- الإعلانات -

پاکستان دشمن’’دوست ‘‘

جس دن اخبارات میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے اور یہ قوم اپنے ملک میں موجود انتہا پسند اقلیت کا قلع قمع کرنے میں کامیاب رہے گی۔ اسی روز یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ امریکہ نے پاکستان کی 35ملین ڈالر کی دفاعی امداد روک دی ہے اور طالبان کے ایک گروپ کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے کا بہانہ بنا کر پینٹا گون یہ فیصلے کر رہی ہے کہ پاکستان کو کولیش سپورٹ فنڈ کی مد کی رقم 35ملین ڈالر نہیں دیئے جائیں گے۔ یہ امر بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ امریکہ نے نائن الیون کے جس واقعہ کو وجہ بنا کر جنوبی ایشیائی خطے کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا ہے اس کے بارے میں خود اس کے خفیہ ایجنٹس کہہ رہے ہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہمیں محدود کارروائی کا حکم دیا گیا تھا جو ہم نے حب الوطنی کے جذبے کے پیش نظر کیا۔ اس پر امریکہ کا کوئی موقف نہیں آیا۔ امریکہ نے عراق پر جن کیمیکل ہتھیاروں کا بہانہ بنا کر حملہ کیا اسے وہاں سے کچھ نہ ملا۔ سوائے صدام حسین کے کزن کی مکل علی کے۔ لیکن امریکہ نے ایک ہنستے بستے ملک کو برباد کر کے رکھ دیا۔ لیبیا کے حکمران قذافی اور مصر میں اسلامی حکومت کے منتخب حکمران کے ساتھ جو ہوا یہ سب کچھ ایجنڈے کا حصہ ہے۔ شام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ وہ تو روس بشر الاسد کی مدد کو پہنچ گیا ورنہ اب تک بشر الاسد یا تو مارا جا چکا ہوتا اور شام بھی سارے کا سارا تباہ ہو چکا ہوتا۔ اب بہرکیف یہ امید ہے کہ شام سنبھلنے کے قابل شائد ہو ہی جائے۔یہی حشر امریکہ نے افغانستان کا کیا ہے اور پاکستان میں جتنے خودکش دھماکے ہوئے اور دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں وہ بھی اسی دہشت گردی کی جنگ کی وجہ ہی سے ہوئیں۔ پاکستان میں حالات قدرے بہتر ہونا شروع ہوتے ہی ہیں تو افغان بارڈر کی جانب سے چھیڑ خانیاں شروع کروا دی جاتی ہیں۔ چھیڑ خانیاں شاید چھوٹے لفظ ہیں بارڈر پار سے باقاعدہ حملے کروائے جاتے ہیں۔ بھارت ایک عرصے سے افغانستان میں اپنے اثاثوں کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف کارروائیوں میں مشغول ہے۔ لیکن افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی آمد کے بعد سے تو جیسے اس کی چاندی ہو گئی اور اس نے وہاں متعدد قونصل خانے کھول رکھے ہیں جن کا کام ویزے فراہم کرنا نہیں بلکہ دہشت گردوں کی خرید، ان کی تربیت اور ان کی سرپرستی کر کے انہیں پاکستان پر حملوں اور خودکش دھماکوں کے لئے استعمال میں لانا ہے۔ ناراض بلوچ رہنماؤں کو بھی افغانستان میں پناہ دی جاتی ہے اور بھارت ان کی مالی معاونت بھی کرتا ہے اور تخریب کاری کے لئے سرپرستی بھی کرتا ہے۔ لیکن سپر پاور کو اس کی کارستانیاں اس لئے دکھائی نہیں دیتیں کہ وہ خود بھارت کی سرپرستی کر رہی ہوتی ہے۔ سرپرستی بھی اس بھارت کی کہ جس کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جو خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے مگر اس کے ساتھ تو دھڑادھڑ دفاعی معاہدوں پر دستخط کر رہے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ سول نیو کلیئر ٹیکنالوجی سے متعلق معاہدے کر کے اپنے تعصب کو ظاہر کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ پاکستان کے ساتھ کہ جس کے ہزاروں شہری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کے نذرانے دے چکے ہیں کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرنے سے بھی گریزاں ہے۔ امریکہ کا معاملہ بھی انڈے کہیں اور کڑ کڑ کہیں والا معاملہ ہے کہ پاکستان اور اس کی افواج کی کارکردگی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں امریکہ اور بیسیوں ممالک کے فوجیوں پر مشتمل نیٹو افواج سے بھی کہیں زیادہ ہے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ کسی بھی امریکی حکومت کا وطیرہ ہے کہ جب اس کے خلاف اپنے ملک میں سوال اٹھتے ہیں کہ وہ افغانستان میں جنگ کیوں ہار رہا ہے۔ تو وہ فورا پاکستان پر الزام عائدکر دیتے ہیں کہ اس کا ذمہ دار پاکستان ہے جو طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہا۔ جبکہ امریکہ اپنے فوجیوں کی افغانستان کے اندر کارکردگی سے بخوبی واقف ہے۔ درحقیقت نیٹو افواج نے اتنا ہی کیا جتنا انہیں کہا گیا تھا کہ انہوں نے افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے خلاف اس لیے بھی کارروائی نہیں کی کہ بوقت ضرورت ان دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور کیا جاتا ہے۔ امریکہ پاکستان کے مغربی بارڈر کے ساتھ ساتھ تو ڈرون بلاجھجک پھینکتا تھا لیکن اسے کنٹر اور نورستان میں بیٹھے ہوئے وہ شدت پسند دکھائی نہیں دیتے تھے جو پاکستان پر حملے کرتے تھے۔ اب بھی کراس بارڈر حملے ہوتے ہیں۔ اس میں بھارت اور دیگر ممالک کی معاونت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ سمیت بعض سپر پاورز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس خطے کی معاونت نہ کریں اور اپنے آپ کو اس سے الگ کر لیں تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے کے ممالک ان خطرات پر قابو پا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ سپر پاورز ہی ہیں جو اس خطے سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں دہشت گردی ختم نہیں ہونے دے رہیں۔ کیونکہ اس طرح سے ان پاورز کو براہ راست ان ممالک سے لڑنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ وہ دوست بن کر تعاون کا یقین دلاتے ہیں اور دشمنوں کی سرپرستی بھی کر رہے ہوتے ہیں تاکہ نفرت کی چنگاریاں بھڑکتی رہیں اور یہ طاقتیں آرام سے خون کی بہتی ہوئی ان ندیوں کے نظارے کرتی رہیں۔

دھن دھارا(منی ٹریل)۔۔۔۔ شوق موسوی
مانا یہ فقط قصہءِ اسلاف نہیں ہے
اِک گھر کو پکڑنا مگر انصاف نہیں ہے
یہ پانی بہت گدلا ہے شفاف نہیں ہے
دھن دھارا کسی کا بھی یہاں صاف نہیں ہے