- الإعلانات -

عمران خان اور حکومتی ترجمان

بچپن میں ایک گانا سنا تھا جس کے بول کچھ یوں تھے ” اس دنیا میں سب چور چور کوئی چور کوئی بڑا چور اس دنیا میں سب چور چور بالکل یہی نون لیگ اور پی ٹی آئی کے مابین ہو رہا ہے ہمارے حکومتی ارکان ڈاکٹر فضل چوہدری جو خاصے معقول آدمی ہیں اور دوسرے دانیال عزیز جو حکومت کے تند خو ترجمان ہیں دونوں حضرات نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے ٹھنڈے ٹھار ماحول میں ایک عدد پریس کانفرنس کھڑکا ڈالی پریس کانفرنس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی اور دوروز قبل ہونے والینا خوش گوار واقعے پر شدید احتجاج کیا جس میں صحافیوں پر تشدد کیا گیا تھا تفصیل اجمال کچھ یوں ہے کہ دوروز قبل سیکیوریٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے سربراہ ظفر حجازی کی ضمانت منسوخ ہونے کے بعد انہیں فورا کئی امراض لاحق ہوگئے جو نام نہاد بڑے لوگوں کا معمول ہے انہیں فورا پمز ہسپتال کے جایا گیا صحافیوں نے اس موقع پر ظفر حجازی کی چند تصاویر اتاریں فوٹو اتارنے والوں میں ایک خاتون صحافی صبا بھی شامل تھیں ہسپتال کے عملے کے بعض ارکان اور ظفر حجازی کے قریبی لوگوں نے خاتون صحافی سے ان کا کیمرہ چھین لیا اور ان کو بازو سے پکڑ کر دھکے دئے گئے ہسپتال کے عملے اورظفر حجازی کے قریبی رشتہ داروں نے ان پر تشدد بھی کیا جو اخلاقی تقاضوں کے انتہائی منافی اور ہماری روایات کے صریح خلاف بات ہے حجازی صاحب کی ہشاش بشاش حالت کی چند تصاویر جو حقیقت حال کو واضح کر سکتی تھیں ان تصاویر کو بزور قوت اور دھونس ڈیلیٹ کروادینے کے باوجود بھی خاتون صحافی صبا کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں جس پر صحافتی برادری نے بھرپور احتجاج کیا وزیر موصوف نے فرمایا کہ چونکہ پمز ہسپتال ان کی وزارت کے ماتحت ہے لہذا ہسپتال کے عملے کے ملوث افراد کے بارے میں وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی باقی ملزموں کے خلاف کارروائی کے لئے وزیر موصوف نے مزید فرمایا کہ وہ وزارت داخلہ سے رابطے میں ہیں اور واقعے کے ذمہ دار باقی لوگوں کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی اور ایف آئی آر درج کرائی جائے گی ان یقین دہانیوں کے بعد پریس کانفرنس شروع ہوئی جس میں ہر تان ایک ہی بات پر ٹوٹتی رہی کہ عمران خان بھی ہماری طرح منی ٹریل نہیں دے سکے اس میں نون لیگ کے رہنماں نے برابری یا پیریٹی ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن دونوں صاحبان شاید یہ بھول رہے ہیں کہ میاں صاحب اور ان کا خاندان 1981 سے کسی نہ کسی صورت میں آج تک مقتدر رہا ہے جب کہ عمران خان کبھی ایک دن کے لئے بھی کسی عوامی عہدے پر ممکن نہیں رہے ان کا کرکٹ کے کیریئر کا زیادہ تر عرصہ انگلینڈ میں گزارا جہاں وہ پروفیشنل کرکٹ کھیلتے رہے جہاں اچھے کرکٹرز کو نہایت معقول معاوضہ دیاجاتاہے جس میں سے باقاعدگی سے ٹیکس منہا کیا جاتا ہے اس میں کسی کو کوئی استثنا نہیں اور سب سے بڑی بات کہ جس رقم کی بات کی جارہی ہے وہ ملک سے باہر نہیں گئی بلکہ بیرون ملک سے اندرون ملک آئی ہے انگلینڈ میں پیسے پر خصوصی نظر رکھی جاتی ہے جہاں دو نمبر کی کمائی نا ممکن ہے عمران خان کی طرح آج لاکھوں پاکستانی تارکین دنیا بھر میں مختلف مقامات پر ملازمتیں کر رہے ہیں کیا ان سب سے بھی منی ٹریل پوچھا جائے گا دہائیوں پہلے بینکوں کاحال یہ تھا کہ آپ نے بینک کے ذریعے پیسے بھیجے جاتے جو کلیئرنس کے نام پر برانچ مینیجر روک لیتا ڈرافٹ کیش ہو جانے کے باوجود اکاؤنٹ میں پوسٹ نہیں ہوتا تھا جب کہ ہنڈی والے حضرات 24 گھنٹے میں رقم گھر پہنچا دیتے ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے یہ چینل مقتدرون نے اس لئے کھلا رکھا ہے کہ یہ اپنی حرام کی کمائی بیرون ملک منتقل کر سکیں ایک اعلی حکومتی شخصیت کے دبئی میں موجود اکاؤنٹ کی تفصیلات دیکھیں تو ہوش اڑجائے اس اکیلے اکاؤنٹ سے اربوں ادھر ادھر ہوئے ہیں ان سے آپ عمران کو ملا رہے ہیں بیرون ملک پاکستانیوں کے خون پسینے کی کمائی سے وطن عزیز کی اقتصادیات چلتی رہی ہیں اور اسی آمدنی پر ہمارے حکمرانوں کے اللے تللے چلتے رہے جو آج بھی جاری و ساری ہیں عمران خان بھی بیرون ملک پاکستانی کے طور پر بیرون ملک مقیم رہے انہوں نے ملک سے کچھ لیا نہیں بلکہ دیا ہی ہے ہاں اگر عمران خان کو کوئی عوامی عہدہ دے دیں اور پانچ سال بعد عمران خان موجودہ جے آئی ٹی سے بھی زیادہ سخت جی آئی ٹی بٹھا دیں جو کڑا احتساب کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردے ہم اس احتساب کی بھرپور حمایت کریں گے عمران خان نے پیسہ تو جو کمایا سو کمایا لیکن اس انسان نے بیرون ملک اور اندرون ملک لوگوں کا بھروسہ اور اپنے لئے عزت کمائی اس شخص نے جو بھی کمایا اپنے عوام اور ملک کو لوٹا دیا شوکت خانم کینسر ہسپتال بنایا جو بڑے بڑے ماہرین کے مطابق پاکستان میں نجی شعبے میں ایسے ہسپتال کابننا ممکن نہیں تھا لیکن جنون جیت گیا اور حسابی سوچ ہار گئی آج بین الاقوامی معیار کا شوکت خانم کینسر ہسپتال ایک حقیقت ہے جس میں 70 فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے نمل یونیورسٹی جیسی بین الاقوامی معیار کی درس گاہ کو میانوالی جیسے پسماندہ ترین علاقے میں قائم کرنا جس میں عالمی معیار کی تعلیم تقریبا مفت ہے کیا یہ کوئی معمولی بات ہے دوسری جانب صاحب اختیار لوگ گجرات میں بننے والے کارڈیالوجی سینٹر محض اس لیے بند کردیا جاتا ہے کہ کہیں سیاسی مخالف کے نام کی تختی نہ لگ جائے عوام الناس اور عدلیہ اس بنیادی نکتے پر ضرور غور کرے گی کہ پیسہ اندرون ملک آیا کیاباہر نہیں گیا اللہ ہمیں حق اور سچ اور فروغ میں فرق کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔ آمین

کرم۔۔۔۔ شوکت کاظمی
وفائیں مانگی نہ ہم نے ادائیں مانگی ہیں
حریصِ جوہر ستم ہیں ، جفائیں مانگی ہیں
یہ اُس کا اپنا کرم ہے معاف کر ڈالے
ہمارے واسطے سب نے سزائیں مانگی ہیں