- الإعلانات -

ایل اوسی پر بھارتی فوج کی خلاف ورزیاں

تاریخ تحریکِ آزادیِ کشمیر کا بغور غیر جانبدرانہ فہم وادراک رکھنے والوں کواگرہرقسم کے تعصبات سے بالاترہوکرجنوبی ایشیا کے اِس واحد حساس معاملہ کی جڑوں تک پہنچنا ہے‘ تواْنہیں ‘ولیم ڈبلیوبیکر’جوعالمی سطح کے تاریخ ازمنہِ قدیم کے مانے ہوئے ثقہ عالم کی حیثیت رکھتے ہیں، اِن ہی موضوعات پراْن کی کئی کتب دنیا بھرمیں بڑی معتبر تسلیم کی جاتی ہیں‘ اْن کی تحریر اِن کتابوں کا گہرا اورعمیق مطالعہ کیئے بغیرکشمیرمیں جاری بھارتی استبدادکے جبروستم کی ظالمانہ مکاریوں کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں،جنہوں نے ’کشمیر،وادیِ مسرت وادیِ موت’جیسی اپنی موثر کتاب میں بھارتی فوج کی چیرہ دستیوں اور بہیمانہ ظلم وتشدد کی آنکھوں دیکھی وارداتوں کا پردہ فاش کرکے انسانیت کے احترام کی لاج رکھ لی ہے، اپنی کتاب کے ابتداء میں ولیم ڈبلیو بیکر نے کشمیر پر بھارتی فوج کے غاصبانہ قبضہ کے حوالے سے چند اعلیٰ امریکی شخصیات کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کے حوالے دیئے ہیں اْس زمانے کے امریکی صدر بل کلنٹن نے 27 دسمبر1993 کو مسٹرولیم ڈبلیو بیکر کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو میں اقرار کیا تھا ‘ میں آپ کے اِس خیال میں برابر کا شریک ہوں کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منظرنامہ کے مسائل کا سامنا کرنے کیلئے ہم سب کو انسانی حقوق سے متعلق اپنی پالیسیوں پر بغور نظر رکھنی چاہیئے’ مجھے یقین ہے ہم ایسی ہم تبدیلیاں رونما کرسکتے ہیں، جوکہ اقوامِ متحدہ کے بانیوں کے نزدیک ہمیشہ سے اولین رہیں ‘مجھے کشمیر میں امن کی راہ ہموار کرنے میں آپ کے ساتھ اور آپ جیسے دوسرے انسان دوست مورخوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں خوشی ہوگی’ مسٹر بیکر نے اپنے تفصیلی دورہِ کشمیر کے بعدعالمی شہرتِ یافتہ دانشور برٹرنیڈررسل سے بھی جب مسئلہِ کشمیر پر کچھ کہنے کی بات کی تو مسڑ رسل نے کہا تھا ‘ جب ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر بھارتی حکومت کا بلند بانگ آئیڈیلزم دم توڑ دیتا ہے تو مایوسی کے احساسات سے بچنا مشکل ہوتا ہوا نظر آتا ہے’مسٹر بیکر نے 29 اکتوبر1993 کو امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل سے بھی یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آخر کب تک جنوبی ایشیا کا واحد آتشیں مسئلہ ہمہ وقت دنیا کی سنگینی کے لئے ایک ممکنہ خطرہ بنا رہے گا، تو سابق امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے کہا تھا’ مجھے قطعی طور پر یہ کہہ کر واضح کرنے دیجئے کہ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر کے الجھے تناؤ میں کسی بھی قسم کی حتمی معاملہ بندی میں کشمیر کے لوگوں سے ہی رجوع کرنا چاہیئے کیونکہ بھارتی مفادات کی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ اِس موقع پر اْس وقت تک کوئی فیصلہ پائیدار اور پختہ نہیں ہوسکتا جب تک کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی پاس کی ہوئی قراردادوں پر عمل نہیں کیا جاتا، چونکہ کشمیری عوام کیا چاہتے ہیں یہ دیکھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے‘عالمی فیصلہ سازوں کی رائے کو بھارتی استبدادی ذہن کے حکمرانوں نے کبھی سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی اِس کی وجوہات میں پوشیدہ اْن کی وہ غاصبانہ خواہشات ہیں جو وہ کشمیر میں جاری رکھنا چاہتے ہیں یعنی ہمہ وقت کا ٹکراؤ’ ‘ انتشار’خونریزی’ بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ’ اْنہیں ٹارچرسیلوں میں بند کرکے اْن پر بہیمانہ تشدد کرنا’چادر اور چاردیواری کی دھجیاں اْڑانا’ کشمیر کے دور دراز علاقوں مثلا کنڑول لائن سے ملحق دیہاتوں اور گاؤں کے عام کشمیری آبادیوں پرفوجی طاقت کے گھمنڈمیں جب چاہئیں اْنہیں حراست میں لے لینا، اْن پر مجاہدین کو پناہ دینے کے الزامات لگا نا ،یا پاکستانی ایجنٹس ہونے کے جھوٹے الزامات عائد کرکے اْنہیں گرفتار کرلینا، بلکہ بعض اوقات جھوٹے اور فرضی مقابلے میں کشمیری گاؤں کے کسان نوجوانوں کو فائرنگ اسکاوٹ کے سامنے کھڑا کرکے اْنہیں گولیوں سے بھون دینا اْن کی جوان عورتوں کی اجتماعی آبروریزی اور بے حرمتی کرنے جیسے انسانیت کی سطح سے گرئے ہوئے قبیح واقعات کی چیخ وپکارکی داستانیں آجکل کشمیر بھرکے درودیوارسے بے زبانی کی آوازمیں ہر کہیں سنی جاسکتی ہیں پاکستانی سرحد سے ملحق لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب بھارتی فوج نے گزشتہ دِنوں اپنی ایک پریس ریلیز میں تسلیم کیا ہے ’رواں برس جون کے آخری ہفتہ میں 14۔13 کے قریب کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا جن پر’نام نہاد’عسکریت پسندوں کا الزام تھا اوروہ عسکریت پسندوں کے سہولت کار بھی تھے؟ ‘ جبکہ بھارتی فوج نے اْن بے گناہ شہید کشمیریوں پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی ٹھوس ثبوت بھارتی میڈیا کو فراہم نہیں کیا ،بھارتی فوج کے الزامات کی تحقیقات ضروری کیوں نہیں سمجھی گئی؟ کیا جان سے ماردئیے جانے والے کشمیری انسان نہیں تھے؟ بھارتی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں پڑی سورہی ہیں؟ بھارتی فوج کشمیریوں پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کیئے ہوئے ہے لائن آف کنٹرول کی بھارتی سائٹ پر سرحد کے عین نزدیکی علاقوں میں جہاں صرف بھارتی فوج کی علمداری ہے، وہاں کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب کشمیری دیہاتوں اور قصبوں کے بے گناہ معصوم اور نہتے کشمیریوں پر بلاوجہ اندھا دھند فائرنگ نہ کی جاتی ہو اْن پر سرحد پار پاکستانی فوج کے ساتھ ’’ روابط‘‘ رکھنے کے من گھڑت اور بے سروپا الزامات عائد کرکے اْن پر انسانیت سوز مظالم نہ ڈھائے جاتے ہوں ،کہاں گئے اقوامِ متحدہ کے وہ عالمی فوجی مبصرین؟بھارت اقوامِ متحدہ کو کسی خاطر میں آخر کیوں نہیں لاتا؟ امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں بھارت پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتیں؟ وہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پاسداری کیوں نہیں کرتا؟ ایسے اور بہت سے اہم اور ضروری سوالات اہلِ کشمیر کو شدید بے چین کیئے ہوئے ہیں اگر عالمی اداروں نے اِن سوالات کے جواب دینے ضروری نہیں سمجھے تو پھر کشمیر میں اْٹھتا ہوا آزادی کا یہ طوفان حیات وموت کی ایک سونامی کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس کی رْو میں صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں‘ بلکہ ایشیا سمیت پوری دنیا کا امن سوالیہ نشان بن جائے گا؟ تو تب کہیں جاکر اقوامِ متحدہ یا امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتوں کو ہوش آئے گا؟بھارتی کنٹرو ل لائن کے نزدیکی دیہاتوں کے اِن رہائشی کھیت بان بے گناہ نہتے کشمیریوں کی زندگیاں بھارتی فوج نے اجیرن کررکھی ہیں یہ کھیت بان کشمیری عوام عین لائن آف کنٹرول کے نزدیکی علاقوں میں صدیوں سے خالص جنگلی جڑی بوٹیوں کی تلاش میں سارے دن مارے مارے پھرتے ہیں جو جڑی بوٹیاں ہربل دوائیوں میں استعمال ہوتی ہیں اپنے کاندھوں پر بورے لادھے یہ کشمیری کھیت بان اِن گھنے جنگلات کی زمینوں میں اُگنے والی قیمتی جڑی بوٹیوں کو شہروں میں جاکرفروخت کرکے اپنے لئے رزقِ حلال کماتے ہیں، اِنہیں عسکریت پسند قراردینا’یااِنہیں پاکستانی فوج کا ایجنٹ قراردیناکسی بھی ذی شعوراورصاحبِ فہم و ادراک کے نزدیک ناقابلِ قبول ہے، شہری آبادیوں سے دور افتادہ اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے کشمیری کھیت بانوں کی اکثریت کنٹرول لائن کے دِونوں طرف بڑی کثیر تعداد میں صدیوں سے رہتی بستی چلی آرہی ہے اِن کی فطری معصومیت پر کسی بھی قسم کی مسلح تشدد پسندی کا الزام نہ ماضی میں کبھی لگایا گیا نہ ہی قرینِ قیاس ہوسکتا ہے، اْنہیں سرحد پارایجنٹ قراردے کر اصل میں نئی دہلی پاکستانی فوج کو دنیا بھر میں بدنام کرنا چاہتی ہے، کاش!اقوامِ متحدہ کے عالمی فوجی مبصرین عین لائن آف کنٹرول کے نزدیکی حساس علاقوں میں اپنی ہمہ وقت کی موجودگی کو اپنی عالمی ذمہ داریوں کو یقینی بناسکیں؟ مگر’ننگی جارحیت کی عادت میں ہمیشہ سے مبتلا’بھارتی فوج ایسا ہونا کبھی ممکن ہونے نہیں دے گی۔
*****