- الإعلانات -

دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قومی شرکت یقینی بنانے کی ضرورت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور کور ہیڈ کوارٹرز میں سیکیورٹی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس کے دوران آپریشن رد الفساد اور گزشتہ روز ہونیوالے دھماکے کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ دھماکے کے متاثرین اور انکے اہلخانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ اس طرح کے واقعات اپنی سر زمین سے دہشتگردی کو ختم کرنے کے ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے ۔ہم دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کے درمیان رابطے ختم کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ پاک فوج ایسے واقعات پرسب سے پہلے متحرک ہونیوالی پولیس اور قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے انکی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ ہم نے دہشتگردی کیخلاف ایک قوم کی حیثیت سے جنگ لڑی ہے ۔ کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو دی جائے اس طرح دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قومی شرکت یقینی بنائی جا سکتی ہے ۔ دشمن اٹنیلی جنس ایجنسیاں اور ریجنل ایکٹرز دہشتگردی کو پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کرنے میں پوری طرح ملوث ہیں ۔ کابل اور لاہور میں یکے بعد دیگر ہونیوالے دھماکے ہمارے اس موقف کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشتگردی کا شکار ہیں اور اگر افغانستان کی سرزمین ایسے عناصر بلا روک ٹوک استعمال کرتے رہے تو دونوں ممالک دہشتگردی کا شکار رہیں گے ۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سرحدی علاقوں سے دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرنے میں مدد کیلئے تیار ہے جیسا کہ ہم نے سرحدی علاقے میں اپنی حدود میں کیا ہے ۔ بعد ازاں آرمی چیف نے جنرل ہسپتال میں دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی ۔ کمانڈر لاہور کور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی اور آئی جی پنجاب پولیس بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ آرمی چیف نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دشمن کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی میں ملوث ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی دہشت گردانہ کارروائیاں تو طشت ازبام ہوچکی ہیں ان کیخلاف پاکستان کئی بار احتجاج ریکارڈ کروا چکا ہے اور عالمی برادری کی اس طرف توجہ مبذول کرائی گئی لیکن عالمی سطح پر بھارت کیخلاف کوئی ایکشن دیکھنے میں نہ آیا۔ ایک طرف پاکستان کو بھارت کی دہشت گردی کا سامنا ہے تو دوسری طرف اسلامی برادر ملک افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کیخلاف استعمال ہونا اس کیلئے درد سربنا ہوا ہے ۔ افغانستان میں موجود قونصل خانوں میں دہشت گردوں کی تربیت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ افغانستان بھارت کی چال میں پھنس چکا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔ افغان حکومت کو بھارت کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے، پاکستان چاہتا ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور مستحکم افغانستان اس کی خواہش ہے ۔ خطے میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوسکے گا جب دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ پاک فوج دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے اور اس کی قربانیاں نہ صرف قابل ستائش ہیں بلکہ قابل تقلید بھی ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جو کردار ادا کررہا ہے وہ عالمی برادری کیلئے قابل تقلید ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی شرکت کو یقینی بنائے بغیر مطلوبہ مقاصد پورے نہیں ہوسکتے اس لئے قومی شرکت ازحد ضروری ہے۔

پاکستان، مالدیپ باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان باہمی تعاون کے کئی معاہدوں ، سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف اور مالدیپ کے صدر نے اپنے اپنے وفود کے ہمراہ مختلف باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ نواز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ سول سروس، تعلیم، صحت اور سیاحت میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا، عوامی روابط کے شعبوں کو بھی فروغ دیں گے۔پاکستان اور مالدیپ علاقائی مسائل کے حل کیلئے تعاون کو جاری رکھیں گے اور دونوں ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کا عزم رکھتے ہیں۔س موقع پر بات کرتے ہوئے وزیر اعطم نواز شریف نے کہا کہ مالدیپ کے قومی دن کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی آمد پر نہایت خوشی محسوس ہو رہی ہے، بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جانا میرے لئے باعث فخر ہے، ہم مالدیپ کی ترقی اور خوشحالی کیلئے دعاگو ہیں، مالدیپ کے صدر اسلام آباد میں سارک اجلاس کے انعقاد کے حامی ہیں، بھارت نے سارک کے منشور کے منافی کام کیا،خطے کی ترقی کیلئے سارک کو فعال بنانا لازمی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کھیل، صحت، تعلیم اور انسدادِ منشیات میں تعاون جاری رہے گا، دونوں ملکوں کے ورکنگ گروپس کی چار ذیلی کمیٹیاں بھی کام کر رہی ہیں، دوطرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے مشترکہ بزنس گروپس تشکیل دیئے گئے ہیں۔نواز شریف مالدیپ کے د ورے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔وہ26 جولائی کو مالدیپ کی 52 ویں یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کا دورہ مالدیپ علاقائی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کی پالیسی کا حصہ ہے۔مالدیپ کے ساتھ تعلقا ت دونوں ممالک کے عوام کے جذبات کے باعث انتہائی قریبی اور گرمجوش ہیں ۔وزیراعظم کے دورے سے مالدیپ کے ساتھ سیاسی ، تجارتی ، اقتصادی ، دفاع ، سیاحت ،تعلیم کے شعبوں اور عوام سے عوام تک کے رابطوں کو مزید مستحکم بنانے میں نئی تحریک پید اہوگی ۔ مالدیپ کے ساتھ سفارتی تعلقات 26 جولائی 1966سے قائم ہیں جو مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی اور بین الاقوامی باہمی اہمیت کے مسائل میں قریبی تعاون پایا جاتا ہے۔ پاکستان اور مالدیپ کے عوام میں ایک دوسرے کیلئے گرم جوشی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس دورے سے مختلف شعبوں بشمول سیاست، تجارت، معیشت، دفاع، سیاحت اور تعلیم میں باہمی تعقات مزید مضبوط ہوں گے۔

مذاکرات کی کامیابی کے بعدہڑتال ختم کردی گئی
حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد آئل ٹینکرزایسوسی ایشن نے ملک بھرمیں ہڑتال ختم کردی ہے اب ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل شروع ہوگئی ہے ہڑتال کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا ۔ پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں ، فلنگ اسٹیشن پر پٹرول کی عدم دستیابی عوام کیلئے درد سر بنی دکھائی دی ۔ ملک بھر میں پٹرول کی نایابی نے شہریوں کو پریشانی سے دوچارکئے رکھا حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد آئل ٹینکروں نے ہڑتال ختم کرنے کااعلان کیااور ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل شروع ہوگئی۔آل ٹینکرزایسوسی ایشن کاہڑتال ختم کرنے کااعلان خوش آئندہے اب لوگوں کی مشکلات کم ہوں گی اورپٹرول باآسانی دستیاب ہوگا۔