- الإعلانات -

ماہ اگست…ماہ پاکستان کی آمد آمد

ماہ اگست کی آمد آمد ہے اور اس بار ان شااللہ پاکستانی قوم 70واں یوم آزادی منائے گی۔قوموں کی زندگی میں ایک ایک پل بڑا قیمتی ہوتا ہے۔اس ایک ایک پل کی خون جگر سے آبیاری کے بعد ہی ملک و قوم کوئی مقام حاصل کر پاتا ہے۔کون نہیں جانتا کہ ستر برس قبل جب قائد محمد علی جناح کی قیادت میں نئے سفر کا آغاز کیا گیا تو ایک پیپر پن بنانے کی صلاحیت بھی نہیں تھی لیکن آج اللہ کے فضل سے ساتویں ایٹمی طاقت ہیں۔اس مقام کا حصول آسان نہ تھا لیکن ایک جنون ایک ولولہ نے اس قابل بنایا۔اسی طرح انگریز اور ہندو سامراج سے آزاد اور خود مختار الگ خطہ زمیں حاصل کرنا بھی آسان نہ تھا لیکن مرد آہن قائد اعظم نے ناممکن کو ایسا ممکن بنایا کہ آج تک دنیا انگشت بدنداں ہے۔یقیناًبابائے قوم کی ولولہ انگیز قیادت نہ ہوتی تو شاید پاکستان وجود میں کبھی نہ آتا لیکن یہاں مسلمانان ہند کے جوش و جذبے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں اپنے تمام باہمی اختلافات بھلا کر ایک آواز ایک نعرے پر لبیک کہا۔یہ وہ وقت تھا جب منبر و محراب فروعی مسائل میں الجھے ہوئے تھے۔فرقہ پرستی اور رنگ و نسل کی آگ دہک رہی تھی۔شاعر مشرق علامہ اقبال کی زبان پر یہی شکوہ تھا۔
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
ایسے ماحول میں کلمہ کی بنیاد پر الگ وطن کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتی اگر علمائے کرام کامل اتحاد کا عملی نمونہ نہ بنتے۔تحریک پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں علمائے کرام اور مشائخ کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا۔ان عظیم ہستیوں اور ان کے عقیدت مندوں نے مسلمانوں کے اسلامی تشخص کی داعی آل انڈیا مسلم لیگ کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردارادا کیا۔علما اور مشائخ صدق دل سے محسوس کرتے تھے کہ مسلمانوں کا اسلامی تشخص صرف اسی صورت محفوظ رہ سکتا ہے جب یہاں ایک علیحدہ اسلامی ریاست تشکیل دی جائے۔ چنانچہ جب قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ نے مارچ1940 میں قیام پاکستان کا نعرہ مستانہ بلند کیا تو وہ بابائے قوم کے دست و بازو بن گئے۔انہوں نے قائداعظم کے تدبر اور دور اندیشی پر اعتماد کرتے ہوئے تحریک پاکستان کو پوری دل جمعی سے آگے بڑھایا۔ جدوجہد آزادی میں ایسی عظیم ہستیوں کی خدمات اور کارنامے ہماری ملی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ درحقیقت تحریک پاکستان دنیاوی نہیں روحانی تحریک تھی۔اس لئے تمام اہل نظر نے دامے، درمے، سخنے اس کی حمایت کی۔آج ستر سال بعد اگر اس پہلو کو مد نظر رکھا جائے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ جس طرح تحریک پاکستان میں علما نے اپنا کردار ادا کیا تھا آج تحفظ پاکستان کے لیے بھی اس سے بڑھ کر انہیں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہندو سامراج کی گھناونی سازشوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔آج فرقہ واریت, لسانیت, صوبائیت کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کے ناسور کا بھی سامنا ہے۔اس ناسور کو ہمارے وجود میں اتارنے کے پیچھے وہی ذہنیت کار فرما ہے جو تقسیم ہند کے زخم چاٹ رہی ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کے جید علما اور مشائخ ایک بار پھر اپنا بے لوث کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں اتریں تاکہ نئی نسل کی درست رہنمائی ہو سکے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تیز ترین میڈیا وار کے ذریعے یوتھ کا ذہن پراگندہ کیا جا رہا ہے۔
دشمن اس تاک میں کہ اسے اسکی شناخت کے بحران سے دوچار کر کے قیام پاکستان اور نظریہ پاکستان سے دور کردیا جائے۔پاکستان گزشتہ دو عشروں سے دہشتگردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔صد شکر کہ دشمن کے عزائم کافی حد تک خاک میں ملائے جا چکے ہیں۔مگر آج سے تین چار سال قبل تک خوفناک صورتحال تھی دشمن کا بیانیہ اتنی جڑیں پکڑ چکا تھا کہ علما کرام بھی چکرا کر رہ گئے تھے۔کوئی آواز اگر بلند ہوتی تھی تو اسے پوری قوت کے ساتھ دبا دیا جاتا تھا۔یہ سلسلہ چلتا رہا اور حق کی آواز بلند کرنے والے بھی پیچھے نہ ہٹے۔بالآخر دشمن کے بیانیہ کو شکست ہوئی۔اس دلدل سے نکلنے کے لیے علما نے بھی جانوں کے نذرانے دیے تب کہیں امید کی ایک نئی کرن طلوع ہوئی ہے۔اس طویل تمہید باندھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگلے دن ایک مختصر سی خبر نظر سے گزری کہ پاکستان علما کونسل نے ماہ اگست کو ماہ پاکستان کے طورپر منانے کا اعلان کیا ہے اور یکم سے 31 اگست تک دہشت گردی، انتہا پسندی کیخلاف اور نظریہ پاکستان کی ترویج و اشاعت کیلئے تحفظ پاکستان کے عنوان سے عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی اور ملک بھر میں کانفرنسیں ، سیمینار اور تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ یہ اعلان اگلے روز پاکستان علما کونسل کے مرکزی چیئرمین و ممبر اسلامی نظریاتی کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کی زیر صدارت بیت قاسمی فیصل آباد میں مرکزی و صوبائی عہدیداران کے اجلاس میں کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان علما کونسل کے زیر اہتمام 10 اگست کو لاہور، 12اگست اسلام آباد، 16 اگست کو ملتان، 20 اگست کو فیصل آباد،24اگست کو بہاؤلپور، 27 اگست کو اوکاڑہ میں تحفظ پاکستان کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی۔اس موقع پر چیئرمین پاکستان علما کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہاکہ پاکستان علما کونسل نے ہمیشہ ایسی قوتوں کی حوصلہ شکنی کی ہے جو پاکستان میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر نفرت پیداکرنا چاہتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی احسن فیصلہ ہے جو وقت کا تقاضہ بھی ہے۔دہشت گردی ختم کیے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔پاکستانی قوم کو مسلک،مذہب یا فرقہ کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش کو اسی صورت ناکام کیا جاسکتا ہے کہ ہر طبقہ فکر باہر نکلے۔خصوصا علما منبر ومحراب سے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں۔اسلام کے نام پر دہشت گردی کے بیانہ کو مسترد کرنا ہو گا۔بصورت دیگر ہمیں ایسے سانحات کا سامنا رہے گا جو گزشتہ روز لاہور میں پیش آیا جس میں دو درجن سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔خوش آئند بات یہ ہے کہ قبل ازیں وفاق المدارس پاکستان،وفاق المدارس العربیہ، رابط المدارس پاکستان ، وفاق المدارس اور دارالعلوم کراچی سمیت مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما کرام اور مشائخ عظام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف متفقہ فتوی بھی جاری کرچکے ہیں۔یہ متفقہ فتوی اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور اسلامی بین الاقوامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام26مئی کو قائد اعظم یونیورسٹی میں مذہبی برداشت و ہم آہنگی کے فروغ کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس کے اختتام پر جاری کیا گیا تھا، جس میں صدر مملکت ممنون حسین اور مسلم ممالک کے جیدعلما بھی شریک تھے۔ملک کے 31معروف علما کرام و مشائخ عظام کے دستخطوں سے جاری ہونے فتوے میں کہا گیا کہ محاذ آرائی،فساد ، دہشت گردی ، شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال حرام ہے ،دستور کے کسی حصہ پر عمل کرنے میں کسی کوتاہی کی بنا پرملک کی اسلامی حیثیت اور اسلامی اساس کا انکار کرنا کسی صورت درست نہیں ۔ لہذا اس کی بنا پر ملک یا اس کی حکومت ، فوج یا دوسری سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے خلاف مسلح کارروائی کا کوئی شرعی جواز نہیں،ایسا عمل اسلامی تعلیمات کی رو سے بغاوت کا سنگین جرم ہے، نفاذ شریعت کے نام پرطاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی،تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں حرام قطعی،شریعت کی رو سے ممنوع اور بغاوت ہیں،یہ بھی کہا گیا کہ ریاست کے ملک دشمن عناصر کو کچلنے کے لئے شروع کیے گئے آپریشنز ضرب عضب اور رد الفساد کی مکمل حمایت کرتے ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علما اورمشائخ سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے طبقات ریاست اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔یہ دونوں اہم پیشرفت ہیں۔پاکستان علما کونسل کے قائدین خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں ماہ اگست کو ماہ پاکستان کے نام منانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔