- الإعلانات -

سپریم کورٹ میں پانامہ عملدرآمد کیس کی سماعت

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے خصوصی بنچ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو جرح کرنے کیلئے عدالت طلب کرنے کی استدعا کی ہے۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری ، جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف ، عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد نے اپنے اپنے دلائل مکمل کرلئے ہیں جبکہ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے نیب اور ایف آئی اے کے وکلا کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ دوران سماعت عدالت نے کہا کہ ہم جے آئی ٹی رپورٹ کے پابند نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ عدالت پر لازم نہیں ہے کہ وہ جے آئی ٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرے، درخواست گزاروں کوغیر قانونی پراپرٹی کا تعلق نواز شریف سے ثابت کرنا ہوگا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے جے آئی ٹی رپورٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم نوازشریف کو نااہل قرار دیا جب کہ جسٹس گلزار نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے اتفاق کیا اور 3 ججز نے مزید تحقیقات کی ہدایت دی۔ تحقیقات کا معاملہ عدالت اور جے آئی ٹی کے درمیان ہے، اب جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ عدالت کو کرنا ہے۔ نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے متحدہ عرب امارات سے قانونی معاونت بھی حاصل کی، گلف سٹیل مل سے متعلق شریف خاندان اپنا موقف ثابت نہ کرسکا، گلف سٹیل مل 33 ملین درہم میں فروخت نہیں ہوئی، جے آئی ٹی نے طارق شفیع کے بیان حلفی کو غلط اور 14 اپریل 1980 کے معاہدے کو خود ساختہ قرار دیا، اپنی تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی نے حسین نواز اور طارق شفیع کے بیانات میں تضاد بھی نوٹ کیا۔ جے آئی ٹی نے فہد بن جاسم کو 12 ملین درہم ادا کرنے کو افسانہ قرار دیا۔جے آئی ٹی نے اس خط و کتابت تصدیق کی۔ لندن فلیٹ شروع سے شریف خاندان کے پاس ہیں، تحقیقات کے دوران مریم نواز نے اصل سرٹیفکیٹ پیش نہیں کئے، ٹرسٹی ہونے کے لئے ضروری تھا کہ مریم نواز کے پاس بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے۔ بیریئر سرٹیفکیٹ کی منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ موجود نہیں، فرانزک ماہرین نے ٹرسٹ ڈیڈ کے فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔ حدیبیہ پیپر کیس سے متعلق نعیم بخاری نے کہا کہ حدیبیہ کیس کے فیصلے میں قطری خاندان کا کہیں تذکرہ نہیں، جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ اس میں قطری خاندان کا ذکر ہونا ضروری نہیں تھا، حدیبیہ پیپر ملز کی سیٹلمنٹ کی اصل دستاویزات سربمہر ہیں، جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے۔ انہوں نے جے آئی ٹی میں ایسے بیان دیا جیسے پولیس افسر کے سامنے دیتے ہیں۔ ان کا بیان تضاد کے لئے استعمال ہوسکتا ہے، جے آئی ٹی کے سامنے دیئے گئے بیانات کو ضابطہ فوجداری کے تحت دیکھا جائے گا، قانونی پیرامیٹرز کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق نوازشریف نے سعودی عرب میں عزیزیہ سٹیل ملز لگانے کیلئے کوئی سرمایہ موجود نہیں تھا، عزیزیہ سٹیل مل کے حسین نواز اکیلے نہیں بلکہ میاں شریف اور رابعہ شہباز بھی حصہ دار تھے۔جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنے دلائل میں کہا کہ میری درخواست نواز شریف کی اسمبلی تقریر کے گرد گھومتی ہے، نواز شریف نے اسمبلی تقریر اور قوم سے خطاب میں سچ نہیں بولا، جے آئی ٹی کے مطابق نواز شریف نے تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے نے قطری خطوط پڑھے بغیر درست قرار دیئے، نواز شریف نے کہا کہ قطری سرمایہ کاری کا علم ہے مگر کچھ یاد نہیں، نواز شریف نے اپنے خالو کو پہچاننے سے انکار کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگز سارا پاکستان جان چکا ہے لیکن ہم جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کے پابند نہیں، آپ کو یہ بتانا ہے کہ ہم جے آئی ٹی فائنڈنگز پر عمل کیوں کریں۔ جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ ہم جے آئی ٹی کی سفارشات پر کس حد تک عمل کر سکتے ہیں، بتائیں ہم اپنے کون سے اختیارات کا کس حد تک استعمال کرسکتے ہیں۔ جس پر توفیق آصف نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں وزیراعظم کی نااہلی کیلئے کافی مواد ہے، نعیم بخاری جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری سے عدالت کوآگاہ کرچکے۔ ہم جے آئی ٹی رپورٹ کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسے درست تسلیم کرتے ہیں۔ بادی النظر میں وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اگر بادی النظر کہہ دیا تو پھر کیس ہی ختم ہوگیا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ نیشنل بینک کے موجودہ صدر کی بات کر رہے ہیں۔ خواجہ حارث کے دلائل پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ اپنے دلائل کوایشوز تک محدود رکھیں تو آسانی ہو گی، چاہتے ہیں عوام اور عدالت کا وقت ضائع نہ ہو۔ پانامہ کیس جے آئی ٹی رپورٹ پر درخواست گزاروں اور وزیراعظم کے وکلاء کے دلائل جاری ہیں عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ آئین و قانون کے مطابق ہوگا اور اس کے دوررس نتائج برآمد ہونگے۔ بہتر یہی ہے کہ جے آئی ٹی کو متنازع نہ بنایا جائے کیس چونکہ زیر سماعت ہے اس پر حرف گیری سے اجتناب کیا جائے۔
ایف سی کی گاڑی پر خودکش حملہ
پشاور کے علاقہ حیات آباد میں ایف سی کی گاڑی پر خود کش حملہ کے نتیجہ میں میجرجمال شیرانی سمیت2اہلکار شہید اور 4ایف سی اہلکاروں سمیت11افراد زخمی ہو گئے۔ دوسری طرف ضلع چمن میں چیک پوسٹ کے قریب بارودی مواد کے دھماکہ میں سکیورٹی اہلکار شہیدہو گیا۔ ادھر وزیر اعظم نواز شریف، دفاعی وزیر داخلہ چوہدری نثار، گورنر خیبر پی کے اقبال ظفر جھگڑا نے دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد قوم کے حوصلے متزلزل نہیں کر سکتے ۔ وزیر اعظم نے مذمتی بیان میں کہا کہ ایسی گھناؤنی کارروائیوں کے مرتکب عناصر جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ وزیر داخلہ نے پشاور دھماکہ کی رپورٹ طلب کر لیا۔ دہشت گردوں نے ایف سی کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ باغ ناران چوک کے قریب سے گزر رہی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اسلام آبادمیں ایک بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے جو سرحد پار افغانستان کے علاقے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ پاکستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے چند منحرف گروپ ان کی جانب مائل ہیں ضلع چمن میں بارودی سرنگ کا دھماکہ پاک افغان سرحدی علاقے مکی باچا میں ایک چیک پوسٹ کے قریب نصب بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا یہ بارودی مواد بڑے تخریبی مقاصد کے لئے رکھا گیا تھا تا ہم دہشتگردوں جرائم پیشہ عناصر کے مذموم عزائم ناکام ہوئے۔ ایف سی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور راستے کلیئر ہونے تک لوگوں کو آنے جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ایف سی کی گاڑی پر خودکش حملہ اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گردوں کا وجود باقی ہے پاک فوج دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن آپریشن کررہی ہے لیکن بچے کھچے دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیاں کرکے ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہونگے۔ خدا وند کریم میجرجمال شیرانی اور دیگر افراد کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے ۔ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم شہداء کو سلامپیش کرتی ہے۔