- الإعلانات -

عوام کو بیوقوف بنانے کی پالیسی

یہ سچ ہے کہ وزیراعظم پاکستان چین سعودی عرب امریکہ اور برطانیہ کے دورے کررہے ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان دوروں کے قوم کو کیا مفادات حاصل ہورہے ہیں۔ ان مفادات سے قوم نہ تو پوری طرح آگاہ ہے اور نہ مفادات سے قوم مستفید ہورہی ہے آئے روز حکمرانوں کے چیلے ملکی ترقی کے بلندو بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں۔ یقیناًوہ جھوٹ بھی بولتے ہیں تو اس جھوٹ سے وہ حکمرانوں کو خوش کرتے ہیں اگر عوام کا فائدہ نہیں کرتے تو عوام کا نقصان نہیں کرتے بلکہ صرف حکمرانوں کی خوشی کا سامان میسر کرتے ہیں۔اس دیس پر حکمرانوں کی طبی تاریخ ہے! حکمران کبھی قائداعظم کی صورت تو کبھی زرداری صاحب کی شکل میں عوام کی خدمت کرتے ہیں حکمران ائے ! فوجی حکمران۔ ایوب خان، یٰحیٰ خان، ضیاء الحق اور پھر پرویز مشرف کی صورت میں آئے جو بھی آیا بادشاہ ٹھہرا۔اسی طرح سکندرمرزا ،اسحاق خان بیوروکریسی کے نمائندے بن کر آئے۔ شوکت عزیز معین قریشی اور ورلڈبنک کے ایجنٹ کے طور پر پاکستان کے حکمران بنائے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو،بینظیر بھٹواور نواز شریف عوامی نمائندے بن کر حکمران بنیں مگر یہ عوامی نمائندے بھی عوام کیلئے وہ کچھ نہ کر سکے جو ان کا فرض تھا! موجودہ حالات پر تبصرہ متاع وقت کے مترادف ہے کیونکہ اب عوامی نمائیدگی سے مراد عوام کے ووٹوں سے عوام پر حکومت کا حق سمجھا جاتا ہے اوریہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ عوامی نمائیدگی سے مراد اپنی حکومت کو عوام پر قائم رکھنا ہے! 25 مئی کو وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف ساہیوال میں ایک بجلی کے منصوبے کے افتتاح کیلئے تشریف لے گئے! جو 22 ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہوا عوام کو بیوقوف بنانا حکمرانوں کی پالیسی کا حصہ رہا ہے ۔ اسی لئے ساہیوال کا بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ بھی عوام کو بیوقوف بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے ! کیونکہ صدرز رداری کی حکومت قائم دائم تھی سوائے پنجاب کے ہر طرف زرداری کا طوطی بولتا تھا۔ ملک ہر طرح کی پریشانی سے دوچار تھا! پنجاب میں شریف برادارن کی حکومت تھی اور پنجاب کے وزیزاعلیٰ ہوتے ہوئے میان شہباز شریف نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اپنی کا بینہ کا اجلاس یادگارپاکستان لاہورپر منعقد کرکے احتجاج کیااور یوں وفاقی حکومت کے خلاف بجلی کے معاملے پر تحریک کا اعلان کیااور اقتدار سنبھالنے کے چھ ماہ کے اندر لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا دعویٰ کیا گیا! یقیناًاس احتجاج کو خوب سہرایا گیا! عوام نے حکومت پنجاب کے احتجاج پر لبیک کہا مگر زرداری حکومت کے خاتمہ کے باوجود عوام کو چار سالوں میں صرف بجلی کے منصوبوں کی خوشخبریاں ہی ملی ہیں اور حکمرانوں کے چاپلوسوں نے زبانی جمع خرچ کرکے عوام کو احمقوں کی جنت میں پہنچادیا ہے مگر حالت جوں کی تو ں ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ساہیوال قادرآباد کول پلانٹ کا افتتاح کرکے عوام پر احسان تو کردیا مگر موصوف کو کیا جرکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں کوئی کمی نہ ہوئی ہے بجلی کی لوڈشیڈنگ زوروں پر بھی ہو تو وزیرا عظم ہاوس ۔ وزیراعظم سیکریڑیٹ اور وزیر اعظم کے مہمان خانے ہوں کہ وزیراعظم کے جم خانے ہر وقت روشن اور پررونق ماحول پیش کرتے ہیں بارے قاعدآباد کول پراجیکٹ کے افتتاح کی ہو رہی ہے تھی افتتاح ہو گیا! وزیر اعظم نے جلسہ کر دیا دھواں دھار تقاریر ہوگئیں! مگر سچ یہ ہے کہ ملک اس وقت بھی بجلی کی کمی کے شدید بحران کا شکار ہے بجلی کے بحران نے پوری قوم کو مصیبت سے دوچار کررکھا ہے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ملک کا ہر طبقہ پریشان ہے مگر بجلی کا بحران زرداری حکومت کے بعد میاں برداران کیلئے بھی مہلک مسئلہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ جب تک پانی سے بجلی پیدا کرنے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی جاتی حکمران جھوٹے اور عوام پریشان ہوتے رہیں گے۔