- الإعلانات -

لاہور میں ایک بار پھر افسوسناک سانحہ

پیر کے روز چند ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر لاہور میں فیروز پور روڈ پر واقع پرانی سبز منڈی میں خود کش دھماکے کے نتیجہ میں 26 افراد شہید ، 57 زخمی ہوگئے جن میں 2 تھانیداروں سمیت 9پولیس اہلکار بھی نشانہ بنے۔موٹر سائیکل سوار حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اس وقت اڑالیاجب ضلعی انتظامیہ سبزی منڈی میں موجود تجاوزات کو مسمار کر رہی تھی اور گرمی کے باعث پولیس اہلکار درخت کے نیچے آرام کرنے بیٹھ گئے تھے ،کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ صدر،وزیر اعظم ،آرمی چیف اور دیگر شخصیات نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ کوٹ لکھپت سبزی منڈی میں دودن سے جاری آپریشن کے حوالے سے پولیس کی بھاری نفری کو طلب کیا گیا تھا اور پولیس کی موجودگی میں ضلعی انتظامیہ سبزی منڈی میں موجود دوکانیں اور گھروں کو مسمار کر ہی تھی۔حملہ دیسی ساختہ بم سے کیا گیا جس میں 8 سے 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔چند روز قبل محکمہ داخلہ نے لاہور میں دہشتگردی کا خدشہ ظاہر کیا ہوا تھا جس کے بعد شہر بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ خفیہ اداروں نے کوٹ لکھپت سبزی منڈی کے گردونواح میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات دیں تھیں جس کی وجہ سے پولیس اس علاقہ کا متعدد بار سرچ آپریشن کر چکی تھی۔اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے خود کش دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن(ر) احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ ‘جماعت الاحرار’ نے قبول کی تھی۔اگرچہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں دہشتگردی پر بہت حد تک قابو لیا گیا ہے اور ایسے واقعات میں نمایاں کمی واقعی ہوئی ہے2016میں دہشت گرد کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 600 رہی جبکہ 2013 اور 2012 میں یہ تعداد 3 ہزار افراد تک تھی۔تاہم اکا دکا واقعات کا ہونا بھی تشویشناک ہے جس کے پیچھے بیرونی سازش کارفرما ہے۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر دہشتگردانہ لہر میں بھارت کی ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی کی مشترکہ گٹھ جوڑ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس وقت بھارت ہی کی ایما پر افغانستان پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی کیفیت سے گزر رہا ہے اور بھارت کے لب و لہجے کی نقل کرتے ہوئے کابل کے حکمران بھی پاکستان پر الزامات لگا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشتگرد ایک بار پھر اکٹھے ہو رہے ہیں اور بھارت اور بعض غیر ملکی ایجنسیوں کی ایما پر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب پاکستان نے ان دہشتگردانہ کارروائیوں کو کھلی جنگ قرار دے دیا ہے۔ ملک میں جب بھی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے نیشنل ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد نہ کرنے پر بحث شروع ہو جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جاتا تو ایسے سانحات ختم ہو چکے ہوتے اس ضمن میں کالعدم تنظیموں پر مکمل پابندی اور انکے دوسرے ناموں سے اپنی سرگرمیاں جاری کرنے کا نوٹس تو لیا جاتا ہے مگر مکمل عمل درآمد نہیں ہوتا۔اسی طرح پنجاب میں دہشتگردوں کیخلاف رینجرز آپریشن پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے تذبذب کا کیوں شکار ہے۔امرواقعہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت کو رینجزز کو مکمل اختیارات دینا ہوں گے ورنہ ہر دو تین ماہ بعد بیگناہ شہریوں کا خون بہتا رہے گا۔دوسری جانب پولیس کے اعلی حکام بھی پولیس کی تربیت پر توجہ دیں۔دیکھا گیا ہے ہمارے پولیس اہلکار اکثر ایسے مواقع پر روایتی سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی ایک جگہ جھمگٹا بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے حملہ آور کو آسان ٹارگٹ مل جاتا ہے جیسے گزشتہ روز کے واقعہ میں ہوا کہ ایک بڑی تعداد میں اہلکار ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے تھے اور نشانہ بن گئے۔اللہ تعالی مرحومین کے درجات بلند فرمائے۔دہشتگردی کے خاتمہ کو حکومت نے اپنی اولین ترجیح قرار دے رکھا ہے تو ضروری ہے کہ عوام بھی سکیورٹی اداروں سے بھرپور تعاون کریں۔

آرمی چیف کی امریکی کمانڈر سے ملاقات
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جان ڈبلیو نکولسن نے ملاقات کی جس میں دونوں جنرلز نے علاقے میں امن و استحکا م کیلئے تعاون اور رابطے جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا جبکہ امریکی کمانڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے افغانستان اور امریکا کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کردار کو داغدار کرنے کیلئے افغانستان اور امریکا کی الزام تراشیاں محض اتفاق نہیں، بے بنیاد الزامات سے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے، اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا، دہشت گردوں کو شکست دینا اپنا قومی مفاد سمجھتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ اس موضوع کو ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب امریکا میں پالیسی پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔بلاشبہ آرمی چیف نے بجا طور پر تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ حالیہ کچھ دنوں میں ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے جیسا کہ افغان سفیرحماد اللہ محب نے امریکہ میں ایک تقریب میں الزام لگایا کہ پاک فوج کے نئے افسران اپنے موجودہ کمانڈرز کے مقابلے میں دہشت گردی کی حمایت کرسکتے ہیں اور ایسے افسران جب ترقی حاصل کریں گے تو وہ دنیا کے لیے مزید مسائل پیدا کرسکتے ہیں۔افغان سفیر کی اس لغو الزام تراشی سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے حوالے سے گمراہ کرنے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کے خلاف زیادہ سے زیادہ سخت اقدام اٹھوائے جا سکیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے والا ہر ہر افسر اپنے پیش رو افسران کی طرح دہشت گردی کو ملکی سالمیت کے لیے انتہائی حساس تصور کرتا ہے۔اس حقیقت کو امریکہ میں بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔امریکا کی سابق اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے کیلیفورنیا کے اسپن انسٹیٹوٹ میں افغانستان پر ہونے والے سیمینار، جو سیکیورٹی مسائل کے حوالے سے امریکا میں سب سے اعلیٰ فورم تصور کیا جاتا ہے، میں کہا کہ واشنگٹن کی پالیسیز میں وضاحت کی کمی پاکستان کو حقانی نیٹ ورک سے اپنے رابطے توڑنے سے روک رہی ہے۔اسی سمینار میں واشنگٹن میں افغانستان کے سفیر حماد اللہ محب نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی مدد بند کریں۔ان کا دعوی تھا کہ پاکستان ایک ایسی ریاست بننے جارہا ہے، جس کی خارجہ پالیسی میں دہشت گردی کی حمایت کرنا اہم عنصر ہے اور جو دہشت گردی پر یقین رکھتی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی سول قیادت کے ساتھ کام کریں تاکہ فوج پر نظر رکھی جاسکے جس تقریب میں افغان سفیر نے بہتان تراشی کی وہاں پاکستان کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا لیکن رابن رافیل ہی وہ واحد شخصیت تھیں جنہوں نے افغان سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان گمراہ کن اور غلط ہے۔رابن رافیل نے افغان سفیر کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ دہشت گردی اور پاکستان مساوی ہیں۔یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیرون ملک ہمارے سفیر کیا کررہے ہیں وہ کیوں ایسے عناصر کو منہ توڑ جواب نہیں دیتے۔جنرل نکسن کو آرمی چیف قمر جاوید باوجوہ نے جن امور کی نشاندہی کی ہے ٹرمپ انتظامیہ کو اسکا نوٹس لینا چاہیے اور ایسے عناصر کو لگام ڈالے جو حساس معاملات پر مغالطوں کو ہوا دے رہے ہیں۔