- الإعلانات -

لاہور میں دہشت گردی کی تازہ لہر

ارفع کریم ٹاور کے قریب کوٹ لکھپت سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں9پولیس اہلکاروں سمیت 26افراد شہید اور 58 افراد زخمی ہیں جبکہ 11زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔دھماکے کے وقت جائے حادثہ سے تجاوزات ہٹانے کا کام ہو رہا تھاجہاں پولیس کی نفری بھی موجود تھی۔دھماکے سے قریب کھڑی متعدد موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔
ڈی آئی جی اوپریشنز حیدر اشرف کا کہنا تھا کہ یہ دھماکا خودکش تھا جس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں 9 اہلکار اور 17 عام شہری شہید ہوئے۔ ترقی کی وجہ سے لاہور ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے اور حملوں کا پہلے سے خطرہ تھا۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے والی ٹیم کی حفاظت پر پولیس تعینات تھی۔
لاہور دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارسال کر دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دھماکے میں 10 سے 12 کلو بارودی مواد استعمال ہوا۔ خود کش حملہ آور کے جسمانی اعضاء فرانزک ٹیسٹ کیلئے بھجوا دیئے گئے ہیں۔ خود کش حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ دو روز قبل موصول ہونے والے تھریٹ کے بعد پورے لاہور میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی لیکن کچھ کمی رہ گئی تھی جسے اب پورا کیا جا رہا ہے۔
غیر قانونی تجاوزات کو ہٹائے جانے کا کام ارفع کریم آئی ٹی ٹاور کے قریب سبزی منڈی میں کیا جا رہا تھا جب یہ دھماکہ ہوا۔ جس جگہ یہ دھماکہ ہوا ہے یہ کوٹ لکھپت کا علاقہ ہے جس کے بہت بڑے حصے پر غیر قانونی تجاوزات تھیں۔اور جہاں یہ دھماکہ ہوا ہے اس کے سامنے کچہری بھی واقع ہے۔لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی ان غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کچھ عرصے سے کارروائی کر رہی تھی اور اسی سلسلے میں اس علاقے میں پولیس کا ایک کیمپ بھی قائم کیا گیا تھا۔صوبائی وزیر صحت سلمان رفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں اب تک 26 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکہ کی جگہ مصروف علاقہ ہے جبکہ حکومت پنجاب کے ترجمان ملک احمد کے مطابق یہ علاقہ ریڈ زون میں آتا ہے جہاں پر وی آئی پی موومنٹ ہوتی ہے۔دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے خودکش بمبار نے لاہور میں موٹر سائیکل خودکش دھماکہ کیا ہے۔
ارفع ٹاور میں کام کرنے والے ذیشان نے بتایا کہ ’دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ارفع ٹاور کے کچھ شیشوں میں کریک آ گئے۔ میں نے باہر دیکھا تو ایک موٹر سائیکل اور ایک گاڑی تباہ حالت میں کھڑی تھی۔یہ دھماکہ بہت شدید تھا۔‘ایک پولیس اہلکار کے مطابق وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ ’پھر گرد و غبار تھا اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ ‘
کو ٹ لکھپت کے علاقہ میں ہو نیوالے خود کش حملے کے بعد جاری ابتدائی تحقیقات میں اہم پیش ر فت ہو ئی ہے کہ د ھما کے سے قبل مذ کو ر ہ علاقہ میں کئی گئی مشکو ک کا ل افغا نستا ن کے ایک نمبر پر کی گئی جہا ں سے خود کش حملہ آور کو ہدا یا ت دی گئی تھیں۔ ایک روز قبل (اتوار) کو بھی اسی نمبرکا استعما ل شہر کے اہم تفر یحی مقام کے قریب بھی کیا گیا تھا جسے حساس ادارو ں نے ٹر یس کر لیا ہے۔حسا س ادارو ں نے افغا نستا ن کا ل کر نیوالے شخص کے موبا ئل کا ای ایم ای نمبر حا صل کر لیا ہے جس کی مد د سے کا ل کر نیوالے کو جلد ٹر یس کر لیا جا ئیگا۔ حسا س ادارو ں کی جا نب سے پو لیس حکام کو د ہشت گردو ں کے دا خلے کی اطلا ع پہلے ہی دیدی گئی تھی، جس کے پیش نظر پو لیس کو الرٹ کیا گیا تھا کہ ٹولیو ں کی صورت میں اکھٹے نہ کھڑے ہو ں، ناکے پرچا ق وچو بندرہیں اور ہر مشکو ک شخص پر نظر ر کھیں۔ کو ٹ لکھپت د ھما کے سے قبل چند پو لیس اہلکا ر چار پا ئی پر لیٹے ہو ئے تھے جس کی وجہ سے آسان ہد ف ہو نے کی صورت میں خود کش حملہ کیا گیا۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور واقعے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے پاک فوج کے اہلکاروں کو فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت دی ۔ دوسری جانب پاک فوج کی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی ہیں اور امدادی کارروائیوں میں شریک ہو رہی ہیں۔
****