- الإعلانات -

سائبر کرائم کی دنیا میں متحرک۔بھارتی خفیہ ایجنسیاں

ملکوں اورقوموں کے مابین باہمی آویزشوں ‘شدید اور جارحانہ نفرتوں پرمبنی ہمسایہ ممالک کی تاریخ یوں توکئی صدیوں سے اِس کرہِ ارض پراپنی ایک نہایت ہی کریہہ صفت اور بہیمانہ وارداتوں کے المناک اور دردناک واقعات سے بھری پڑی ہے’اگرہم اِن سطورمیں تاریخِ عالم کے اِیسے ہی’اسبابِ واقعات’ کی اصلیت وحقیقت کی چھان پھٹک شروع کردیں توپھرجوبات اپنے قارئین سے ہم یہاں شئیرکرنا چاہ رہے ہیں’وہ درمیان میں ہی رہ جائے گی’یوں ہم تاریخ کی گئی گزری وسیع اتھاہ دنیاؤں میں بھٹکتے رہ جائیں گے۔ اصل میں ہمارامدعا یہ ہے کہ جب ہم قوموں اورملکوں کے مابین جاری باہمی آویزشوں اورشدید جارحانہ نفرتوں کی بنیاد پرپڑوسی ممالک کے ساتھ ہونے والی ماضی کی شدید جنگوں پرسرسری سی نگاہ ڈالتے ہیں اوریہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ پڑوسی ممالک آخر کیوں باہم متصادم رہتے ہیں؟ وہ کیوں ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام نہیں کرتے ؟ ہر قیمت پراپنے سے کمزورپڑوسی ملکوں کی آزادی کو’اْن کی خود مختاری اورقومی سالمیت کو وہ مانتے کیوں نہیں؟جبکہ یہ پڑوسی ملک باہمی طاقت کی مسابقت یعنی (ڈیٹرنس) میں بھی یکساں اوربرابر کی عالمی تسلیم شدہ حیثیت رکھتے ہیں، پھربھی ایسا وہ کون سا’نظریہِ جارحیت ‘ہے، جس کی بڑی کڑی وجوہات اْس جارح فریق ملک کی نظروں میں اْسے امن وسکون سے رہنے نہیں دیتا، کیا صرف اْسے ہی صرف خطہ میں ترقی کرنے کا حق ہے؟ اورجو’قانونِ تغیر’کی تعبیرات کے کسی ایک بھی گزرے ہوئے ‘حوادث’ سے کوئی سبق سیکھنا ہی نہیں چاہتااوراْس کا یہی ایک جارحانہ رویہ اْسے مسلسل اپنے پڑوسی ملک پراپنی علاقائی برتری جتانے اوراْسے نیچا دکھانے کے زعم میں ہر وقت اُسے حسد کی تپش میں جھلستا رہتا ہے یہاں ہمیں اصل میں پاکستان اوربھارت کے مابین گزشتہ 70 برسوں سے جاری اْن دیرینہ اورحل طلب مسائل کواْجاگر کرتے ہوئے دنیا کے غیرجانبدار حلقوں تک اپنا یہ پیغام پہنچانا ہے کہ’ بھارت‘ ہرگزرتے لمحوں کے ساتھ پاکستان سے اپنی ‘تاریخی مخاصمت’ کے سلسلے کوکم کرنے کی بجائے اپنی ازلی وابدی مخاصمت کو جاری رکھنے کیلئے اب ‘جدید سائبر وار شپ’کوبطورہتھیار کے استعمال کرنے کی جانب آنکلا ہے، پاکستان ایک نظریاتی اسلامی ملک’ جس کی اپنی ملی ثقافت کی ایک بڑی ہی مضبوط ومستحکم تاریخ ہے’ پاکستان میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں’ جبکہ ہماری قومی زبان اردو ہے، جو بتدریج انگریزی زبان کی جگہ اب دفتروں میں استعمال ہونے کی طرف جارہی ہے پاکستان کے اہم وفاقی وصوبائی حکومتوں کے دفاترمیں استعمال ہونے والے کروڑوں کمپیوٹرز میں اب تو باقاعدہ اردوسافٹ وئیر ‘ان پیج’کا استعمال کئی برسوں سے ہورہا ہے’ یقیناًاِس کوئی دورائے نہیں ہے کہ آئی ٹی کی جدید دنیا میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت نے بڑی کمال کی ہنرمندی کا مظاہرہ کیا ہے اور دنیا کا پہلا اردوساف وئیر ‘اِن پیج’ جوکہ دنیا بھر میں رائج ہے وہ بھارت کا ہی تیار کردہ ہے، یہاں پاکستان میں بھی ہراہم دفاتر میں بھارت ساختہ اِن پیج استعمال ہوتا ہے لیکن افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ سمیت دیگربھارتی سیکورٹی اداروں کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان کے کروڑہا عوام کے کمپیوٹرزاورخاص کراہم سرکاری اداروں کے دفاترمیں کثرت سے استعمال ہونے والے کمپیوٹروں تک اپنے خفیہ ‘ہیکرز’ کو متحرک کرکے اْن کے کمپیوٹرز سے ڈیٹا ‘ہیک؛ کرنا شروع کردیا ، کمپیوٹر کی زبان میں ہم اِسے ‘پرایوسی’ میں دخل اندازی کرنا کسی کی مرضی کے بغیر اْس کے گھر میں چوری کرنے سے تعبیر دیں گے۔ یقیناًبھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ایسی ‘مہارانہ ہیراپھیری’ پرایویسی کی کھلی خلاف وزری کہلائی گئی یہ بڑے افسوس کا قابلِ مذمت مقام ہے کہ ‘سائبر کرائم’ کی جدیدترین ٹیکنالوجی کی آڑ میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے ہی دیش کے تیار کردہ ‘اِن پیج’ سافٹ وئیرکے مخفی ‘ٹولز’ کوبروئے کارلاکروہ پاکستان کے اہم قومی اداروں کے کمپیوٹرزکو ‘ہیک‘ کرنے‘اْن کے کمپیوٹرزکے ڈیٹا کو اْڑانے جیسے مجرمانہ اور انتہائی شرمناک اقدامات کرنا شروع کردئیے’ بھارتی ساختہ اردو سافٹ وئیر اِن پیج کے ذریعے سے بھارت کے کسی شہرمیں بیٹھا ہوا ‘را’ کا کوئی ‘ہیکر’ کیسے پاکستان کے کسی بھی شہر کے قومی حساس ادارے کے کمپیوٹرتک اپنی رسائی کو ممکن بنا سکتا ہے اِس کا تشفی وشافی جواب کمپیوٹرسافٹ وئیرکاماہرپاکستانی انجینئر ہی دے سکتا ہے لیکن دنیا بھرمیں ایسے ‘مجرمانہ سائبرکرائم’کے کئی واقعات پہلے بھی ریکارڈ آچکے ہیں، اِسی متذکرہ بالا تناظرمیں ‘سائبرکرائم’ نے کئی عالمی طاقتوں کے اہم جنگی راز چرائے’ کئی عالمی طاقتوں کے حساس دفاترمیں استعمال ہونے والے کمپیوٹرز کے حساس ڈیٹا چوری کیئے گئے۔ لہٰذاء پاکستانی الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے توسط سے پاکستانی عوام میں اِس سلسلے میں شعوری وآگہی مہم کی ضرورت کا احساس کل سے زیادہ آج بہت ضروری ہے جس کی اہمیت وافادیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا، چند ماہرین کمپیوٹرز اور سافٹ وئیرانجینئرز کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں جو افراد کمپیوٹرز پر اِن پیج استعمال کرتے ہیں یا پھر ہمارے اہم ملکی اداروں میں بھارتی ساختہ اِن پیج سافٹ وئیر استعمال ہوتا ہے، وہ اِن پیج کو استعمال کرتے ہوئے یعنی اردوٹائپ کرتے وقت میں اپنے کمپیوٹرکا نیٹ بالکل بند رکھیں’ گوگل سرچ کا استعمال نہ کریں سرچنگ کی دیگر ویب سائٹس کو اپنا ہوم پیج بنائیں اور ملکی میڈیا کو خاص طور پر اِس بارے میں اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس ہونا چاہیئے تاکہ دنیا بھر میں بہت تیزی کے ساتھ وسعت پذیر کمپیوٹرز کی جدید ٹیکنالوجی سے ملکی عوام میں شعور کی سطح بلند سے بلندتر ہوسکے۔