- الإعلانات -

بھارت چین سرحدی تنازعہ ، بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے

چین کی جانب سے جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی جارحیت سے باز رہے۔ بھارت نے متنازع علاقے سے فوج واپس نہ بلائی تو شرمندگی کا سامنا کرے گا۔چین نے بھارت پر سرحدی مفاہمت کے حوالے سے ’دھوکا دہی‘ کا الزام لگایا ہے۔ سکم کی سرحد پر جاری سرحدی کشیدگی مزید سنگین ہوگئی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ ڈوکلام سے فوجیں بلانے تک مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے۔بھارت نے متنازعہ علاقے ڈوکلام میں فوج بھیج رکھی ہے جہاں چینی فوج سڑک تعمیر کر رہی ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سڑک مکمل ہو جاتی ہے تو چین کو اس پر سٹریٹیجک برتری حاصل ہو جائے گی۔دوسری جانب چین کی فوج نے تبت میں انڈین سرحد کے قریب فوجی مشقیں کی ہیں جس میں اصلی گولہ بارود استعمال کیا گیا۔ یہ مشقیں 11 گھنٹے تک جاری رہیں لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان مشقوں کا مقصد کیا تھا اور نہ دن کا تعین ہو سکا ہے۔ ان مشقوں میں تیزی سے نقل و حرکت اور دشمنوں کے جہازوں کو تباہ کرنے کی تیاریاں کی گئیں۔ ان مشقوں میں فوج کی اْس بریگیڈ نے حصہ لیا جو دریائے برہما پترا کے قریب کی ہیں جو وہاں سے بہہ کر انڈیا اور بنگلہ دیش تک جاتا ہے اور اس بریگیڈ کی ذمہ داری سرحدوں پر جنگی کارروائیاں کرنا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل تبت کے دارالحکومت لاسا میں 10 جولائی کو تبت موبائل کمیونیکیشن نے کسی بھی ہنگامی صورت حال میں عارضی نیٹ ورک قائم کرنے کی مشق کی۔
چین کا الزام ہے کہ بھارتی فوج حال ہی میں اس کے ریاستی علاقے میں داخل ہو گئی تھی اور بھارت کے شمال مشرقی علاقے سکم کے حوالے سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے مابین جو مفاہمت ہوئی تھی، بھارت اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے، حالانکہ بھارت کی تمام سابقہ حکومتیں اس پر کاربند رہی ہیں۔دوسری طرف بھارت کا کہنا ہے کہ چین برطانوی دور کے 1890کے جس معاہدے کی بات کر رہاہے ، بھارت اسے تسلیم نہیں کرتا کیوں کہ 2012 میں دونوں ملکوں کے درمیان یہ مفاہمت ہوئی تھی کہ کسی ایسی جگہ کے سلسلے میں جس پر بھارت اور چین کے درمیان تنازعہ ہو جائے، اس کا فیصلہ اس تیسرے ملک کے ساتھ صلاح مشورے سے کیا جائے گا جہاں وہ جگہ واقع ہے۔ اس طرح مذکورہ تنازعے میں شامل تیسرا ملک بھوٹان ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے اور فوجی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ سرحد کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان 1962 میں جنگ بھی ہو چکی ہے اور اطراف کی افواج کے درمیان اکثر آمنا سامنا ہوتا رہا ہے۔ تاہم 1962 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب تعطل اتنا طویل ہو گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی فوجیں سکم میں ڈوکلا م کے علاقے میں تقریباً ایک ماہ سے آمنے سامنے ہیں۔یہ علاقہ بھارت، چین اور بھوٹان کے درمیان واقع ہے۔ نیا تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب چینی فوج نے چین اور بھوٹان کے درمیان متنازعہ علاقے ڈوکلام میں (جیسے چینی زبان میں ڈونگلانگ کہا جاتا ہے) ایک سڑک تعمیر کرنا شروع کر دی تھی۔
اس سے قبل چینی فوج نے اس علاقے میں واقع بھارتی فوج کے دو بنکروں کو ہٹانے کی وارننگ بھی دے دی تھی۔ چینی فوج نے ان بنکروں کو چھ جون کی رات کو تباہ کر دیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کا علاقہ ہے اور بھارت یا بھوٹان کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
تازہ سرحدی کشیدگی کے بعد بھارت نے سکم میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے وہاں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔ فوجیوں کو ’غیر جنگی حالت‘ میں رکھا گیا ہے۔ملکی وزیر خزانہ اور وزیر دفاع ارون جیٹلی نے چین کو سخت لہجے میں وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اب 1962 کا بھارت نہیں بلکہ 2017 کا بھارت ہے۔ ادھر چینی وزارت خارجہ نے بھی اس کا جواب دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’بھارت کا کہنا بالکل درست ہے کہ 2017 کا بھارت 1962کے بھارت سے مختلف ہے۔ ٹھیک اسی طرح چین بھی اب پہلے کے مقابلے میں کافی مختلف ہے۔‘‘
نئی دہلی میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرصورت حال میں جلد از جلد بہتری نہ آئی، تو دونوں ملکوں کے درمیان مکمل فوجی تصادم کا خدشہ ہے۔ بھارت کے انسٹیٹیوٹ آف چائنہ اسٹڈیز میں چینی امور کی ماہر پروفیسر الکا اچاریہ کا کہنا ہے ’’چین کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ او بی او آر ، سی پیک اور کچھ دیگر امور بھی ہوسکتے ہیں۔ رشتوں کی خرابی کا سبب کچھ بھی ہو، لیکن اس تناز عے کو فوراً ختم کرنے کے لیے پہل کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ملکوں کے درمیان جلد ہی وزارتی سیکرٹری یا جوائنٹ سیکرٹری سطح کی کوئی بات چیت نہ ہوئی، تو یہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔‘‘
تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے چین نے تبت میں واقع ہندوؤں کے انتہائی متبرک مقام کیلاش مانسرور کی سالانہ یاترا پر جانے والے بھارتی زائرین کو تبت جانے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے درجنوں زائرین کو اپنا سفر منسوخ کرنے واپس لوٹنا پڑا۔ دوسری طرف چین نے ان بھارتی صحافیوں کا ایک دورہ بھی منسوخ کردیا ہے، جو بیجنگ حکومت کی دعوت پراگلے ہفتے تبت جانے والے تھے۔حالیہ دنوں میں بھارت چین کشیدگی کے بعد بھارت نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ بھارت چین سے مذاکرات کیلئے تیار ہوگیا ہے۔تاہم دنیا کے سامنے اپنی بے عزتی سے بچنے کیلئے طفل تسلی کے طور پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے چین کیساتھ سرحدی تنازع پردنیاکے تمام ملک بھارت کیساتھ ہیں۔تمام ممالک بھارتی موقف کوغلط نہیں سمجھ رہے،سشما سوراج کا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بھارت ڈرگیا،بھارت چین کیساتھ سرحدی معاملہ مذاکرات سے حل کرنا چاہتاہے۔ مذاکرات کیلئے ضروری ہے چین بھارت کی فوجیں سابقہ پوزیشن پرواپس آجائیں۔
*****