- الإعلانات -

الزام تراشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی وقت کی ضرورت

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ (ن) لیگ کی جانب سے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے کہ میں نے پیسہ باہر سے کما کر پاکستان لایا‘ کون کہتا ہے میرے پاس منی ٹریل نہیں‘ ساری دستاویزات عدالت میں پیش کردی ہیں‘ میری جائیداد بے نامی نہیں ہے‘ میرا سارا پیسہ میرے نام پر ہے‘ مشتاق احمد کا کنٹریکٹ صرف مثال کے طور پر پیش کیا عوام سب سے زیادہ خیرات مجھے دیتی ہے‘ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے لئے لاکھوں کا چندہ ملتا ہے‘ خیراتی اداروں پر چوری کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے‘ خواجہ آصف اپنے قائد کی چوری بچانا چاہتے ہیں ان کی باری بھی آنے والی ہے‘ نواز شریف کی حمایت میں نکلنے والے تمام افراد خود بھی مجرم ہیں‘ شریف خاندان نے عدالت میں جھوٹ بولا‘ جعل سازی کی ‘ قوم پانامہ کیس کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے۔عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے یہ تاثر پیدا کیا جارہا ہے عمران خان اور ہمارا ایک ہی کیس ہے ان کے اوپر منی لانڈرنگ کا الزام ہے‘ ٹیکس چوری کا الزام ہے۔ انہوں نے عدالت کے سامنے جھوٹ بولا۔ میں نے پیسہ باہر سے کمایا اس پیسے کو پاکستان لایا ٹیکس تو میں باہر دیتا تھا۔ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کیلئے لاکھوں کا چندہ ملتا ہے۔ میری ساری ٹرانزیکشن سپریم کورٹ میں پڑی ہے۔ جمائما سے رسیدیں لے کر سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔ میرا اور حکومت کا کیس بالکل مختلف ہے۔ لندن فلیٹ کیسے خریدار اس کی دستاویزات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ شریف خاندان نے ٹیکس چوری کی اور پھر اسے چھپایا۔ 1983,1984 میں لندن میں فلیٹ خریدا۔ میں نے 1977 سے 1979 تک کیری پیکر سیریز کھیلی اس کا خط مہیا کردیا۔ ورلڈ کرکٹ سیریز میں ظہیر عباس اور دیگر پروفیشنل کرکٹرز کو سائن کیا گیا میرا اکیلا نہیں یہ پچاس کرکٹرز کا معاہدہ تھا۔ میرا 33فیصد ٹیکس کٹتا تھا۔ میں نے 1984میں فلیٹ 60لاکھ کا لیا تھا۔ میں نے اپنے بینیفیٹ سیزن کا کنٹریکٹ بھی پیش کیا۔ مشتاق نے میرے اٹھارہ سال بعد سیکسس کے لئے کاؤنٹی کرکٹ کھیلی مشتاق احمد کا کنٹریکٹ صرف مثال کے طور پر پیش کیا۔ بینیفٹ سیزن میں مجھے ایک لاکھ 90ہزار پاؤنڈز ملے میرا سارا پیسہ میرے نام پر ہے۔ گلف اسٹیل نقصان کے بعد بند ہوگئی تھی۔ شوکت خانم پاکستان کا سب سے بڑا خیراتی ہسپتال ہے۔ خیراتی ادارے پر چوری کا الزام لگانے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ خواجہ آصف چار سال سے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ خواجہ آصف کو دنیا اور آخرت کی فکر کرنی چاہئے۔ کینسز کسی کو بھی ہوسکتا ہے اﷲ سے ڈرنا چاہئے شوکت خانم کینسر کے ستر فیصد مریضوں کا مفت علاج کرتا ہے۔ کرپٹ ٹولہ اپنی چوری بچانے کے لئے اکٹھا ہوگیا ہے دنیا میں کہیں بھی خیراتی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ جو غریب کینسر کے علاج کے لئے باہر نہیں جاسکتے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں قطری خط کا طعنہ دیا جاتا ہے قطری خط شریف خاندان نے پیش کیا۔ خواجہ آصف اپنے قائد کی چوری بچانا چاہتے ہیں۔ ان کی باری بھی آنے والی ہے۔ ملزم کی چوری چھپانے والے بھی اس کے ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ شریف خاندان نے عدالت میں جھوٹ ہولا‘ جعل سازی کی۔ میرا ایک روپیہ بھی پاکستان سے باہر نہیں ہے۔ نواز شریف نے تو اپنے فلیٹس سے متعلق کچھ نہیں بتایا میری جو جائیداد ہے وہ بے نامی نہیں سب کے سامنے ہے۔ عمران خان نے ن لیگ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی وضاحت کردی ہے سیاست میں پانامہ کیس کے حوالے سے اس وقت خوب تہلکہ مچا ہوا ہے ایک دوسرے پر تنقید اور الزامات کی بوچھاڑ جاری ہے سیاست میں ہلچل دکھائی دیتی ہے اور سیاسی عدم استحکام اس ملک کا مقدر بنے دکھائی دے رہا ہے بہتر یہی ہے کہ حکومتی وزراء اور سیاسی جماعتیں پانامہ کیس کے عدالتی فیصلے کا انتظار کرلیں جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کریں یہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پائے گا عدالت کا فیصلہ قانون اور آئین کے تناظر میں ہوگا اور اس کے سیاسی اُفق پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔

پیپلز پارٹی کی گو نواز گو ریلیاں
پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام پنجاب بھر میں گو نواز گو ریلیاں اور مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف فوری استعفیٰ دے دیں ریلیوں میں حکومت کیخلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی ۔ راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کی جائے شہادت سے لیاقت چوک تک ریلی ، لاہور ، گجرات ، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ ، فیصل آباد، جھنگ ، کمالیہ ، گوجرانوالہ ، نارروال حافظ آباد ، میانوالی ، سمبڑیال اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں ۔ شرکاء نے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا ۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گو نواز گو ریلیوں پر پنجاب میں جیالوں پر مقدمات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پنجاب حکومت انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے۔ مقدمات بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ پانامہ کیس میں حکومت کو اس وقت ایک طرف عدالتی فیصلے کی پریشانی لاحق ہے تو دوسری طرف سیاسی جماعتوں کا دباؤ اس کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور ان کو اپنے ساتھ چلانے میں ناکام رہی جس کا نتیجہ آج اس کے سامنے ہے سیاست میں برداشت ، بردباری بصیرت اور تدبر کا ہونا ناگزیر ہوا کرتا ہے لیکن صد افسوس کے ہمارے ہاں برداشت کا جمہوری کلچر فروغ نہ پاسکا جس سے محاذ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا میثاق جمہوریت کا شیرازہ بکھر چکا ہے اور یہ دونوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں ۔ سیاست میں آج کے حلیف کل کے حریف اور آج کے حریف کل کے حلیف ہونا کوئی عجوبہ نہیں ہے۔ وزیراعظم سیاسی حالات کو بھانپتے ہوئے ایسا فیصلہ کرگزریں جو جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پائے سیاسی جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں میں کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جمہوریت کیخلاف ہے حکومت انتقامی کارروائیوں سے گریز کرے۔

آپریشن خیبر4 کے اہداف پورے ہونے چاہئیں
آپریشن خیبر 4 کامیابی سے جاری ہے۔ پاک فوج اس کے اہداف کے حصول کیلئے دن رات کوشاں ہے۔ اس سلسلے میں پاک فوج نے سپین کٹی چوٹی پر موجود سپرائی اور ستار کلے درے دہشت گردوں سے خالی کرا لئے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپ خانے اور ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔ دونوں درے افغانستان سے پاکستان داخلے کیلئے استعمال کئے جا رہے تھے۔ فوج نے وادی راجگال میں دہشت گردوں کے 2 مضبوط ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا۔ سپین کئی چوٹی پر موجود سپرائی اور ستار کلے درے دہشت گردوں سے خالی کرا لئے گئے ۔ دونوں درے افغانستان سے پاکستان داخلے کیلئے استعمال کئے جا رہے تھے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو توپ خانے اور ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن خیبر 4 میں دہشت گردوں کیخلاف منصوبے کے مطابق پیش رفت جاری ہے ۔ خیبر 4 کے آپریشنل کمانڈر آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا نارتھ میجر جنرل شاہین ہیں۔ آپریشن خیبر4 کی پے درپے کامیابی اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گرد اب بچ نہیں پائیں گے اور خطے میں امن قائم ہوگا اور ترقی و خوشحالی اس کا مقدر ٹھہرے گی۔