- الإعلانات -

سی پیک منصوبہ۔۔۔بھارتی مبالغہ آرائی

سی پیک منصوبہ خوش اسلوبی سے جاری ہے، بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے۔ بھارتی خدشات بے بنیاد ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ پاکستان میں توانائی کے سترہ میں سے گیارہ منصوبوں پر کام شروع کردیاگیا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں بجلی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا۔ چین امن اورترقی کا وکیل ہے ۔ خطے میں بالادستی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ سی پیک پر بھارت مبالغہ آرائی سے باز رہے۔ اس منصوبے کی بدولت ہی ایشیا اور یورپ میں منڈیوں تک رسائی کے مختلف ذرائع سڑک، ریل اور بندرگاہ جیسے منصوبوں کو مربوط کرنے کیلئے چین مسلسل کام کر رہا ہے۔ چین سی پیک منصوبے کے ذریعے اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے اس کا پاکستان اور بھارت کے درمیان خود مختاری اور علاقائی تنازعات میں مداخلت کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔بقول چینی حکام سی پیک سے علاقائی خود مختاری کے معاملات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ چین نے بھارت کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ چین اس منصوبے میں پاکستان کی زیادہ معاونت کر رہا ہے۔ چائنہ کے اقدامات دوسروں کی حمایت کی بجائے زیادہ سے زیادہ اپنے مفادات پر ملحوظ ہیں۔ہم نے ہمیشہ چین کو ترجیحی دی ہے اور تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ واضح رہے بھارت نے سی پیک منصوبے میں آزاد کشمیر کو شامل کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر ان کا حصہ ہے۔ تا چین دونوں ممالک کے مابین ایسے تنازعات کا حصہ نہیں بنے گا دونوں ملکوں کو باہمی معاملات مل بیٹھ کر حل کرنا ہوں گے۔جب سے پاک چین سی پیک منصوبہ شروع ہوا‘ بھارت کے پیٹ میں اٹھنے والے مروڑ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت نے یہ منصوبہ رکوانے کیلئے اپنی سی کوششیں اور سازشیں کی ہیں مگر ناکامی اس کا مقدر رہی ہے۔ بھارت کے وزراء‘ جرنیل اور بیورو کریٹ چین کے دورے پر جا کر ایک ہی راگ الاپتے ہیں کہ سی پیک پراجیکٹ ختم کیا جائے۔ وزیراعظم مودی خصوصی طور پر چینی قیادت سے مل کر سی پیک پر اپنے بے جا تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں مگر چین کی طرف سے اس منصوبے کی بھرپور وکالت اور حمایت کی جاتی ہے۔ بھارتی ڈھٹائی کی بھی کوئی حد نہیں ہے‘ اسکی طرف سے منصوبے کی بدستور مخالفت جاری ہے۔ اس نے سی پیک کو رول بیک کرانے کیلئے سازشوں کا جال بھی بنا۔ پاکستان میں انہی لوگوں پر پھر سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کی جو کالالاغ ڈیم پر بھارتی پروردہ ہونے کا حق ادا کررہے ہیں۔ اس نے بے بنیاد‘ لغو اور منفی پراپیگنڈہ کرکے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس سے اہم شخصیات بھی متاثر ہوئیں۔ بھارت نے ’’را‘‘ کے اندر سی پیک کیخلاف ایک ڈیسک قائم کیا جس کیلئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کئے گئے مگر پاکستان میں سی پیک پر قوم اس قدر سنجیدہ اور حکومت کمٹڈ ہے کہ دشمن کو کوئی مخالفت کرنیوالے بکاؤ لوگ نہیں مل رہے اور یہ اگر کہیں ہیں تو بھی قیمت وصول کرکے دبک کے بیٹھے ہوئے ہیں جو مناسب موقع پر بھارت کی نمک حلالی کر سکتے ہیں۔ حکومت اور اداروں کو ان سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔بھارت ایک طرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں راہداری گزرنے پر سیخ پا ہے‘ اس کا عیاری و مکاری پر مبنی موقف ہے کہ یہ متنازعہ علاقے ہیں اس لئے سی پیک کو ان علاقوں سے نہ گزارا جائے۔ چین نے بھارت کے خدشات‘ تحفظات‘ اعتراضات اور مخالفت کو سرمو اہمیت نہیں دی بلکہ سی پیک کی تکمیل پر پہلے روز کی طرح عزم و ارادے کا اظہار کیا۔