ ہندو انتہا پسند جماعتیں اور تنظیمیں مذہب کے نام پر مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے دلتوں کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اسکے باوجود برطانیہ کی پارلیمنٹ جو جمہوریت کی ماں کہلاتی ہے وہاں ایک ایسے متعصب انتہا پسند وزیراعظم کا برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب اور انکے ساتھ ایٹمی تعاون کے معاہدے نہایت افسوسناک ہے۔
نریندر مودی ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں انہیں نہ صرف برطانوی میڈیا بلکہ برطانیہ میں رہائش پذیر کشمیریوں،سکھ، دلت برادری اور اقلیتوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور نریندر مودی کے خلاف مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں جب کہ خود بھارت میں بھی اب تک کئی ادیب، فنکار اور دیگر اہم شخصیات مودی حکومت کی بھارت میں بڑھتی شدت پسندی پر خاموشی کے باعث احتجاجاً اپنے اپنے ایوارڈ واپس کرچکے ہیں۔