- الإعلانات -

کشمیریوں کی قربانیوں سے تحریک آزادی میں تیزی

کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام نے یوم الحاق پاکستان منایا۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے مکمل ہڑتال کی۔ جبکہ آزاد کشمیر میں سماجی، سیاسی، تاجر اور عوام کی نمائندہ مختلف تنظیموں کے رہنماؤں کے تعاون سے ایک سیمینار ہوا۔ پاکستان کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیلئے کئی ریلیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے بلبل نوگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 3کشمیری نوجوانوں کو اسلام و آزادی کے نعرہ بازی کے بیچ سپرد خاک کردیا گیا جبکہ وادی میں ہڑتال سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔ دیالگام اور اننت ناگ کے کچھ علاقوں میں پتھراؤ اور شیلنگ کے واقعات بھی ہوئے۔ شہداء کی یاد میں ضلع اسلام آباد کے بیشتر قصبہ جات میں مکمل ہڑتال رہی ،جب کہ موبائیل انٹرنیٹ بند کیا گیاتھا۔ ادھر مومن آباد اور دیالگام میں برہم نوجوانوں اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ،جس دوران نوجوانوں نے فورسز پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں بھارتی فوج نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں رواں برس 12عام شہری ، 38سیکورٹی فورسز اہلکار اور 95مجاہدین جاں بحق ہوئے۔ وادی کشمیر میں حالات دن بدن معمول پر آرہے ہیں تاہم کئی عناصر حالات درہم برہم کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ مجاہدین نے منصوبوں کو ناکام بنانے کیلئے سیکورٹی فورسز کو متحرک کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق سال 2017کے دوران پتھراؤکے واقعات میں پچھلے برسوں کے مقابلے میں کافی کمی۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین کیخلاف فوجی آپریشن جاری رہیں گے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین اور جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے نیوی کی خصوصی مارکوفورس وادی میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے کمانڈوز کی یہ فورس سخت سے سخت ماحول، حالات اور صورتحال میں ’’دہشت گردوں‘‘ اور ’’مجرموں‘‘ کیخلاف موثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارتی بحریہ نے ابتدائی طور پر 30مارکوس کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں تعینات کر دیئے جو خصوصاً دریائے جہلم کے اطراف دشوار گزار جنگلوں اور جھاڑیوں میں چھپے مجاہدین کیخلاف کارروائی کریں گے۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک بار پھر تیزی آ چکی ہے۔ جس ظالمانہ انداز میں تحریک آزادی کے پروانوں کی آنکھوں میں گولیاں ماری گئی ہیں اس پر انسانیت بھی تڑپ اٹھی ہے۔ہم بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ بھارت کا ظلم تحریک کو مزید تقویت دے گا۔ اس مسئلے پر عالمی ضمیر کو جگائیں گے۔ بھارت کے 7لاکھ فوجی کشمیریوں کی تحریک کو دبا نہیں سکے۔ بھارت کبھی طاقت سے کشمیریوں کی تحریک کو دبا نہیں سکے گا۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتے رہینگے۔ تمام ادارے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کو عالمی سطح پر اجاگر کریں۔ برہان وانی آزادی کا سپاہی تھا۔ کشمیری اپنا حق لے کر رہیں گے۔ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور آزادی کے اس سفر میں انکے شانہ بشانہ رہیں گے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ بھرپور طریقے سے اٹھا رہے ہیں اور حکومت نے تمام سفارتخانوں کو مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف اجاگر کرنے کی فوری ہدایات کی ہیں۔ کشمیر کے نہتے شہریوں کے خلاف بھارتی سرکار کی طرف سے قوت کا بے رحمانہ استعمال، مہذب دنیا کے لئے ناقابل قبول ہے مسلسل عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیر میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ اہل کشمیر کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی رشتہ کے سبب اہل پاکستان ان کے دکھ کو اپنا دکھ اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں۔ پاکستان اور کشمیر ایک تہذیبی اکائی کا نام ہے۔ پاکستان کے عوام کشمیری بھائیوں کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں۔ بھارت کی سکیورٹی فورسز نے جس بے دردی کے ساتھ عام شہریوں کا خون بہایا ہے اس سے پاکستان سمیت مہذب دنیا میں شدید اضطراب ہے۔ بھارت نے جنوبی ایشیا کے عوام کے جذبات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا تو یہ خطے کے امن کے لئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضے کے ساتھ اہل کشمیر کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے جس طرح انسانی حقوق کو پامال کیا وہ کسی مہذب ریاست کے لئے باعث عزت نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر مین انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کی طرف سے ریاستی قوت کے اس استعمال کی مذمت کرتی رہی ہیں۔