- الإعلانات -

کھول آنکھ زمیں دیکھ،فلک دیکھ ، فضا دیکھ

بھارت کے پردھان منتری نریندر مودی نے صیہونی ریاست اسرائیل کا دورہ کیا جہاں تل ابیب کے ہوائی اڈے پراسرائیلی وزیر اعظم بنیا مین یاہو نے مودی کا پرتپاک اسقبال کیا۔ عمومی طور پر اسرائیل میں ایسا اسقبال امریکی صدور کیلئے مختص ہے۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ بھارت اور اسرائیل میں اس دورہ کو غیر معمولی کوریج دی گئی جبکہ عالمی سطح پر پر بھی اس دورہ کے اثرات محسوس کئے جا رہے ہیں۔ بھارت نے ۱۹۵۰ء میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا تا ہم دونوں ممالک کے تعلقات کی ابتدائی نوعیت مختلف تھی۔ ہندوستان نے پچھلی صدی میں اسرائیل اور فلسطین کے ساتھ تعلقات میں توازن کی ظاہری کوشش کی لیکن اب بھارت کا اسرائیل کی طرف واضح جھکاؤ اور اپنے دورہ کے دوران فلسطینی علاقے کا دورہ نہ کرنا اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ عالمی سطح پر غیر مسلم طاقتیں مسلم مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے متحد ہو چکی ہیں۔ مودی کے پروگرام میں نہ تو کسی فلسطین کے لیڈر سے ملنا شامل تھا اور نہ وہ کسی دوسرے عرب ملک کی سر زمین پر قدم رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا اس سے ہمارے عرب بھائیوں خصوصاً فلسطینیوں کو بھارتی ہندو کے دل میں اپنی محبت اور اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ آج اگر یاسر عرفات زندہ ہوتا جس نے بھارت کو خوش رکھنے کیلئے آزادی کشمیر کا نام لینا بھی گناہ تصور کیا، اسے بھارتی ذہنیت اور اندرونی کہانی کی حقیقت کا ادراک تو ہوتا۔ بہت سے بھارتی تجزیہ کاروں نے بھی بھارتی وزیر اعظم مودی کی جانب سے اپنے دورہ کے دوران فلسطینی قیادت کو نظر انداز کرنے کو فلسطین سے متعلق بھارت کے موقف میں ڈرامائی تبدیلی قرار دیا ہے اور اس پر احتجاج کیا ہے۔ فلسطین کے شہر راملہ میں بھارتی قونصل خانے کے باہر اسرائیل کی حمایت کرنے پر بھارت کے خلاف مظاہرہ بھی کیا ہے۔ اسرائیل ایک مدت سے فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے حالانکہ وہ خود نہتے فلسطینیوں پر ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے۔ یہی بھارت کا لائحہ عمل ہے۔ کشمیریوں پر ریاستی دہشت گردی کرنے کے باوجود بھارت الٹا کشمیریوں کو دہشت گرد کہتا ہے۔ اسرائیل گزشتہ ستر برسوں سے مغربی دنیا کو یہ باور کرا رہا ہے کہ اگر وہ اپنا وجود یہاں برقرار رکھے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے طاقت کارفرما ہے۔ جب بھی اسرائیل کمزور ہو گا تو وہ یہاں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ اس فلسفے کو بنیاد بنا کر اسرئیل نے ایٹم بم بنائے اور مغربی حمایت حاصل کی، اس منظر نامے کو سامنے رکھیں تو مسلمانوں کا اتحاد ہی اس جارحیت کو روک سکتا ہے۔ اسرائیل اورانڈیا کے بر تر قوم ہونے کے فلسفے مکمل طور پر ہٹلر کے فلسفوں کا چربہ ہیں۔ ہٹلر بھی جرمن قوم کو دنیا کی سب سے برتر قوم قرار دیتا تھا۔ اسی احمقانہ جنون میں مبتلا ہو کر وہ جرمنوں کو ساری دنیا کا حکمران بنانے کے سفر پر نکلا تھا لیکن اسے ذلت آمیز خودکشی نصیب ہوئی۔ دنیا میں جب تک کسی قوم میں قومی، نسلی یا مذہبی برتری کا خناس موجود رہے گا دنیا جنگوں، نفرتوں کے الاؤ مین جلتی رہے گی۔ اسرائیل سالانہ ایک ارب ڈالر کا فوجی سامان ہندوستان کو فروخت کر رہا تھا۔ کارگل جنگ میں بھی اسرئیل نے پاک فوج کی پوزیشنز کی سیٹلائٹ تصاویر ہندوستان کو مہیا کیں۔ لائن آف کنٹرول پر جو ہندوستان نے باڑ لگائی ہے وہ ٹیکنالوجی بھی بھارت نے اسرائیل سے لی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران اپنے اسرئیلی ہم منصب بینجمن نیتن یاہو اور صدر ریون ریوئن سے ملاقات کی اوراقتصادی تعاون بڑھانے اور انسداد دہشت گردی سمیت متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے بعد دونوں وزرائے اعظم کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیاکہ’’ ہماری بات چیت صرف باہمی امور پرہی مرکوز نہیں رہی بلکہ ہم نے انسداد دہشت گردی پر بھی تبادلہ خیال کیا جس سے عالمی امن امان کو خطرہ لاحق ہے۔ ہم نے اس بارے میں باہمی تعاون پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم نے صنعتی شعبے میں ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کیلئے 40ملین ڈالرکے ایک مشترکہ فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ اسرائیلی صدر سے ملاقات کے موقع پر نریندر مودی نے دونوں ملکوں میں باہمی قربت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک جملہ’’ آئی فار آئی‘‘ ادا کیا یعنی’’ اسرائیل فار انڈیا۔ انڈیا فار اسرائیل‘‘۔ نریندر مودی کے دورے سے اسرائیل چاہتا ہے کہ وہ بھارت کی سرزمین کے ذریعے جنوبی ایشیاء میں اپنے قدم جما سکے۔ انڈیا اور اسرائیل نے حالیہ برسوں میں انسداد دہشت گردی، دفاع، زراعت، پانی اور توانائی کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھایا ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ یہودی بھی اسی طرح نسل پرست اور اسلام دشمن ہیں جس طرح بھارت کے نام نہاد اونچی ذات کے ہندو برہمن اور بنیا نسل پرست اور اسلام دشمن گروہ اپنے اپنے سودی سرمایہ کے ڈھیر بھی رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور دہشت گردی کو ہوا دینے میں بھی یہ سرمایہ پانی کی طرح بہا رہے ہیں اور اب یہودی اور برہمن یہی سودی سرمایہ اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں کو مٹا دینے کیلئے اسلحہ سازی پر خرچ کریں گے۔ دونوں میں یہ معاہدے ہو گئے ہیں کہ اسرائیل اسلحہ بنائے گا اور بھارت کو سپلائی کرے گا۔ بھارت نے نہائت چالاکی سے’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کی چھتری استعمال کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ فطرت کسی کیلئے بھی اپنے فیصلے نہیں بدلا کرتی۔ خاص طور پر اس قوم کے حوالے سے تو یہ امر ممکن نہیں ہے جسے خود اپنی حالت کے بدلنے کا احساس نہ ہو۔ جب دنیا ترقی کی منازل طے کر رہی تھی تو مسلم امہ بے شمار مسائل میں گھری تھی جنہوں نے اتحاد امت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ضعیفی ایک ایسا جرم ہے جس کی سزامرگ مفاجات کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہندو یہود اشتراک کر چکے ہیں۔ عرب اور اسلامی دنیا میں بے حسی کا جمود ہے۔ سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی مسلمان لیڈر فلسطینیوں اور کشمیریوں کی کسی مدد کیلئے تیار نہیں۔ بھارت بھرپور انداز سے دنیا کے سامنے اپنا موقف پیش کر رہا ہے اس بر عکس ہمارے ہاں صورت حال دیگرے ہے۔ جو کہ سیاسی یکجہتی اور اتحاد کی متقاضی ہے۔ قومی مفادات کی نگہداشت اتحاد کی فضا میں ہی پروان چڑھتی ہے جو وطن عزیز میں مفقود ہے۔ اس لئے آج ضرورت ہے کہ ذاتی مفادات سے صرف نظر کرتے ہوئے قومی مفادات کو ترجیح دی جائے اور اس پر سب حکومتی اور اپوزیشن حلقے لبیک کرتے ہوئے اتحاد ملی کا ثبوت فراہم کریں جس میں ہم سب کی بقا کا انحصار ہے۔