- الإعلانات -

برطانوی ادارے کا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کااعتراف

مغربی ملکوں خاص کر امریکہ اور برطانیہ نے 11/9 کے بعد بڑی گہری سنجیدگی سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی معاملات پر غور کرنے اور اپنے مفادات کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کی بنا پر دھیان دینا شروع کیا توانہیں ماننا پڑا کہ تقسیمِ ہند کے موقع پر پاکستان کوافغانستان کے ساتھ فوجی اعتبار سے ایک انتہائی متنازعہ سرحد ورثے میں ملی تھی ڈیورنڈلائن کو کوئی مانے یا نہ مانے اس کی نظری وفکری ترجیحات اپنی جگہ، لیکن یہ پاکستان اور افغانستان کے مابین کھنچی گئی ‘ڈیورنڈلائن’اب باقاعدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحد ہے، پاکستان کے قبائلی علاقے افغان بارڈر تک جڑے ہوئے ہیں، 11/9 کو افغانستان میں ‘جائز یا ناجائز’ امریکی اور نیٹوافواج کی دراندازی کے نتیجے میں7 اکتوبر2001 سے تادمِ تحریر عدم استحکام کی تشویش ناکی کی حد تک صورتحال بڑی گھمبیر چلی آرہی ہے، 16 برس ہونے کو آئے، افغانستان میں نیٹو اوربقیہ امریکی فوجی دستوں اور افغان مزاحمتی گوریلا گروہوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں بڑے گہرے مضر اثرات ڈالے ہیں، جس کی بنا پر افغان جانب سے آنے والے بھارتی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی پاکستان میں کی جانے والی کارروائیوں سے انکار نہیں کیا جا سکتا پاکستان مخالف خفیہ ایجنسیوں کی ایما پر پاکستانی قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہوئے اِن میں سے کچھ تو پاکستانی فوج کی گرفت میں آئے اور کچھ موقع پر پاکستانی فوج کے ساتھ مقابلہ کرتے مارے گئے جو گرفتار ہوئے تفتیش کے دوران پاکستانی تفتیشی اداروں کو ان سے یہ پتہ چلا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لئے اِن کی حوصلہ افزائی پشت پناہی اور مالی مدد و اعانت افغانی صوبوں میں قائم بھارتی قونصل خانوں سے کی جاتی ہے،16 برس سے یہ مذموم سلسلہ اب تک جاری ہے، پاکستان کے قبائلی متاثرہ علاقوں میں چونکہ 70 برس سے برطانوی عہد سے پولیٹکل گورنس کا سسٹم رائج ہے، وہاں 11/9 سے قبل اور11/9 کے بعد زیادہ خصوصی توجہ کے ساتھ پاکستانی سیکورٹی اداروں کی موجودگی کو ملکی قبائلی علاقوں میں اور زیادہ موثر کردار دیدیا گیا۔ عالمی غیر جانبدار مبصرین اور تھنک ٹینکس اداروں نے غیرمتعصبانہ نکتہِ نگاہ سے جنوبی ایشیا کے اہم ایٹمی ملک پاکستان کی سلامتی پر دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وحشیانہ مذموم سرگرمیوں پر ماضی میں بھی بڑے سوالات اٹھائے۔ آج بھی وہ اِسی کھوج میں مگن ہیں جن میں برطانیہ لندن کے’رائل اینڈ سروسنزانسٹی ٹیوٹ آف دفاع اور سیکورٹی مطالعہ’ جیسا انتہائی معتبر ادارہ شامل ہے آر یو ایس یو’ نے اِسی ہفتے کے آغازمیں اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کی فوج نے گزشتہ 16 برسوں میں ایک طرف افغانستان سے پاکستان میں درآمد ہونے والے دہشت گردوں کی کمر توڑنے میں یقیناًکامیاب عسکری تاریخ رقم کی ہے تو دوسری جانب پاکستان کی مغربی سرحد جو پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت سے ملحق ہوتی ہے جو اوپر شمال میں مقبوضہ کشمیر تک پہنچتی ہے، جسے ‘لائن آف کنٹرول’ کہتے ہیں، وہاں بھی آجکل بھارتی سائیڈ سے مسلسل اور متواتر سیزفائرکی خلاف ورزیاں ریکارڈ پردیکھی جارہی ہیں، ایسی پیچیدہ اورسنگین صورتحال میں پاکستانی فوج کی قیادت پربڑی گہری ذمہ داریاں آن پڑی ہیں’فوجی نکتہِ نگاہ سے نئی دہلی کی حکومت عقل اورہوش کی روش اختیار کرنے کی بجائے کل تک دھمکیاں ہی دیا کرتی تھی، اب لائن آف کنٹرول کے نزدیکی علاقوں پر پاکستانی شہریوں کو تاک تاک کراپنی وحشیانہ گولہ باری کا نشانہ بنانے کی بھارت نے انتہائی پالیسی اپنالی ہے ‘پاکستانی فوج کے صبروتحمل کا امتحان لینے کی جارحانہ پالیسیوں سے لگتا ہے کہ بھارت نہتے اورمعصوم پاکستانی کشمیری شہریوں کوشہید اورزخمی کرنے کی اپنی بہیمانہ پالیسیوں سے ایک قدم پیچھے ہٹانے پر تیارنہیں بھارتی مودی انتظامیہ کل یہ ڈنگیں ماررہی تھی کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا تہیہ کیئے ہوئے ہے؟ مگر اس کی یہ بچگانہ خواہش پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے متحرک ہوکر ہواوں میں اڑا کررکھ دی، صدر ٹرمپ اپنی ذات میں کتنا ہی مسلم دشمن کیوں نہ ہو وہ خود امریکی مقتدر اورحساس حلقوں میں آجکل ‘رسک’ کے طورپر کمرہِ جانچ پڑتال میں ہے سیاسی بیانات دیتا رہے دنیائےِ اسلام کے خلاف امریکی گوروں کی جنونی اقلیت کے جتنا چاہے جذبات کو گرماتا رہے اس کے ہاتھ انشا اللہ خالی رہیں گے، بھارت نے ضرورت سے زیادہ اس پر اعتماد کرکے اپنا نقصان کیا ‘آریوایس یو’نے بجا طور پر بھارت سمیت دنیا بھر کے ان پاکستان مخالف طبقات پر اپنے تجزئیے میں بتادیا ہے کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی حالات کی ناگفتہ بہ صورتحال سے یہ قطعی نہ سمجھا جائے کہ پاکستان کا دنیا سے خارجہ امور میں کوئی رابطہ نہیں رہا، نہیں یہ بالکل غلط اپروچ ہے، ماضی کے برعکس موجودہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے تصاویر کی دنیا میں نمایاں رہنے کی بجائے اپنی اعلی پیشہ ورانہ عسکری وابستگی کی حکمت عملی کو بروئےِ کار لاکر نہ صرف امریکیوں کو یہ باورکرادیا ہے کہ وہ پاک افغان بارڈر پر کڑی نگرانی کو یقینی بنانے کے لئے سرحدی باڑقائم کرنے میں پاکستان کے جائز اقدامات کو کابل کے کمزور ہی سہی’ مگر افغان حکام کو صاف صاف بتادیں کہ پاکستان صحیح راہ پر گامزن ہے اب پاکستانی قبائلی علاقوں کے آخریLast end’راجگال’ کے انتہائی مشکل ترین اور دشوار گزار وادی میں پاکستانی فوج فیصلہ کن آپریشن خیبر فور کے ذریعے دنیا کے انتہائی سفاک دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ملیامیٹ کرنے جیسے اقدامات کررہی ہے اور ساتھ ہی پاک افغان بارڈ مینجمنٹ کا مشکل ترین کام بھی پاکستانی فوج کے بہادر جوان اور افسران بخوبی انجام دے رہے ہیں، دوسری جانب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے جنوبی علاقے میں بلوچستان کے ایرانی بارڈر کی نازک صورتحال کو بہتر طور پر سنبھالا دینے کے لئے اپنی اعلی سطحی مشاورتی عسکری ٹیم کے ساتھ بڑے متحر ک ہوچکے ہیں اگر آج کل کسی کو پاکستانی میڈیا میں اپنے جوانوں کے ساتھ اگلے مورچوں پر جنرل قمر جاوید ہر روز’مکے’ لہراتے ہوئے نظرنہیں آتے، توجنابِ والہ! کوئی اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو منہ توڑ جواب دینے والا کوئی نہیں ہے فوج میں قیادت کی برتر اہمیت اسی وقت اپنی مخفی جرات مندانہ صلاحیتوں کا اظہار ضرور کرتی ہے جب کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوجائے کبھی کبھی غیر ضروری اور بلاوجہ کی شہرت پیشہ ورانہ اہلیت وقابلیت کے ساتھ صلاحیت کو نقصان بھی پہنچاتی ہے، ایک باصلاحیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کی حامل فوج کو بدترین حالات میں اپنے عوام کے حوصلوں اوربھروسے اور اعتماد کی طاقت سے اچانک یکایک ٹھوس اور موثر جذبات کے ساتھ یک بیک نمایاں ہو کر عملا میدان میں اترناپڑتا ہے تو یہی کہیں جاکر دشمن کے چھکے چھوٹتے ہیں’آریوایس یو’نے اپنی تفصیلی و تجزیاتی رپورٹ میں پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں پر بھی تحسین کی نظر ڈالی ہے کہ’پاک فوج خلیجی ممالک اور ‘افغانستان میں اپنی نئی سفارتی کوششوں اور زمینی حکمتِ عملی کو بروئے کار لاکر ان خدشات کو دور کرنے کے لئے نہ صرف پرعزم ہے بلکہ پوری طرح سے عملی طور پرسرگرم بھی ہوچکی ہے ‘آریوایس یو’کی معتبر ر پورٹ میں وثوق کے ساتھ یہ امکان ظاہرکیا گیا ہے آنے والے دِنوں میں جنرل قمر باجوہ ایران کا دورہ بھی کرسکتے ہیں امید ہے کہ دونوں برادر پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات کو یقیناًفروغ ملے گا اور کوئی نہ کوئی بریک تھرو عالمی اور ملکی میڈیا کی توجہ کامرکز بنے گا۔
*****