- الإعلانات -

حکمرانوں کے نورے

حواری زوال کا سبب بنتے ہیں حواری چاہلوس ہر سردار ۔وڈیرے اور حکمران کے گھر تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے باکمال ہوتے ہیں!نہ حقیقی دوست ہوتے ہیں نہ رشتہ دار نہ مخلص ساتھی۔ مگر دوستوں سے زیادہ رشتہ دا ر سے بڑھ کراور ساتھیوں سے زیادہ مخلص بن کر امیر کبیراور سردار لوگوں کے قریب ہو جاتے ہیں۔ عموماًقلابے ملاکرباتیں کرتے ہیں۔ اور حد سے بڑھ کر تعریفیں کرکے حکمرانوں کا قرب پالیتے ہیں ۔ حکمران کی غلطیوں کو بھی بہترین فیصلے قرار دیتے ہیں ۔ ہر کام میں حکمرانوں کی خواہ مخواہ حصہ داری شو کرتے ہیں۔ یہی لوگ حکمرانوں کی بربادی و ذوال کا سبب بنتے ہیں۔ میاں محمد نواز شریف ہو کہ آصف علی زرداری۔ ایوب خان ہو کہ ذولفقار علی بھٹو۔ عمران خان ہو کہ بینظیر بھٹو ۔ یہ لوگ عوام کے نمائندے بن کر اقتدار میں تو آجاتے ہیں۔ یا یہ لوگ اقتدار پر جب پہنچتے ہیں تواختیارات کے مالک ہونے کے سبب بہت سارے مفادپرستوں اور جاہلوں میں گھر جاتے ہیں۔ چاپلوس اور مفاد پرست با اختیاروں کو خود بخود چمٹ جاتے ہیں تعلق ہونہ ہو بہت قریبی ہونے لگتے ہیں۔ حاکم کی ہربات ہر فعل اور ہر پالیسی کی اس انداز میں تعریف کرتے ہیں۔ گویا حاکم نے جو کہا جو سوچا اور جو چاہا ہے وہی قوم ملک کے مفاد میں ہے ان چاپلوسوں اور مفادپرستوں کو علاقائی زبانوں میں مختلف نا م دئیے جاتے ہیں۔ کہیں مشیر ۔ کہیں وزیر ۔کہیں ان کو گماشتے۔ کہیں یہ حواری ۔ کہیں درباری تو کہیں یہ نورے کہلاتے ہیں۔ ہر حکمران نواب یا سردار کا کوئی نہ کوئی نورا ہوتا ہے۔ نورا مخلص اور خیر خواہ ہو تو نورا حکمران کی آنکھ کان اور ذہین بن کر کام آتا ہے اورسردار جہاں بھی ہو نورے کی نظر کے ذریعے سردار ہر جگہ ہو تا ہے۔ اور اگر نورا و ترجمان مفاد پرست اور چاپلوس ہو تو ایسے نورے حکمرانوں کو اندھا بنا کر حکمرانوں کی بربادی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ عموماً نالالق حکمران چاپلوس نوروں پر اندھا اعتماد کرکے اپنی بربادی کرتے ہیں نورے حکمرانوں کی مجبوری ہوتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے بھی کچھ نورے ضرور ہوں گے۔ عموماًچاپلوس نورے حکمرانوں کے ذہنوں پر سوار ہو جاتے ہیں۔ جو حکمرانوں کی اس قدر چاپلوسی کرتے ہیں۔ اور حکمران ایسے نوروں کو بچوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔ بلکہ یہ چاپلوس نورے حکمرانوں پر اتنے حاوی ہو جاتے ہیں کہ اس قدر وفاداری دکھاتے ہیں کہ حکمران ان کی ہربات کو اپنا فرمان کہتے ہیں ۔ موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوئی زیادہ ذہین فطین آدمی نہ ہیں ۔مگر انہیں اچھا انسان تسلیم نہ کرنا کم ظرفی سے کم نہ ہوگا۔ باقی انسانوں کی طرح ان کے اندر صفات بھی ہیں اور برائیاں بھی ان میں ہوں گی ۔کوئی ان کو جھوٹا کہیے یا کرپٹ کوئی ان کو چور کہیے یا بددیانت !کوئی ان کو ٹیکس چور کہے یا کوئی ان پر کک بیک لینے کے الزامات لگائے یہ الزامات کسی پرلگ سکتے ہیں سیاستدانوں کے نورے اپنے اپنے بڑوں سے کو مخالفین پر ملک دشمن جیسے الزامات لگوادیتے ہیں حالانکہ عموماً ملکوںں کے سربراہ ملک اور قوم دشمن نہیں ہو سکتے یہ ممکن ہے کہ جیسے امریکہ نے مصر ۔ عراق۔افغانستان میں اپنے اپنے ایجنٹوں کو حکمران بنا رکھا ہے ۔ ان ممالک کے حکمران امریکہ نے نورے کا کردار اداکررہے ہیں۔ یہ نورے حکمران نہ کسی ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ کسی قوم کے رکن ہوتے ہیں۔ ملک پاکستان میں آئندہ حکومت میاں نواز شریف کی بنے یا عمران خان کی ان کو نوروں کے انتخاب میں عقل مندی سے کام لینا ہوگا! آج جو حال وزیراعظم میان نواز شریف کا ہو رہا ہے آج جس طرح وزیراعظم سولی پر لٹکاہو اہے آج جس طرح شریف فیملی کا احتساب ہو رہا ہے اس سب کے ذمہ دار نورے ہیں نوروں نے میاں نواز شریف کو یر غمال بنا رکھا ہے اور جلد میاں صاحب اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ اگر عمران خان کو میاں نواز شریف کی طرح قوم کی خدمت کا موقعہ ملے تو ان کو اول اپنی عقل کو استعمال کرنا ہوگا دوئم نوروں کے انتخاب کیلئے کوئی کمیٹی بنا نا ہوگی! تاکہ ایسے نورے عمران خان کے اس پاس جو ملک وملت کے وفادار ہوں جو عوام کی خدمت کی رہنمائی کریں جو مسائل کے حل کی راہ رکھاہے جو ملک اور قوم کے مفادات کی پالیسوں کی رہنمائی کرے۔جو ملک کی تعمیرو ترقی کی منصوبہ پیش کریں اور کیونکہ پاکستان و ہ ملک ہے جس میں رب کریم کی تمام نعمتیں وافرمقدار میں جب بھی حکمرانوں نے نوروں کے انتخاب میں عقل مندی کا ثبوت دیا تو نہ صرف حکمرن باعزت رہیں گے بلکہ عوام اور قوم کے وقار میں اضافہ ہوگا۔