- الإعلانات -

آپریشن خیبرفور کے پہلے مرحلے میں دہشت گردوں کی پسپائی

آپریشن خیبرفورکاپہلامرحلہ مکمل کرلیاگیا۔پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب بلند ترین چوٹی کاکنٹرول سنبھال کرایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔قبائلی علاقے فاٹا میں آپریشن ردالفساد کے تحت جاری آپریشن خیبرفور کے دوران پاک فوج نے افغان سرحد کے قریب بلند ترین اور دشوار گزار چوٹی کو دہشت گردوں سے خالی کرالیا۔ آپریشن خیبر فور کے تحت گذشتہ رات 21 جولائی کو افغان سرحدی علاقے میں بلند ترین مقام بریخ محمد کنڈاو پر دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی جس میں متعدد دہشت گرد ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دئیے اور ان کے قبضے سے بارودی سرنگوں سمیت دھماکہ خیز مواد، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا جبکہ جھڑپ کے دوران بچ جانے والے کچھ دہشت گرد سرحد پار کرکے افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ کارروائی کے بعد پاک فوج نے علاقے کو کلیئر قرار دے کر 12 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنی چیک پوسٹیں قائم کردیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے راجگال کا مذکورہ پہاڑی علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں موجود پہاڑی چوٹیوں کو دہشت گرد علاقے پر نظر رکھنے اور ٹرانزٹ سٹوریج پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ دہشت گردوں نے چوٹی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے سخت مزاحمت کی لیکن پاک فوج کے عزم و حوصلے کے باعث دہشت گرد قبضہ برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے اور پاک فوج نے مذکورہ پہاڑی چوٹی کو آپریشن کے دوران مقررہ وقت سے قبل ہی خالی کرالیا۔ یاد رہے فاٹا کے سب سے مشکل علاقے راجگال میں 16 جولائی کی صبح پاک فوج نے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن رد الفساد کے تحت آپریشن خیبر فور کا آغاز کیا تھا۔ پاک فوج نے فاٹا میں فوجی آپریشن کا آغاز 2009میں کیا تھا، جس میں پہلے باجوڑ، سوات اور اب مہمند ایجنسی کو کلیئر کیا گیا۔انشااللہ ملک کے کونے کونے میں امن قائم ہو گا کوئی بھی پاکستان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتا۔دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کاکردار نہ صرف داد بیداد اورقابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے ۔پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف جو قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے ان کو قوم کبھی بھی فراموش نہیں کرپائے گی پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے آپریشن ضرب عضب میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے بعدآپریشن رد الفساد شروع کیا گیا جو اپنے مقاصد اوراہداف کی طرف رواں دواں ہے اسی ضمن میں آپریشن خیبرفور کا آغاز کیاگیا جس میں پہلامرحلہ کامیابی سے طے کرلیاگیا ہے۔ آپریشن خیبرفور میں پاک فوج نے جو کامیابی حاصل کی ہے وہ قابل تعریف ہے دہشت گردی میں بھارت کاعمل دخل کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے بھارت خفیہ ایجنسی را کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کروارہا ہے تاکہ پاکستان عدم استحکام کاشکار ہو اور یہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہو۔ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیاں طشت ازبام ہوچکی ہیں جن کیخلاف پاکستان کئی باراحتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی طرف مبذول کراتے چلا آرہاہے لیکن عالمی سطح پر جس بے حسی کامظاہرہ کیاجارہا ہے وہ توجہ طلب ہے افغانستان میں دہشت گردوں کی کئی آماجگاہیں موجود ہیں اور قونصل خانوں کو دہشت گردی کیلئے استعمال کیاجارہا ہے اوراس میں بھارت کابڑاعمل دخل ہے۔افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کی جارہی ہے جس سے خطے کاامن خطرے میں پڑتادکھائی دے رہا ہے پاکستان کئی بار پڑوسی ممالک سے احتجاج کرچکاہے اور چاہتا ہے کہ خطے کو دہشت گردی سے پاک کیاجائے لیکن پاکستان کی یہ بات بھارت اور افغانستان کی سمجھ میں نہیں آرہی بھارب افغانستان کو آلہ کاربنارہاہے افغان حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور بھارتی عزائم کو خاک میں ملاناچاہیے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اورچاہتا ہے کہ خطے کاامن قائم رہے دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین اور کوئی مذہب نہیں اسلام کا یہ درس ہے کہ وہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کاقتل قرار دیتا ہے ۔دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کاکردارتاریخ کے سنہری حروف میں لکھاجائے گا دہشت گردی کاخاتمہ ہی خطے کے امن ضامن قرارپائے گااورخطے میں ترقی اورخوشحالی آئے گی۔دہشت گرد خطے کے امن کو بدامنی کاشکار کرنے کے درپے ہیں لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے آپریشن خیبرفور دہشت گردوں کے خاتمے کاباعث بنے گا۔

سٹیٹ بنک کی مانیٹری پالیسی

گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے مانیٹری پالیسی سے متعلق میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ نجی شعبے کے قرضوں کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، معیشت کو ادائیگیوں کے توازن میں بگاڑ کے خطرات درپیش ہیں، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ سروسز سیکٹرمیں رواں مالی سال میں بھی بہتری جاری رہنے کی توقع ہے۔ برآمدات اورترسیلاتِ زرمیں کمی اوردرآمدات میں اضافے کا رجحان ہے جب کہ سی پیک منصوبوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ مالی سال 18 کے آغاز میں پاکستانی معیشت کے تین پہلو نمایاں ہیں۔ اول، اوسط عمومی مہنگائی، گو کہ مالی سال 17 سے زیادہ ہے تاہم گذشتہ اندازے سے کم رہنے کی توقع ہے اور یہ 6.0 فیصد ہدف سے نیچے رہے گی۔ اس کی بڑی وجہ رسد کے سازگار حالات ہیں۔ دوم، ملکی طلب مزید بڑھے گی جیسا کہ حقیقی شعبے میں موجودہ نمو، نجی شعبے کو قرضے اور درآمدات سے ظاہر ہے۔ سوم، بیرونی محاذ پر برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر دونوں کی ناقص کارکردگی نے جاری کھاتے کے خسارے کو سخت متاثر کیا ہے جو مالی سال 17 میں 12.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تاہم فی الحال مالی سال 18 میں مجموعی توازن ادائیگی قابو میں رہنے کی امید ہے۔ درحقیقت مالی سرگرمیوں کے بڑھنے، بینک ڈپازٹس میں خاصے اضافے اور کم شرح سود کے نتیجے میں نجی شعبے کو قرضوں کا بہا مالی سال 17 میں ایک دہائی کی بلند ترین سطح 748 ارب روپے تک جا پہنچا جبکہ مالی سال 16 میں یہ 446 ارب روپے تھا۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے مالی سال 17 کے دوران معینہ سرمایہ کاری اور جاری سرمائے کے قرضوں میں بالترتیب 258.5 ارب روپے اور 360.5 ارب روپے اضافہ ہوا جبکہ گذشتہ سال ان میں بالترتیب 171.7 ارب روپے اور219.3 ارب روپے اضافہ ہوا تھا۔ صارفی مالکاری کی طلب بھی، خاص طور پر کار اور ذاتی قرضوں کیلئے، مالی سال 17 کے دوران بڑھ گئی۔ حقیقی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ رجحانات مالی سال 18 میں بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔ ان حالات کی بنا پر زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال 17 کے اختتام پر کم ہوکر 16.1 ارب ڈالر ہوگئے ۔دوسری جانب سی پیک سے متعلق سرگرمیوں کے تسلسل اور بہتر ہوتی ہوئی معاشی نمو کے باعث درآمدات میں بھی اضافے کی توقع ہے۔ گو کہ یہ اضافہ سست رفتاری سے ہوگا۔ اگرچہ یہ امر غیر یقینی ہے ترسیلاتِ زر میں بہت جلد مثبت اضافہ ہوگا تاہم بیرونی کھاتے کے استحکام اور وسیع پیمانے پر زرِمبادلہ کے ذخائر کا جمع ہونا مالی سال 18 میں میزانی دو فریقی اور مالی رقوم کی بروقت آمد پر بھی منحصر ہے۔ تفصیلی سوچ بچار کے بعد اور نمو کی مسلسل رفتار کے مضبوط امکان، محدود مہنگائی اور بیرونی محاذ کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے سٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 5.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جو اطمینان بخش اور خوش آئند ہے۔