- الإعلانات -

مسئلہ کشمیر اورعالمی برادری

ترال کے علاقے پلوامہ میں سیکڑوں نوجوان کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے اور اکٹھے ہوکر برہان وانی کی قبر تک مارچ کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گنز سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی، جن میں متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ،جس کے جواب میں نہتے نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے عوام کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روکنے کیلئے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل کردیں اور سید علی گیلانی سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا ۔ بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں سے ڈر کا یہ عالم ہے کہ 21 ہزار اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی حکومت ایک کیمیائی بدبو بم استعمال کرنے پر غور کررہی ہے جو پھٹنے کے بعد دھواں اور ناقابل برداشت بدبو خارج کرے گا۔کشمیری نوجوان بظاہر نارمل زندگی بسر کر رہا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں کچھ بھی نارمل نہیں۔ کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے نام پر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔ پولیس، نیم فوجی دستوں اور دیگر ریاستی قوتوں سے ٹکرانے کا عزم کمزور نہیں پڑ رہا۔ جن کے پاس ہتھیار ہیں وہ ہتھیاروں سے لڑ رہے ہیں اور جن کے پاس ہتھیار نہیں انہوں نے اینٹ اور پتھر ہی کو ہتھیار میں تبدیل کرلیا ہے۔ کشمیری نوجوان چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے یعنی انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔ اس سے کم کچھ بھی ملنے سے تشفی نہیں ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ جو سیاسی طور پر باشعور ہو وہ صورتِ حال کی نزاکت اور خرابی دیکھتے ہوئے کس طور نچلا بیٹھا رہے گا، احتجاج نہیں کرے گا؟کلگام کا ایک19 سالہ کشمیر ی نوجوان کہتا ہے کہ ’’ہم نے پتھر اس لیے اٹھائے ہیں کہ ہتھیار کم ہیں۔ 1990 کا عشرہ ہوتا تو میں بھی ہتھیار اٹھاکر حریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہوچکا ہوتا۔ یہ سب کچھ ہم اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ ایسی آزادی کس کام کی جو اسلام کی خاطر نہ ہو؟ ۔ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ کشمیریوں کی نئی نسل میں اس قدر اشتعال کیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ اس قدر اشتعال کیوں نہ ہو؟ اس نسل نے المیے پر المیہ سہا ہے، تدفین پر تدفین دیکھی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ اور جھیل کر اس میں اشتعال پیدا نہیں ہوگا تو اور کیا پیدا ہوگا؟ بہت سے نوجوانوں کے نزدیک عسکریت پسند بن جانا بھی آزادی حاصل کرچکنے کے مترادف ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئی نسل شدید مشتعل دکھائی دیتی ہے۔ والدین جوان اولاد کو سڑکوں پر آنے سے روکنا چاہتے ہیں مگر ایسا کرنے میں وہ کامیاب نہیں ہو پارہے۔ نئی نسل میں اشتعال غضب ناک حد تک ہے۔ اْسے بظاہر والدین کا خیال ہے نہ سیکورٹی فورسز کا خوف۔ اور یہ سب کچھ بلا سبب نہیں۔ بہت کچھ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔کشمیر میں ایک بڑا مخمصہ یہ ہے کہ والدین اپنی جوان اولاد کو احتجاج سے روکنا چاہتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ بھی اندازہ ہے کہ ان کی اولاد جو کچھ کر رہی ہے وہ غلط نہیں! ڈھائی تین عشروں کے دوران ریاستی اداروں نے جموں و کشمیر میں جو کھیل کھیلا ہے وہ اب نئی نسل کو انتہائی مشتعل کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہ بپھری ہوئی نسل بہت کچھ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے سفاکی اور درندگی اس قدر دیکھی ہے کہ اب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں۔کشمیر حالیہ دنوں میں جس بدامنی کا شکار ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں رہا۔1990 اور 2000میں بھارت نے لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کو دو الگ الگ ریاست قرار دیتے ہوئے پاکستان پر سرحد پار سے مجاہدین کو مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا الزام عائد کیا تھا اورمسلم اکثریتی کشمیر میں حالات معمول پر لانے کیلئے وادی میں ظلم کے پہاڑ توڑے تھے ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت نے اس وقت40 ہزارکشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ بھارتی حکومت مظاہرین اور گوریلا جنگ کے باغیوں میں فرق نہیں کر رہی ہے اور یہ مظاہرین پر ظلم ہے،پچھلے سال گرمیوں او ر خزاں کے موسم میں مظاہرین پربراہ راست شورٹ گن سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے درجنوں مظاہرین شہید ہوگئے۔ شورٹ گن جیسا خطرناک اسلحہ بھارتی فوجیوں نے اس سے قبل استعمال نہیں کیا لیکن اب کی بار مظاہروں اور احتجاج کی شدت بہت زیادہ ہے جس نے بھارت کے ہوش اڑا دیے ہیں اور اس نے باغیوں کو کچلنے کیلئے خطرناک اسلحہ استعمال کیا۔ بھارت نے پُرامن تحریک کو دبانے کیلئے پوری ریاستی مشینری کا استعمال کیا، فوجی طاقت سے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کی ، محمد مقبول بٹ ، محمد افضل گورو کو ناکردہ گناہوں کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکایا گیا، کشمیریوں کی عزت جان مال سب بھارت کے فوجی نشانے پر ہے۔ ان حالات میں عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی جموں کشمیر کی ڈیڑھ کروڑ عوام کیلئے بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ کشمیریوں کے حق میں اقوام متحدہ میں اٹھاراں قراردادیں پاس ہوئی ہیں مگر آج تک ان پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ اگر عالمی برادری جنوبی ایشیاء پاک وہندکے درمیان امن کی خواہاں ہے تو اْسے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنی قانونی ، اخلاقی ، ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا۔