- الإعلانات -

بیرونی طاقتیں

اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب بھی حق آتا ہے تو باطل متحرک ہوجاتا ہے اسی باطل کو علامہ محمد اقبال نے شرار بو لہبی کہا ہے جو ازل سے چراغ مصطفوی ؐسے بر سر پیکار ہے پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وسلم کی آمد کے ساتھ ہی باطل قوتیں متحرک ہو گئیں آپ صل اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ان طاقتوں نے حق کے خلاف شدید مزاحمت کی کوئی ایسا ستم نہیں تھا جو قبول اسلام کرنے والوں پر روا نہیں رکھا گیا رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمائے کے بعد فتنوں کا دور شروع ہوا اس میں بھی یہودی اور کفار بھرپور طور پر شریک تھے اس کے بعد بھی حق و باطل کے معرکوں کی ایک لمبی تاریخ ہے حضرت خالد بن ولیدؓ آخر عمر تک ان معارک کا حصہ رہے طارق بن زیاد نے اللہ کے بھروسے ہسپانوی ساحلوں پر اپنی کشتیاں جلا ڈالیں اور فتح و نصرت پائی سلطان محمود غزنوی نے بت پرستی پر کاری ضرب لگائی بت فروش کی جگہ بت شکن کہلایا شہاب الدین غوری نے بھی ظلمات ہند میں روشنی لانے کی کوشش کی احمد شاہ ابدالی نے بھی معارک جاری رکھے شیر شاہ سوری نے انتظام و انصرام کی نئی جہتیں متعارف کروائیں اس طرح حق و باطل کا میں جنگ کا یہ سلسلہ جاری رہا عظیم مسلمان سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرکے ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی فلسطین پر بزور قبضہ کرکے دھرتی کے بیٹے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں ان ہی کے ملک میں غلام بنا دیا گیا اور اسرائیل نام کا خنجر مسلمانوں کے سینے میں گھونپ دیا گیا بعد کے دور میں مغرب نے اسرائیل کو بہت بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنانے پر کام شروع کردیا 8000 مربع مقبوضہ میل کی ریاست کو دنیا کی بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت بنادیا گیا جس کے اسلحہ خانے میں کم و بیش 200 ایٹم بم ہیں اور دنیا میں اسلحے کا بہت بڑا برآمد کنندہ اسرائیل ہی ہے آج بھی مغرب کی سب سے بڑی فکر اسرائیل کو محفوظ رکھنا ہے جس کے لئے امریکہ اور مغرب ہر حد تک جانے کو تیار ہیں مولانا کوثر نیازی جو بلاشبہ بہت بڑے عالم اور دانشور تھے اور مشاہدات و تاثرات کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے انہوں نے 1971 میں ایک کالم میں بیان کیا تھا کہ کچھ عرصے میں مغرب اور امریکہ عراق ایران لیبیا اور دیگر طاقتور اسلامی ملکوں کو ختم کریں گے اور ان کے جغرافیے تبدیل کریں گے اس کے بعد پاکستان کا نمبر آسکتا ہے کہ ان کے نزدیک اسرائیل کے تحفظ کیلئے یہ نہایت ضروری ہوگا کہ مشرق وسطی میں کوئی طاقتور ملک اسرائیل کے مقابلے میں نہ ہو 9/11 برپا کیا گیا اور اسامہ کو استعمال کرتے ہوئے القاعدہ پیدا کی گئی اس کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کردی گئی مقصد فوجی تربیت یافتہ افغانوں اور افغانستان میں موجود اسلحے کو ختم کرنا تھا اسامہ کو پہلے سوڈان بھیجا گیا وہاں اسامہ کے بہانے حملہ کیا گیا پھر اسے افغانستان بھیجا گیا وہاں لاکھوں انسانوں کو رزق خاک کردیا گیا جہاں کا کوئی باشندہ9/11 میں شامل نہیں تھا عراق فوجی لحاظ سے ایک طاقتور ملک تھا پہلے اسے ایران سے لڑایا گیا تاکہ دونوں مسلمان ملک یا تو ختم ہو جائیں یا کم از کم اتنے کمزور ہو جائیں کہ اسرائیل کے لئے کوئی خطرہ ثابت نہ ہوں پھر عراق پر بڑے پیمانے پر تباہی کے ہتھیاروں کا جھوٹ بول کر اسے پورے مغرب نے مل کر مارا اور اسے تباہ کردیا گیا اور عملا اسے 3 حصوں میں تقسیم کردیا گیا کرد ریاست الگ ہو چکی ہے بس رسمی اعلان باقی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں ایران ترکی اور عراق کو دباؤ میں رکھا جائے گا باقی عراق پر کٹھ پتلیاں حکومت میں بٹھا دی گئی ہیں ابھی القائدہ کے فتنے سے لگے زخم تازہ تھے کہ امریکہ اور مغرب نے جرائم پیشہ مجرموں کو اکٹھا کرکے داعش بنادی یاد رہے کہ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن داعش بنانے کا اعتراف کر چکی ہیں اس مجرم ٹولیکو خلافت کا نام دیا گیا تاکہ انہیں دنیا کے سامنے مسلمان باور کرایا جا سکے حالانکہ ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا جس طرح کے قتل کے طریقے اپنائے گئے یہ کوئی مسلمان تو کم از کم نہیں کر سکتا بچوں اور عام لوگوں کو آگ میں جلانا اور پانی میں ڈبو کر ہلاک کرنا کہاں کا اسلام ہے قارئین کرام نے شاید وہ تصویریں دیکھی ہو جن میں یہ نام نہاد مجاہد ایک ہی جگہ مختلف سمتوں میں سجدے کر رہے ہیں کسی عقل کے اندھے نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ تمام مسلمان ایک ہی سمت میں سجدہ کرتے ہیں اسی مجرم ٹولے کو لیبیا بھیجا گیا اور لیبیا جیسی مضبوط ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی عملا لیبیا تباہ ہو چکا ہے سیریا کا حال سب کے سامنے ہے ایران پر 3 دہائیوں اقتصادی پابندیاں لگا کر اسکو اقتصادی طور پرتباہ کردیا گیا افغانستان کو بھی پوری طرح بد حال کردیا گیا ہے لے دے کے پاکستان ہی رہ گیا ہے جس پر سب کی نظریں ہیں جس کے بارے میں اسرائیل کے پہلے وزیراعظم بن گوریان نے اپنے لوگوں کو وصیت کی تھی کہ تمہاری پہلی ترجیح پاکستان کو ختم کرنا ہے کیوں کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو اسرائیل اور مغرب کی راہ میں مزاحم ہوگا اور آج بھی وہی پالیسی ہے امریکہ انڈیا اسرائیل اور ہمارے کچھ نادان دوست پوری کوشش کر رہے ہیں پاکستان کو تباہ کردیا جائے لیکن پاکستان ایک مضبوط اور جہاد کے فی سبیل اللہ کے فلسفے کی حامل فوج اور ایک جوہری طاقت ہے تو یہ ممکن نہیں کہ اسے فوجی شکست دی جا سکیاور عوام عظیم ہیں کہ دشمنوں کی جانب سے تباہی کرنے کی لاکھ کوششوں اور لوٹ مار کرپشن کی انتہا کے باوجود قوم کا حوصلہ نہیں ٹوٹا اور نہ عوام اور فوج کے درمیان محبت اور احترام میں کمی نہیں لائی جا سکی آج بھی عوام اپنی فوج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں اور پیار کرتے ہیں اور یہی ہمارے دشمنوں کے لئے سوہان روح ہے وہ چاہتے ہیں کہ فوج پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو جائے تو وہ پاکستان کی تباہی کا ہدف حاصل کر لیں گے ہماری سیاسی قیادت سے خصوصی گزارش ہے کہ ہمارے دشمنوں کے ایجنڈے کو سمجھیں جس نے دہشتگردی قتل و غارت گری سمیت سب حربے آزما لئے ہیں اور ان کی اب بھی کوشش ہے فوج اور عوام کے درمیان اعتماد کو مجروح کیا جائے اور حکومت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی بجائے مخاصمت ہو جو کسی طرح بھی ہمارے قومی مفاد میں نہیں جندل کی پاکستان آمد کو شبہے کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے کہ یہ پاک فوج کے بارے بغض کا اظہار کرتا ہے اس پر وضاحت آنی چاہئے اب عالمی بنک کی جانب سے مسلسل قرضے دئے جارہے ہیں جو ڈاکو اور لٹیروں کی جیب میں جارہے ہیں اور قرضہ عوام کے نام لکھا جارہا ہے جو ہم سے اور ہمارے بچوں سے وصول کیا جائے گا یہ کوئی خوش ائند سمت نہیں ایبٹ آباد سانحہ میموگیٹ ڈان لیکس کا مقصد ہی عوام کی نظروں اور بیرون ملک اپنی فوج کی ساکھ کو مجروح کرنا ہے جو ناقابل معافی جرم ہے تاریخی پس منظر عرض کرنے کا مقصد یاد دہانی ہے کہ دشمن کس حد تک جا سکتا ہے اللہ ہم سب کو ہوش کے ناخن لینے اور حب وطن کے تقاضوں کو سمجھنے اور اب پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاطت فرمائے۔ آمین