- الإعلانات -

ہیجانی سیاست

آج کا دن پاکستان کی سیاست میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔شاید کل کوئی اچنبھا ہوجائے لیکن آج بھی حیرانگی سے خالی نہیں ہے ۔سیاست میں شدید ہیجان کی سی صورت پیدا ہوچکی ہے ۔کوئی جمہوریت بچارہا ہے ،کوئی جمہوریت کے نام پراپنے آپ کو بچا رہا ہے ۔کسی نے بیرونی سرمایہ کاری کو ڈھال بنا رکھا ہے اورکسی نے عوامی عدالت کی آواز لگا دی ہے ۔مگر ہونا وہی ہے جو اصل حقائق پر مبنی ہوگا ۔فیصلہ تو کچھ نہ کچھ واضح ہے مگر قبل از وقت کوئی بھی پشین گوئی نہیں کی جاسکتی کہ کیا ہوگا یا کیا نہیں ہوگا ۔البتہ جو بھی ہوگا وہ سب کے سامنے آجائیگا ۔بہت زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں ہے ۔آمدہ ہفتہ اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہے آج کے دن بھی جو کچھ ہوگا اس کا اثر بھی سیاست پر ضرور پڑیگا ۔آج ہونے والی پریس کانفرنس کے حوالے سے ہمارے تجزیہ نگار مختلف قلابازیاں مار رہے ہیں ۔ہر ایک بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے کوئی کہتا ہے کہ فارورڈ بلاک بنے گا ،کوئی کہتا ہے ن لیگ میں ہی رہیں گے ،کوئی کہتا ہے حقائق کو سامنے لایا جائیگا یہ بھی کچھ ایسا ’’گپت‘‘ مسئلہ ہے کہ واضح طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ۔اس کا بھی انتظار کرنا پڑے گا ۔ایک بات واضح ہے کہ چوہدری نثار علی خان ایک بااصول سیاستدان ہیں گذشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے انہیں مرد بحران قرار دیا اور شہباز شریف کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کو راضی کریں ۔گذشتہ ہی روز خواجہ آصف ،شاہد خاقان عباسی اور خواجہ سعد رفیق بھی چوہدری نثار سے ملے جس میں چوہدری نثار نے واضح کیا کہ میں پارٹی کی پالیسی سے قطعی طور پر انحراف نہیں کروں گا اور کسی بھی غلط بات کی مجھ سے کوئی توقع نہ رکھی جائے لیکن شکایت کرنا تو میراحق ہے ۔جو شکایت والی بات ہے وہ وزن رکھتی ہے اور اسی ایک لفظ کے اندر ساری کہانی موجود ہے ۔اس سے قبل بھی ن لیگ کاوزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس کے حوالے سے میڈیا پربہت سی خبریں آئیں کہ چوہدری نثار نے بڑی اہم گفتگو کی تھی ۔وہ خبروں کی زینت بھی بنی تاہم وزیرداخلہ کے ترجمان نے ان باتوں کی تردید کی کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔لہذا میڈیا کوئی ایسے خیالی پلاؤ پرخبریں نہ چلائے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر خبر کے پیچھے ایک خبر ہوتی ہے اور میڈیا کا کام ہی خبر میں سے خبر نکالنا ہے ۔اس کے بعد وزیرداخلہ کی مختلف اجلاسوں سے غیر حاضر ہونا یہ بھی تو ایک سوالیہ نشان ہے ۔اس سے قبل انہوں نے ایک دن اور پریس کانفرنس رکھی اس کے بعد ان کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی اور ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا ۔پھر یہ پریس کانفرنس آج کے دن منتقل ہوگئی چونکہ چوہدری نثار ڈٹ کر بات کرنے والے سیاستدان ہیں اور جوان کے دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر ہوتا ہے ۔اسی طرح کی سیاست اگر ہمارے ملک میں رائج ہوجائے توپھر سارے مسائل ہی حل ہوجائیں گے۔مگرچونکہ اس طرح ہوتا نہیں ہے پس آئینہ کچھ اور ہے اس کے مصداق سیاست ہوتی ہے ۔کچھ لوگ اجالے میں اور کچھ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں ۔قوم بس آوے ،آوے اور جاوے ،جاوے میں ہی لگی رہتی ہے ۔دیگرسیاسی جماعتوں نے بھی اس وقت کمر کس لی ہے اور جو کچھ بھی آج سیاست میں ہورہا ہے ۔ہر ایک اس کا کریڈٹ لینے کے درپے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس سے قبل تو دیکھا جائے تقریباً تمام پارٹیاں خاموش ہی بیٹھی رہیں صرف ایک ہی جماعت تھی جس نے پانامہ کے معاملے کو اٹھائے رکھااور وہ تحریک انصاف تھی ۔عمران خان شور مچاتے رہے ،کیس چلتا رہا ،تحقیقات ہوتی رہیں ،پھرجے آئی ٹی بن گئی ،مٹھائیاں بھی تقسیم ہوئیں ،اعتراضات بھی ہوئے ،اس موقع پر دیگر سیاسی پارٹیوں نے انٹری ڈالنا شروع کردی اور اب بات یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک دوسرے پر طعنے اورجواب طعنے کا ماحول شروع ہوچکا ہے ۔ایک کہتا ہے کہ میں نے کیا ،ایک کہتا ہے کہ میں نے کیا ۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جو بھی ہو جمہوریت کیلئے بہتر ہو ۔میں میں کے چکر میں جمہوریت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ ہمارے سرحدی حالات بھی کوئی اتنے پرسکون نہیں ہیں ۔لہذا اداروں کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے ۔جب تک ادارے مضبوط رہیں گے ۔ہماری سرحدیں بھی محفوظ رہیں گی ۔سیاستدانوں کو ہوش والی سیاست کرنا چاہیے ۔جہاں ملک اور قوم اوراستحکام کا مسئلہ درپیش ہو وہاں سب کی ایک ہی زبان ہونا چاہیے ۔رہی بات کرپشن کی تو اس کو صورت میں ختم ہونا چاہیے ۔راقم نے کچھ ہفتے قبل ہی یہ مشورہ دیا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ Truth and recociliation comission بنا لے ۔مسائل حل ہوجائیں گے لیکن اس نقار خانے میں کون آواز سنے ۔یہاں پر تو سب اپنے اپنے ڈھول پیٹ رہے ہیں اس سے پہلے کہ ڈھول کی چادر پھٹ جائے تو آوازوں کو آہستہ کرلینا چاہیے تب ہی مسائل حل ہوں گے ۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اس ملک میں کسی ڈھائی سو گز سے بھی زیادہ مکان ہے تو وہ بھی حساب دے پھر دیکھیں کیسے سب ٹھیک ہوتے ہیں ۔