- الإعلانات -

بھارتی کلچرل یلغار اور ڈی ٹی ایچ ڈیوائسز

پاکستان حالیہ چندسالوںسے بھارتی ثقافتی یلغار کاشکار ہے ۔ خصوصاً گزشتہ دس بارہ سال کے دوران جس طرح میڈیا کیلئے ماحول سازگار بنا اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز اور کیبل نیٹ ورک کیلئے بلا روک ٹوک لائسنس جاری ہوئے ،اس یلغار میں تیزی آچکی ہے۔اب تو یہ عالم ہے کہ ہماری تعلیمی درسگاہیں بھی اس کی زد میں ہیں، نئی نسل بھارتی کلچر کے ایسے رسیا ہوئے ہیں کہ وہ اپنے مہذب اور صاف ستھرے کلچر کی الف بے سے بھی ناواقف ہوچکے ہیں۔آج کے نوجوان کے چہرے کے خدوخال،بالوں کی تراش خراش،بول چال اورلباس دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ درسگاہوں میں بے ہنگم بال کھال دیکھ کر استاد کلاس میں ڈانٹ پلا دیتا تھا ،مگر شومئی قسمت کہ آج کے استاد نے بھی اپنا کردار بدل لیا ہے،اس کا سارا دھیان دو جمع دو پڑھانے پر تو ہے لیکن تربیت پر نہیں۔وہ بھلا کیسے اس جانب دھیان دے جب وہ خود اس بیرونی کلچرل یلغار کا شکار ہے۔ماہرین اسے ثقافتی جنگ سے تعبیرکرتے ہیں تو غلط نہیں کیونکہ اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوناشروع ہوچکے ہیں۔ اس سب کچھ کے سامنے بندھ باندھنا جہاںا جتماعی ذمہ داری ہے وہاںمتعلقہ حکومتی ذمہ داروںکی بھی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سدباب کریں، لیکن ماضی میں مجرمانہ غفلت برتی گئی ۔پیمرا اس سلسلے کی اہم حکومتی اتھارٹی ہے جسکے ذمہ جہاںمیڈیا کو ملکی قوانین کی پاسداری کروانا ہے وہاں کسی بیرونی ثقافتی یلغار کی روک تھام کےلئے بھی اقدامات اٹھانا بھی شامل ہیں۔ برسوں کی فرائض سے چشم پوشی کا ہی نتیجہ ہے کہ آج گھر گھر براہ راست انڈین چینلز سر عام دیکھے جارہے ہیں۔ اسکی وجہ وہ 20لاکھ سے زائد غیر قانونی بھارتی ڈش ٹی وی ، ٹاٹا سکائی، ایئر ٹیل ، ویڈیو کان، سن بگ، ڈی ٹی ایچ اور رئیلائنس وغیرہ کے ڈی کوڈرز ہیں جو سمگل ہوکرپاکستان پہنچ چکے ہیں۔یہ وہ خوفناک صورتحال ہے کہ جسکے خلاف اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آگے چل کر جہاں نئی نسل کی اخلاقی قدروں کا تباہی یقینی ہے وہاں اربوں ڈالرز کا معاشی و اقتصادی نقصان بھی بعید ازقیاس نہیں ہے۔یہاں حوصلہ افزاءبات یہ سامنے آئی ہے کہ اب پیمرا نے ایسے غیر قانونی ٹی ڈی کوڈرز یا ڈیوائس کےخلاف کریک ڈاﺅن کا آغاز کردیا ہے ۔ رواںماہ نومبر کے آغاز پر پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے غیر قانونی بھارتی ڈی ٹی ایچ ڈی وائسسز کی لعنت کو ناکارہ بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے۔اس سلسلے میں 4نومبر کو پیمرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ایک تقریب میں راولپنڈی اور اس کے گردونواح کے اضلاع چکوال ، جہلم اور اٹک وغیرہ سے قبضے میں لی گئی پانچ سو سے زائد ڈی ٹی ایچ ڈیوائس کو ناکارہ بنا یا گیا ۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے شروع اس مہم کے دوران پیمرا کی انفورسمنٹ ٹیموں نے پورے ملک سے 25 سو سے زائد ڈی ٹی ایچ ڈیوائسز قبضے میں لے لی ہیںجن کو ضائع کیا جا رہا ہے،ڈی ٹی ایچ ایک ایسی ڈیوائس ہے جسکے ذریعے آپ گھر بیٹھے بغیر کسی کیبل نیٹ ورک کے اس ملک کے چینلز دیکھ سکتے ہیں ۔یہ ڈی ٹی ایچ غیر قانونی اور غیر لائسنس یافتہ چینلز کی تقسیم کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ سے جاری تھا مگر پیمرا نے اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرکے احسن اقدام اٹھایا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان غیر قانونی آلات اورڈیوائسز کے ذریعے قومی معیشت کو سالانہ 200 ملین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مستقبل کے سرمایہ کاروں کیلئے ممکنہ خطرہ بھی ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں ایک اور اہم اقدام بھی اٹھایا ہے یعنی پاکستانی ڈی ٹی ایچ کیلئے درخواستیں مانگی جاچکی ہیں ۔ پہلے تین لائسنسوں کے اجراءکیلئے بولی 7دسمبر کو متوقع ہے، جس سے سرمایہ کاری اور مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ علاوہ ازیں اس سے مزید پاکستانی چینلز ڈرامہ ، ثقافت ،موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کو بھی فروغ ملے گا۔ یہاں بحیثیت پاکستانی ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی ذرائع کے استعمال سے گریز کریں جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے اور آپ کی نئی نسل تباہی کے دہانے پر جالگے۔غور کرنے کا پہلو یہ ہے کہ چند گھنٹوں کی لذت بھری تفریح سے برسوں سے بنی اپنی الگ قومی پہچان معدوم ہورہی ہے یہی ہمارے ازلی دشمنی کا بنیادی مقصد حیات ہے۔ لہذا غیر قانونی ڈیکوڈرز اور ڈیوائسز کے خلاف پیمرا کی کارروائی میں تعاون کریں بلکہ اس غیر قانونی ملک دشمن کام کرنے والوں کی نشاندہی بھی کریں تاکہ غیر ملکی ثقافتی یلغار کے آگے بندھ باندھا جاسکے۔
آخر میں الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی کا ذکر ہوجائے، اطلاعات ہیں کہ حکومت ایم کیو ایم کے قائد کی تقاریرپر لگائی جانے والی پابندی کو اٹھانے جارہی ہے۔اس سلسلے میں ایم کیو ایم حالیہ دنوں میں طے پانے والے معاہدے کے تحت حکومت پر دباﺅ ڈال رہی ہے ۔ اگر حکومت ایساکرتی ہے تو لازمی طورپر اس سے اسکی ساکھ کو بری طرح دھچکا لگے گا۔ الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی لگنے سے کراچی میں نفرت انگیز ماحول میںنمایاں کمی واقع ہوئی اور امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملی۔ حکومت کومحض سیاسی مفاد کے حصول کیلئے ایسا کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح ایک بار پھرکراچی کاامن داﺅ پر لگ جائے گا۔ پہلے ہی حکومت قومی ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد سے پیچھے ہٹتی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کو قومی سیاسی دھارے میں لانے پر کسی کو اعتراض نہیںہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کی قیادت سے اس بات کی یقین دہانی لے لی ہے کہ وہ اپنے اندر سے جرائم پیشہ عناصر کو خود باہر نکال پھینکیں گے یا پھر ان کی قیادت نفرت انگیز تقاریر سے پرہیز کرے گی۔اگر یسا ہے تو پھر اس سلسلے میں عوام اور دیگر سیاسی جماتعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ جب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ الطاف حسین اور اسکے ساتھ لندن میں بیٹھے دیگر لیڈروں کے بھارت سے خفیہ مراسم ہیںتو پھرکیوں نواز حکومت اپنی کشتی میں چھید کرنے پر تلی ہے۔ الطاف حسین کی نفرت انگیز تقاریرہوں یا پھر بھارت کی پاکستان میںکلچرل یلغار بادی النظر میں تمام کڑیاں ملتی ہیں۔